بیجنگ (شِنہوا) دنیا بھر کے مبصرین کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان مستحکم تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہیں اور عالمی تجارت کے لئے زیادہ یقینی ماحول فراہم کرتے ہیں۔
چینی صدر شی جن پھنگ کے حالیہ سرکاری دورہ امریکہ سے احترام، انصاف اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعمیری اور تزویراتی طور پر مستحکم چین۔امریکہ تعلقات کے قیام کی جانب نئی پیش رفت ہوئی ہے۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران شی جن پھنگ نے تعمیری اور تزویراتی طور پر مستحکم چین۔امریکہ تعلقات کے نئے تصور کو عملی جامہ پہنانے اور دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے کے لئے درست راستہ تلاش کرنے پر زور دیا۔
ایشیا بحرالکاہل کے لئے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کاکس کے صدر اونگ ٹی کیٹ نے کہا کہ یہ عالمی برادری کی امن و استحکام کی خواہش کے عین مطابق ہے کیونکہ مستحکم چین۔امریکہ تعلقات عالمی امن اور استحکام کو مضبوط بنانے میں مدد دیں گے۔ اس سے یہ بات بھی غلط ثابت ہوگی کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی ناگزیر ہے۔
ملائیشین سکالر نے کہا کہ وقتاً فوقتاً دونوں بڑی طاقتوں پر یہ حقیقت واضح ہوتی رہی ہے کہ موجودہ حالات میں انہیں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا اس لئے پرامن بقائے باہمی وہ مشترکہ اصول ہے جسے دونوں ممالک کو اہمیت دینی چاہیے۔
ملائیشیا کے تھنک ٹینک نوسانتارا اکیڈمی فار سٹریٹجک ریسرچ کے سینئر فیلو عظمی حسن نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان اچھے تعلقات سے نہ صرف دونوں بڑی طاقتوں بلکہ پوری دنیا کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فائدہ صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی معاملات میں بھی ہے جہاں دونوں فریق اور پوری دنیا اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ورلڈ فوڈ پرائز فاؤنڈیشن کے اعزازی صدر اور کمبوڈیا میں سابق امریکی سفیر کینتھ کوئن نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ امریکہ اور چین ایک دوسرے کے مخالفین بننے کے بجائے شراکت داروں کی حیثیت سے مثبت سمت میں آگے بڑھیں۔
84 سالہ کوئن کئی دہائیوں سے امریکی ریاست آئیووا اور چین کے درمیان روابط کے فروغ میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا “اول مقصد” یہ ہے کہ چین۔امریکہ تعلقات “تعمیری تزویراتی استحکام” کی راہ پر گامزن رہیں اور ان میں اتار چڑھاؤ، غیر یقینی صورتحال اور ٹیرف میں بڑے اضافے یا مجوزہ ٹیرف جیسے حالات پیدا نہ ہوں۔
آسٹریلیا میں سینوگی کنسلٹنگ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بروس میک لافلن نے کہا کہ صدر شی بالکل درست کہتے ہیں کہ چین۔امریکہ تعلقات کو مستحکم کرنا انتہائی اہم ہے۔ ایک تعمیری تعلق قائم کرنا اس سے بھی بہتر ہوگا۔
میک لافلن نے کہا کہ دونوں فریق ایسے تعمیری، مستحکم اور منظم تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید اضافے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہاں اہم بات یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ تجارت کو یکطرفہ فائدے کے طور پر دیکھنا بند کرے اور اس کے بجائے یہ تسلیم کرے کہ باہمی فائدے کے لئے مل کر کام کرنا ممکن ہے۔
آسٹریلیا چائنہ بزنس کونسل کے قومی صدر رائس رابرٹس نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کا براہ راست ملاقات اور بات چیت کرنا دنیا بھر کے کاروباری حلقوں کے لئے خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری دنیا کے لئے سب سے اہم چیز استحکام اور مستقبل کے حالات کا واضح ہونا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہنماؤں کی سطح پر کئے گئے وعدے اسی وقت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جب وہ مستقل اور عملی انتظامات کی صورت میں سامنے آئیں جن کی بنیاد پر کمپنیاں مستقبل کی منصوبہ بندی کرسکیں۔ کاروباری دنیا کی نظریں اسی پہلو پر ہوں گی۔
چین اور امریکہ کے درمیان مستحکم تعلقات دنیا کے لئے مفید اور عالمی تجارت کے مسلسل فروغ کی بنیاد ہیں، مبصرین



