بیجنگ (شِنہوا) چین میں 2026 کے دوران ایکسپریس ڈیلیوری پارسلز کی تعداد 29 ستمبر تک 150 ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔ ریاستی محکمہ ڈاک کے مطابق یہ سنگ میل 2025 کے مقابلے میں 12 دن پہلے حاصل کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پارسلز کی ترسیل کی رفتار میں یہ تیزی چین کی معیشت کی لچک اور متحرک پن کو ظاہر کرتی ہے۔
چین کا ایکسپریس ڈیلیوری شعبہ کئی برسوں سے دو ہندسوں کی شرح سے ترقی کر رہا ہے اور مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ 2025 میں ملک میں 198.95 ارب پارسلز کی ترسیل کی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.6 فیصد زیادہ تھی۔
یہ رفتار 2026 میں بھی برقرار ہے۔ مستحکم چینی معیشت اعلیٰ معیار کی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں صارفین کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ایکسپریس ڈیلیوری مارکیٹ کی توسیع کے لئے مضبوط بنیاد فراہم ہوئی ہے۔
چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی صارف منڈی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں اشیاء اور خدمات کی مجموعی پرچون فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.5 فیصد بڑھی جو ملک میں صارفین کی کھپت کی طاقت کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ اسی عرصے میں اشیاء اور خدمات کی آن لائن ریٹیل فروخت تقریباً 134.8 کھرب یوآن (تقریباً 20 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی جو 4.6 فیصد زیادہ ہے۔
قومی ادارہ شماریات کے ترجمان فو لنگ ہوئی نے کہا کہ صارف منڈی نہ صرف حجم کے لحاظ سے بڑھ رہی ہے بلکہ اس میں تبدیلی بھی آ رہی ہے۔ یہ تبدیلی بنیادی طور پر صارف اخراجات کے ڈھانچے اور خریداری کے طریقوں میں بتدریج تبدیلی کی صورت میں نظر آ رہی ہے۔
سمارٹ اور ماحول دوست مصنوعات مارکیٹ میں نمایاں شعبوں کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ پہننے کے قابل ٹیکنالوجی کے آلات اور زیادہ توانائی بچانے والے گھریلو آلات تیزی سے ترقی کرنے والی مصنوعات میں شامل ہیں۔
چین میں ستمبر کے اواخر تک ایکسپریس ڈیلیوری پارسلز کی تعداد 150 ارب سے تجاوز کر گئی



