اقوام متحدہ (شِنہوا) ایک چینی مندوب نے کہا کہ فلپائن کو کثیرجہتی فورمز پر جنوبی بحیرہ چین کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بند کرنا چاہیے اور اس کے بجائے دو طرفہ مذاکرات کی جانب واپس آنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے عمومی بحث میں جواب دینے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے کہا کہ ہفتے کے روز مباحثے میں فلپائن کی جانب سے دیئے گئے بیان کے حوالے سے چین کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ اقوام متحدہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے پر بحث کے لئے مناسب فورم نہیں ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ چین فلپائن کے متعلقہ غلط دعوؤں پر باقاعدہ اور واضح جواب دینا ضروری سمجھتا ہے۔
سن نے کہا کہ نام نہاد ’’جنوبی بحیرہ چین ثالثی مقدمے‘‘ کے بارے میں چین کا موقف مستقل اور واضح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلپائن کی جانب سے یکطرفہ طور پر ثالثی کا آغاز ریاستی رضامندی اور معاہدوں کی پاسداری سمیت بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قانون سے بھی متصادم ہے۔
سن نے کہا کہ ’’ثالثی ٹریبونل‘‘ نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا اور اپنے دائرہ اختیار کا غلط استعمال کیا۔ ان کے مطابق اس کی جانب سے جاری کیا گیا نام نہاد ’’فیصلہ‘‘ غیر قانونی، کالعدم اور بے اثر ہے۔ سن نے کہا کہ چین اس فیصلے کو نہ تو قبول کرتا ہے اور نہ ہی تسلیم کرتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے کسی بھی دعوے یا اقدام کی مخالفت کرتا ہے اور اسے کبھی قبول نہیں کرے گا۔
سن نے کہا کہ یہ موقف چین کے اپنے علاقائی اور بحری حقوق و مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بحری قانون کی حکمرانی اور ایک منصفانہ و مساوی بین الاقوامی بحری نظام کے دفاع کے لئے بھی ہے۔
جنوبی بحیرہ چین کے معاملے کو مختلف فورمز پر بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بند کریں، چین کا فلپائن کو انتباہ



