بیجنگ (شِنہوا) چین 2028 کے اختتام تک مریخ کا جدید ارضیاتی نقشہ مکمل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس کا مقصد سرخ سیارے کے آبی ماضی کی ازسرنو تشکیل اور مریخ کے ارضیاتی ادوار کی تقسیم کے لئے چینی نظام متعارف کرانا ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر تعلیم اور تیان وین-3 مریخ سے نمونے واپس لانے کے مشن کے چیف سائنس دان ہو زنگ چھیان نے چائنیز اکیڈمی آف جیولوجیکل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجی میں منعقدہ ایک سیمپوزیم کے دوران اس منصوبے کا انکشاف کیا۔
چین کی جانب سے 2021 میں تیان وین-1 مشن کے تحت مریخ پر اتاری گئی خلائی گاڑی ژو رونگ نے مریخ کی آبی تاریخ کے بارے میں نئے شواہد فراہم کئے ہیں۔ ان شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 3.5 ارب سال پہلے بھی مریخ پر ایک وسیع قدیم سمندر موجود تھا جبکہ ممکنہ طور پر 1.6 ارب سال پہلے قلیل مدتی سیلاب بھی آئے تھے۔ یہ دریافتیں مریخ کی قدیم آب و ہوا کے ارتقا کے بارے میں شواہد کے سلسلے میں موجود خلا کو پر کرنے میں مدد دیتی ہیں اور انہیں نئے نقشے میں شامل کیا جائے گا۔
اسی بنیاد پر نیا نقشہ مریخ کے ارضیاتی ادوار کی تقسیم کے لئے چین کا ایک نیا نظام پیش کرے گا۔ موجودہ نظام مریخ کے ارضیاتی دور کو نواچھیان، ہیسپیرین اور ایمیزونین ادوار میں تقسیم کرتا ہے جن کا تعین قطعی تاریخوں کے بجائے سطح پر دکھائی دینے والے گڑھوں کی کثافت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ہو کے مطابق چین کا مقصد اپنے نئے نظام کو بین الاقوامی اتفاق رائے کا حصہ بنانا ہے۔
اس منصوبے میں بنیادی طور پر تیان وین-1 سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کیا جائے گا جبکہ امریکی اور یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے مریخ کے تحقیقاتی مشنز سے حاصل کردہ ڈیٹا بھی معاونت کے لئے شامل کیا جائے گا جس سے مدار اور سطح سے حاصل شدہ معلومات کو یکجا کرنا ممکن ہوگا۔ تصاویر، سپیکٹرل ڈیٹا، ریڈار، کشش ثقل اور مقناطیسی پیمائشوں کو یکجا کرکے ایک عالمی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جس میں مریخ کے متعدد طبعی میدانوں کو باہم مربوط کیا جائے گا۔
ان اعداد و شمار کی تشریح میں مصنوعی ذہانت مرکزی کردار ادا کرے گی۔ ماہرین ارضیات کی مہارت کو قواعدی نظام کے ذریعے بڑے ماڈلز میں شامل کیا جائے گا تاکہ نتائج قابل وضاحت رہیں، جبکہ مختلف پیمانوں پر توجہ مرکوز کرنے والی تکنیکوں کے ذریعے مقامی معدنیات کی شناخت سے لے کر عالمی سطح پر ٹیکٹونک اکائیوں کی تقسیم تک مرحلہ وار خصوصیات اخذ کی جائیں گی۔
چین 2028 کے اختتام تک مریخ کا جدید ارضیاتی نقشہ مکمل کرلے گا



