ماسکو/واشنگٹن (شِنہوا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں یوکرین بحران کے حل کے امکانات پر خصوصی توجہ دی گئی۔
کریملن کے مطابق عالمی توانائی کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے روس نے امریکی اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا۔
پوتن نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس سے پوری عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
بات چیت میں ایران کی صورت حال اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں صدور کے درمیان براہ راست رابطے برقرار رکھنے اور اپنی اپنی حکومتوں، انٹیلی جنس اداروں اور دیگر محکموں کے درمیان تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے ٹیلی فونک رابطے کی تصدیق کی۔
ٹرمپ نے لکھا کہ میں نے ابھی روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ انتہائی کامیاب بات چیت کی ہے۔ اس دوران اتفاق کیا گیا کہ روس فوری طور پر امریکی اور عالمی منڈیوں کے لئے 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے فوراً بعد 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ڈیزل ریفائنریوں کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے روس مختصر مدت میں مزید 30لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔
ٹرمپ نے اعتماد ظاہر کیا کہ ڈیزل فراہمی سے عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی لانے میں مدد ملے گی۔
ٹیلی فونک رابطے کے بعد روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ روس مقررہ وقت سے پہلے ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندیاں ختم کرنا شروع کر دے گا۔
نوواک نے کہا کہ روس امریکی منڈی اور دیگر شراکت داروں کو مزید ڈیزل فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔
صدر پوتن اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون رابطہ، یوکرین بحران اور توانائی کی فراہمی پر تبادلہ خیال



