گوانگ ژو (شِنہوا) چین کی وزارت قدرتی وسائل نے بتایا ہے کہ سمندری کھدائی کے چینی بحری جہاز مینگ شیانگ، جس کا مطلب خواب ہے، نے جنوبی بحیرہ چین کے طاس سے باسالٹ کے نمونے حاصل کرنے کے بعد گہرے سمندر میں کھدائی کا ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا جس سے اس کی صلاحیت 5 ہزار میٹر کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت کے مطابق اس سنگ میل سے چین کی گہرے سمندر میں کھدائی کی عملی صلاحیت عالمی سطح پر صف اول میں شامل ہو گئی ہے۔
اس سمندری سفر کے دوران اپنی تیار کردہ ڈرل کے ذریعے 4.27 میٹر طویل باسالٹ کا نمونہ نکالا گیا جس کے ساتھ ہی چین امریکہ اور جاپان کے بعد ڈرلنگ جہاز استعمال کرتے ہوئے گہرے سمندر کے طاس سے سخت چٹانوں کے نمونے حاصل کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے۔
چین کے جنوبی علاقے میں گوانگ ژو میرین جیولوجیکل سروے (جی ایم جی ایس) کے محقق سن ژین نے بتایا کہ تحقیقی ٹیم نے جہاز پر نصب ریموٹ سے چلنے والی گاڑیوں (آر او ویز) کا طویل المدتی اور انتہائی سخت آپریشن کیا جس میں 4 ہزار میٹر گہرائی میں مجموعی طور پر 358 گھنٹوں سے زائد وقت تک دو آر او ویز استعمال کی گئیں جبکہ ایک مسلسل کارروائی 103 گھنٹوں تک جاری رہی جو بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ ترین کارکردگی کی عکاس ہے۔
محققین نے پہلی بار بین الاقوامی بحری ڈسکوری پروگرام کے معیار کی پیروی کرتے ہوئے نمونوں کی موقع پر ملٹی پیرامیٹر پروسیسنگ اور تجزیہ بھی مکمل کیا جن میں کیٹلاگنگ، کٹنگ، سکیننگ، ٹیسٹنگ اور ذخیرہ کرنا شامل ہیں، یوں الٹرا ڈیپ واٹر اوشین سائنسی ڈرلنگ کے لئے پورے عمل کی عملی صلاحیتوں میں مہارت حاصل کر لی گئی ہے۔
محققین نے نشاندہی کی کہ اس عمل کے دوران حاصل ہونے والے نمونے اور اعداد و شمار جنوبی بحیرہ چین کی توسیع جیسے بنیادی سائنسی مسائل حل کرنے کے لئے اہم تجرباتی شواہد فراہم کرتے ہیں۔ یہ اس سمندر میں قدیم سمندری ماحول کے ارتقا کے مطالعے اور انتہائی گہرے پانی میں توانائی کے وسائل کی تلاش اور ترقی کے لئے بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
یہ سمندری سفر چائنہ جیولوجیکل سروے کے زیر اہتمام کیا گیا تھا اور اس پر عملدرآمد جی ایم جی ایس نے کیا جبکہ 9 اداروں کے کل 170 محققین شریک تھے۔
چین کا پہلا ملکی ساختہ سمندری ڈرلنگ جہاز مینگ شیانگ باضابطہ طور پر 2024 میں فعال کیا گیا تھا۔
چین کی گہرے سمندر میں کھدائی کی صلاحیت 5 ہزار میٹر سطح تک پہنچ گئی



