ہائیکو (شِنہوا) چینی محققین نے دنیا کا پہلا سہ جہتی خلیاتی نقشہ تیار کر لیا ہے، جس میں چاول کے پودے کی مکمل نشوونما کے دوران خلیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
بین الاقوامی جریدے ’سیل‘ میں آن لائن شائع ہونے والی یہ اہم تحقیق اس بات کے مشاہدے اور سمجھنے میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹوں کو دور کرتی ہے کہ چاول کے خلیے کس طرح نشوونما پاتے، تقسیم ہوتے اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے فصل کی تشکیل کرتے ہیں۔
چین کے جنوبی صوبے ہائی نان میں قائم یاژو وان نیشنل لیبارٹری کی قیادت میں چینی بائیوٹیک کمپنی بی جی آئی-ریسرچ اور ہواژونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی سمیت 12 تحقیقی اداروں کے اتحاد نے ایک سہ جہتی خلیاتی نقشہ تیار کیا ہے جو چاول کے بیج کے اگنے سے لے کر پھول آنے اور دانہ بھرنے تک کے پورے سفر کا احاطہ کرتا ہے۔ ٹیم کے مطابق یہ تحقیقی وسیلہ مستقبل میں چاول کے دانے کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔
سائنس دانوں نے وسیع پیمانے پر کاشت کی جانے والی جاپونیکا چاول کی قسم ’ژونگ ہوا 11‘ کو تحقیق کا موضوع بناتے ہوئے اپنی تیار کردہ سپیشل اومکس، سنگل سیل اومکس اور ہائی تھروپٹ سیکوینسنگ ٹیکنالوجیز کو یکجا کیا تاکہ چاول کا ایک جامع خلیاتی نقشہ تیار کیا جا سکے۔
اس خاکے میں چاول کے 10 اقسام کے اعضاء اور بافتوں اور نشوونما کے 61 مسلسل مراحل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ 8 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ اعلیٰ معیار کے سنگل نیوکلیئس ڈیٹا سیٹس اور 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد مقامی ڈیٹا اکائیوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ ٹیم نے 119 اقسام کے خلیوں اور 133 ذیلی اقسام کے خلیوں کی درست شناخت اور درجہ بندی کی اور کامیابی سے ہر خلیے کی مالیکیولر خصوصیات کو اس کے مکانی مقام اور نشوونما کے مختلف مراحل میں ہونے والی متحرک تبدیلیوں سے مربوط کیا۔
یہ اعلیٰ ریزولوشن نقشہ محققین کو بصری اور منظم انداز میں یہ مشاہدہ کرنے کے قابل بناتا ہے کہ چاول کے مختلف خلیے کس طرح باہمی تعاون اور اپنے طور پر منظم ہونے کے ذریعے ایک مکمل پودا تشکیل دیتے ہیں۔ یہ چاول کی نشوونما کے بنیادی طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے ایک بے مثال ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
چینی سائنس دانوں نے چاول کے مکمل دورہ حیات کا خلیوں کا تفصیلی نقشہ تیار کر لیا



