سان فرانسسکو (شِنہوا)سلیکون ویلی میں قائم سٹارٹ اپ انکیوبیٹر فاؤنڈرز اسپیس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیو ہوف مین نے چین۔امریکہ اقتصادی و تجارتی تعاون کے امکانات کے حوالے سے اپنی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں معیشتوں کی ایک دوسرے کے لئے مفید صلاحیتیں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں وسیع تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں ہوف مین نے کہا کہ انہیں خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کے بہت زیادہ امکانات نظر آتے ہیں۔
چینی صدر شی جن پھنگ کے حالیہ دورہ امریکہ میں دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات اور فوائد پر خیالات کے تبادلے کے لئے چین۔امریکہ اے آئی مکالمہ قائم کرنے پر اتفاق کیا، جس کا اگلا دور نومبر میں منعقد ہوگا۔ اے آئی سے متعلق واقعات کے بارے میں رابطے کا ایک نظام بھی قائم کیا جائے گا۔
ہوف مین نے کہا کہ “فاؤنڈرز اسپیس کے سی ای او اور اے آئی کے شعبے سے گہرا تعلق رکھنے والے فرد کی حیثیت سے میں صدر شی جن پھنگ کے دورے کو آگے بڑھنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھتا ہوں۔ مجھے اس بات سے حوصلہ ملا کہ اے آئی پر صدارتی سطح پر تبادلہ خیال کیا گیا۔”
انہوں نے کہا کہ “فاؤنڈرز اسپیس میں میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ سرحد پار تعاون ہی سب سے زیادہ دور رس تبدیلیاں لانے والی پیش رفت کا محرک بنتا ہے اور اے آئی کے شعبے میں امریکہ اور چین کے درمیان ہونے والی پیش رفت ایک اہم قدم ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “اعلیٰ درجے کے خطرات سے نمٹنے کے لئے باضابطہ چینلز کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اے آئی کی سلامتی کو کسی کے نقصان کے بدلے اپنے فائدے کے بجائے ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔”
ہوف مین نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت لازماً تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک اے آئی کی سلامتی، سائنسی تحقیق، اوپن سورس اے آئی اور اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال جیسے شعبوں میں مل کر کام کر سکتے ہیں۔
ہوف مین نے کہا کہ “ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں امریکہ اور چین کا اہم کردار ہوگا، اس لئے مسلسل مکالمہ اور تعاون ضروری ہے۔”
چین۔امریکہ اختراعی تعاون مشترکہ مواقع پیدا کر رہا ہے، کاروباری رہنما سلیکون ویلی



