دہشت گردی کی جس أگ میں پاکستان آج جل رہا ہے اسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے کسی پیارے کو دہشت گردی کے ہاتھوں کھویا ہو وہ ماں سمجھ سکتی ہے جس کا بیٹا وردی پہن کر گھر سے نکلا اور پھر کبھی واپس نہ آیا وہ باپ سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھایا اور وہ پاکستانی سمجھ سکتا ہے جس نے برسوں سے اپنے ملک میں دھماکوں فائرنگ اور دہشت گردی کا خوف اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے یہ کوئی معمولی جنگ نہیں ہے یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ سفارتی ایوانوں میں بھی لڑی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے ایوانوں میں بھی لڑی جا رہی ہے عالمی طاقتوں کے دارالحکومتوں میں بھی لڑی جا رہی ہے اور دنیا کو یہ سمجھانے کی جنگ بھی لڑی جا رہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا پیدا کرنے والا نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا شکار ہے اسی تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کو دیکھنے کی ضرورت ہے اس ملاقات میں پاکستان کی سلامتی عالمی اور علاقائی صورتحال دہشت گردی اور اقوام متحدہ کے امن مشنز سمیت اہم معاملات زیر بحث آئے محسن نقوی نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خطرے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا اور یہ مؤقف سامنے رکھا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ کوشش کرنا ہوگی یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی یہ پاکستان کے اس مقدمے کی آواز تھی جو برسوں سے دہشت گردی کی قیمت ادا کر رہا ہے یہ اس پاکستان کی آواز تھی جس کے فوجی جوان شہید ہوئے جس کے پولیس اہلکار شہید ہوئے جس کے شہری بازاروں مسجدوں اسکولوں سڑکوں اور عبادت گاہوں میں دہشت گردی کا نشانہ بنے یہ اس قوم کی آواز تھی جس نے دنیا کے امن کے لیے بھی اپنے سپوت قربان کیے پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اپنے اہلکار بھیجے پاکستانی اہلکار دنیا کے مختلف خطوں میں امن کے قیام کے لیے خدمات انجام دیتے رہے اور ان مشنز میں پاکستان نے اپنے 181 اہلکاروں کی جانوں کی قربانی دی جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پاکستان کے امن مشنز میں کردار کو سراہتے ہیں تو یہ صرف حکومت پاکستان کی تعریف نہیں بلکہ ان تمام پاکستانی خاندانوں کی قربانیوں کا اعتراف ہے جن کے بیٹے عالمی امن کے لیے جان دے گئے محسن نقوی نے اس ملاقات میں پاکستان کا مقدمہ جس انداز میں پیش کیا اس کی اہمیت اسی لیے زیادہ ہے کہ آج پاکستان کو صرف ہمدردی نہیں چاہیے پاکستان کو دنیا سے عملی تعاون چاہیے پاکستان کو یہ چاہیے کہ دنیا دہشت گردی کے ان نیٹ ورکس کو سمجھے جو سرحدوں کے پار سے پاکستان کے لیے خطرہ بن رہے ہیں پاکستان یہ چاہتا ہے کہ عالمی طاقتیں صرف دہشت گردی کے واقعے کے بعد مذمت نہ کریں بلکہ اس دہشت گردی کے مراکز سہولت کاروں مالی ذرائع اور سرحد پار موجود نیٹ ورکس کے خلاف بھی مؤثر اقدامات کریں
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام اس درد سے گزر رہے ہیں ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور عام شہری دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود بعض مسلح گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں یہ وہ معاملہ ہے جس پر پاکستان کو دنیا کے سامنے مسلسل اپنا مقدمہ پیش کرنا ہے اور اس مقدمے کو جذبات کے ساتھ ساتھ ثبوت دلیل اور سفارتی قوت کی بھی ضرورت ہے
محسن نقوی کی سفارتی سرگرمیوں کا دائرہ صرف اقوام متحدہ تک محدود نہیں رہا ایران امریکہ کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے رابطے اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا محسن نقوی نے ایران کے ساتھ براہ راست رابطے کیے اور ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں کشیدگی کم کرنے اور رابطے برقرار رکھنے کی کوششوں میں حصہ لیا ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی جنگ اور کشیدگی کے خطرات میں گھرا ہوا تھا پاکستان کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ رابطے بھی قائم رکھے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے سفارتی روابط بھی استعمال کرے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں وزیر داخلہ کا کردار صرف وزارت داخلہ کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا جب خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہو جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے اثرات پورے خطے کو متاثر کر رہے ہوں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پاکستان کے لیے براہ راست سلامتی اور معاشی خطرات پیدا کر سکتی ہو جب افغانستان کا مسئلہ پاکستان کی داخلی سلامتی سے جڑ چکا ہو تو پاکستان کے ہر اہم سفارتی رابطے کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے محسن نقوی نے ان حالات میں مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی ایران کے ساتھ بات کی امریکہ کے ساتھ رابطے کیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار کے سامنے پاکستان کا مقدمہ رکھا اور افغانستان سے جڑے دہشت گردی کے خطرے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا یہ تمام اقدامات اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کا جائزہ سیاسی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہو کر ہونا چاہیے
محسن نقوی پر تنقید کرنے والوں کا حق اپنی جگہ موجود ہے جمہوریت میں کسی حکومتی عہدیدار سے سوال کرنا ہر شہری اور ہر صحافی کا حق ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر تنقید کے پیچھے دلیل بھی ہے کیا ہر الزام کے ساتھ ثبوت بھی ہے کیا ہر اعتراض کسی حقیقی پالیسی اختلاف کی بنیاد پر ہے یا بعض اوقات سیاسی وابستگی اختلاف کو ذاتی مخالفت میں تبدیل کر دیتی ہے۔
اگر کسی کو محسن نقوی کی کارکردگی پر اعتراض ہے تو اسے ضرور اعتراض کرنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کن عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں کن حساس معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا کس طرح ایران کے ساتھ رابطے قائم کیے کس طرح امریکہ کے ساتھ پاکستان کے سکیورٹی خدشات اٹھائے اور کس طرح اقوام متحدہ کے سامنے دہشت گردی اور پاکستان کی قربانیوں کا مقدمہ رکھا
پاکستان کو آج شخصیت پرستی کی نہیں بلکہ قومی مفاد کی ضرورت ہے اگر کوئی شخص پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پر لے کر جاتا ہے تو ہمیں اس کے اقدامات کو دیکھنا چاہیے اگر کوئی شخص دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کتنی قربانیاں دے چکا ہے تو ہمیں اس آواز کو سننا چاہیے اگر کوئی شخص عالمی طاقتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ پاکستان کے امن کو درپیش خطرات صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کا مسئلہ ہیں تو اس کوشش کا جائزہ سیاسی چشمے سے نہیں بلکہ قومی مفاد کے چشمے سے ہونا چاہیے آج پاکستان کو ایسے ہی سفارتی محاذ کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف گولی سے نہیں جیتی جا سکتی اس جنگ میں سفارت کاری بھی ہتھیار ہے دلیل بھی ہتھیار ہے ثبوت بھی ہتھیار ہے عالمی حمایت بھی ہتھیار ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے مسلسل اور مؤثر انداز میں پیش کرنا بھی ایک قومی ذمہ داری ہے محسن نقوی کی حالیہ سرگرمیوں کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ان کی ہر کوشش کامیاب ہوئی یا نہیں ہر سفارتی رابطے کا نتیجہ کتنا نکلا اور مستقبل میں ان کوششوں سے پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہوگا یہ سب سوال اپنی جگہ اہم ہیں مگر ایک بات بہرحال واضح ہے کہ پاکستان کا مقدمہ خاموش رہ کر نہیں جیتا جا سکتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی آواز واشنگٹن سے تہران تک کابل سے نیویارک تک اور دنیا کے ہر اہم دارالحکومت تک پہنچے دنیا کو بتایا جائے کہ یہ وہ ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار جانیں قربان کی ہیں یہ وہ ملک ہے جس کے سپاہی دنیا کے امن کے لیے بھی شہید ہوئے ہیں یہ وہ ملک ہے جس کے شہری آج بھی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں
اور اگر محسن نقوی اس وقت دنیا کے سامنے پاکستان کا یہی مقدمہ لے کر کھڑے ہیں تو ان کی اس سفارتی کوشش کو سیاسی چشمے سے دیکھنے کے بجائے قومی مفاد کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ آخرکار یہ محسن نقوی کا مقدمہ نہیں ہے یہ پاکستان کا مقدمہ ہے اور پاکستان کا مقدمہ جیتنا کسی ایک وزیر کی کامیابی نہیں ہوگا یہ ان شہیدوں کی کامیابی ہوگی جنہوں نے اس وطن کے لیے اپنا خون دیا یہ ان ماؤں کی کامیابی ہوگی جنہوں نے اپنے بیٹے کھوئے یہ ان بچوں کی کامیابی ہوگی جنہوں نے اپنے باپوں کو پرچم میں لپٹا ہوا دیکھا اور یہ اس قوم کی کامیابی ہوگی جو آج بھی دہشت گردی کے اندھیروں کے باوجود اپنے وطن کے روشن مستقبل کی امید اپنے سینے میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔
محسن نقوی اور پاکستان کا مقدمہ



