بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ کی اہلیہ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی جانب سے لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لئے خصوصی ایلچی پھنگ لی یوآن نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ خواتین کے لئے ڈیجیٹل اور ذہین تعلیم کو بھرپور انداز میں فروغ دیا جائے تاکہ وہ ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے فائدہ بھی اٹھا سکیں۔
پھنگ لی یوآن نے یہ بات پیرس میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لئے یونیسکو کے 2026 کے ایوارڈ کی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اب بھی ایک بڑا اور مشکل کام باقی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خواتین کی پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کو بہتر بنانے کے لئے مشترکہ کوششیں کرے اور ان کے لئے روشن مستقبل کی جانب بڑھنے کی راہ ہموار کرے۔
پھنگ لی یوآن نے مراکش اور پیرو سے تعلق رکھنے والی رواں سال کی انعام یافتگان کو دلی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم انسانی تہذیب کی ترقی کو جانچنے کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران یونیسکو کی بھرپور کوششوں اور عالمی برادری کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں اس اہم شعبے میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔
پھنگ لی یوآن نے کہا کہ چین نے ہمیشہ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کو بہت اہمیت دی ہے اور وہ ملک میں خواتین کو بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں بامقصد زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لئے پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس کے ساتھ ساتھ ہم یونیسکو اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ فعال طور پر وسیع عملی تعاون بھی کر رہے ہیں اور متعدد پروگراموں پر عملدرآمد کیا ہے، جن سے دنیا بھر کی خواتین مستفید ہوئی ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں چین کی گزشتہ برسوں کی کوششوں نے نہ صرف تعلیم میں صنفی مساوات اور خواتین کی ہمہ جہت ترقی کو فروغ دیا ہے بلکہ گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک کو بھی مفید تجربات فراہم کئے ہیں۔
پھنگ لی یوآن نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کو آگے بڑھانے سے امید کے بیج بوئے جاتے ہیں، خواب پروان چڑھتے ہیں اور خوشیوں کی فراوانی نصیب ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، کہ’’لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لئے یونیسکو کا ایوارڈ جب اپنی دوسری دہائی میں داخل ہو رہا ہے تو میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم میں مزید پیش رفت کے لئے آپ سب کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ایسے روشن مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوں، جہاں زیادہ خواتین ترقی کر سکیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔‘‘
چین اور یونیسکو کے تعاون سے 2015 میں اس ایوارڈ کے اجرا کے بعد سے یہ عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے اور اسے عالمی برادری کی جانب سے بھرپور توجہ اور وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
خواتین کی ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجی تک رسائی کے لئے تعلیم کو فروغ دیا جائے، پھنگ لی یوآن کا عالمی برادری پر زور



