ٹرم کا جنگی جنون اور امن کا جنازہ

پوری دنیا اس وقت جس بے یقینی خوف اور جنگی خطرے کے سائے میں کھڑی ہے اس کے پیچھے صرف چند ممالک کے باہمی اختلافات نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کی وہ خارجہ پالیسیاں بھی ہیں جنہوں نے سفارت کاری کو دھمکی میں اور مذاکرات کو دباؤ میں تبدیل کر دیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد جس انداز کی جارحانہ زبان اختیار کی ہے جس طرح معاشی طاقت کو سیاسی ہتھیار بنایا ہے اور جس طرح مختلف عالمی تنازعات میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کی ہے اس نے دنیا کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں معمولی سی غلطی بھی ایک بڑے عالمی تصادم کا دروازہ کھول سکتی ہے
ٹرمپ خود کو جنگیں ختم کرنے والا رہنما قرار دیتے رہے ہیں مگر آج دنیا ان کے دعووں اور ان کی عملی پالیسیوں کے درمیان ایک ایسا تضاد دیکھ رہی ہے جس نے امن کے بجائے خوف کو جنم دیا ہے ایران کے خلاف جنگ سے لے کر اسرائیل کے ساتھ امریکی پالیسی تک یمن کے بحران سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات تک اور چین کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی سے لے کر عالمی معیشت پر نئی پابندیوں اور محصولات تک ہر محاذ پر ٹرمپ کی پالیسی نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ واشنگٹن دنیا کو استحکام دینا چاہتا ہے یا امریکی طاقت کے ذریعے پوری دنیا کو اپنی شرائط پر چلانا چاہتا ہے
ایران کے معاملے میں صورت حال سب سے زیادہ خطرناک ہے ٹرمپ نے ایک طرف مذاکرات اور امن کی بات کی دوسری طرف ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا اور اب اقوام متحدہ میں بھی اس جنگ کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اس جنگ نے صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات کو متاثر نہیں کیا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں خطرات کو بڑھا دیا ہے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے خلیج کی سلامتی خطرے میں پڑی ہے اور دنیا اس خدشے سے دوچار ہے کہ کہیں ایک محدود جنگ کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے
ٹرمپ کی پالیسی کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ان کے بیانات اور فیصلوں میں مستقل مزاجی دکھائی نہیں دیتی آج مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو کل دھمکی سامنے آجاتی ہے آج امن کی پیشکش ہوتی ہے تو اگلے لمحے فوجی طاقت کا استعمال شروع ہوجاتا ہے ایران کے بارے میں بھی یہی تضاد دنیا نے دیکھا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مذاکرات پر اعتماد کمزور ہوا ہے جب ایک طرف میز پر بات چیت جاری ہو اور دوسری طرف جنگ کا خطرہ موجود ہو تو سفارت کاری کس طرح اعتماد پیدا کرے گی یہ سوال اب صرف ایران کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا سوال بن چکا ہے
سعودی عرب کے ساتھ امریکی رویہ بھی اسی بدلتی ہوئی پالیسی کی ایک بڑی مثال بن کر سامنے آیا ہے سعودی عرب طویل عرصے سے امریکہ کا اہم اتحادی رہا ہے لیکن یمن کے موجودہ بحران میں واشنگٹن کے رویے نے ریاض میں یہ سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ ضرورت کے وقت امریکہ کس حد تک عملی دفاعی مدد فراہم کرے گا تازہ رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی درخواستوں کے باوجود حوثیوں کے خلاف مسلسل امریکی فضائی کارروائی میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے جبکہ امریکہ اس کے باوجود ہتھیاروں اور انٹیلی جنس تعاون سمیت دفاعی تعلق برقرار رکھے ہوئے ہے
یہی وہ دوہرا پن ہے جو عالمی سیاست کو مزید غیر یقینی بنا رہا ہے ایک طرف امریکہ اپنے اتحادیوں کو دفاعی شراکت داری کا یقین دلاتا ہے دوسری طرف جب عملی آزمائش کا وقت آتا ہے تو واشنگٹن اپنے مفادات اور داخلی سیاسی حساب کتاب کو سامنے رکھ کر اپنے کردار کی شدت کم یا زیادہ کرتا دکھائی دیتا ہے سعودی عرب اور یمن کے معاملے میں بھی یہی صورتحال سامنے آرہی ہے اور اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہ سکتے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی کوئی بھی بڑی جنگ عالمی توانائی تجارت اور پاکستان سمیت پورے خطے کی معیشت کو متاثر کرسکتی ہے
ٹرمپ کی معاشی پالیسی بھی اسی سخت گیر سوچ کی توسیع محسوس ہوتی ہے محصولات کو امریکی صنعت کے تحفظ اور روزگار کے لیے استعمال کرنے کا مؤقف اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس کے اثرات کے بارے میں امریکی اور عالمی معاشی اداروں میں تشویش بھی سامنے آئی ہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے نشاندہی کی ہے کہ امریکی محصولات امریکی پیداوار کو متاثر کرسکتے ہیں اور عالمی پیداوار میں بھی کمی کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ ییل کے معاشی ماہرین کے جائزے کے مطابق محصولات کا بڑا حصہ امریکی درآمد کنندگان کی قیمتوں میں منتقل ہوا
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ نے دوسرے ملکوں پر کتنے محصولات عائد کیے سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی معیشت اپنے ہی شہریوں کے لیے ایک ایسا معاشی ماحول پیدا کرسکتی ہے جس میں اشیا مہنگی ہوں کاروبار غیر یقینی کا شکار ہوں اور عالمی تجارت مسلسل نئے خطرات سے دوچار رہے امریکی حکومت ان پالیسیوں کو امریکی صنعت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے مگر دوسری جانب معاشی مطالعات ان پالیسیوں کے قیمتوں اور پیداوار پر منفی اثرات کی نشاندہی کررہے ہیں
چین کے ساتھ ٹرمپ کی تجارتی جنگ بھی اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے امریکہ خود کو عالمی سپر پاور کی حیثیت سے برقرار رکھنا چاہتا ہے اور چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر کو روکنے کے لیے تجارت صنعت ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے میدان میں دباؤ بڑھا رہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب دو بڑی معیشتیں ایک دوسرے کے خلاف محصولات پابندیاں اور معاشی دباؤ استعمال کرتی ہیں تو نقصان صرف واشنگٹن اور بیجنگ تک محدود نہیں رہتا دنیا کی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے سرمایہ کاری کے فیصلے غیر یقینی کا شکار ہوتے ہیں اور چھوٹی معیشتیں بڑی طاقتوں کی کشمکش کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہوجاتی ہیں
ٹرمپ کی موجودہ سیاست کا سب سے بڑا امتحان اب امریکہ کے اندر بھی شروع ہوچکا ہے کیونکہ امریکی عوام صرف بیرونی جنگوں کو نہیں دیکھ رہے وہ مہنگائی روزمرہ اخراجات روزگار توانائی کی قیمتوں اور اپنی معیشت پر بھی نظر رکھ رہے ہیں ستمبر 2026 کے رائٹرز اِپسوس سروے میں ٹرمپ کی مجموعی منظوری 32 فیصد رپورٹ ہوئی جبکہ صرف 17 فیصد افراد نے مہنگائی اور زندگی کے اخراجات سے متعلق ان کی کارکردگی کی منظوری دی اسی سروے میں ڈیموکریٹس کو وسط مدتی انتخابات کے لیے قومی سطح پر ریپبلکنز پر آٹھ پوائنٹس کی برتری حاصل تھی
لیکن امریکی سیاست کا فیصلہ صرف ایک سروے نہیں کرتا نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں امریکی عوام اپنے ووٹ کے ذریعے یہ طے کریں گے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ پالیسیوں سے کس حد تک مطمئن ہیں اور کانگریس میں کس قسم کا سیاسی توازن چاہتے ہیں اس لیے کسی جماعت کی فتح یا شکست کو پہلے سے طے شدہ سمجھنا درست نہیں ہوگا البتہ موجودہ سروے یہ ضرور دکھا رہے ہیں کہ ٹرمپ کے لیے معاشی دباؤ جنگ ایران اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سیاسی سوال بن چکے ہیں
دنیا کو اس وقت کسی ایسے امریکی صدر کی ضرورت ہے جو طاقت کے نشے میں فیصلے نہ کرے بلکہ طاقت کو امن کے لیے استعمال کرے جو اتحادیوں کو دھمکی کے بجائے اعتماد دے جو مخالفین کو تباہ کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر لائے اور جو عالمی معیشت کو تجارتی جنگوں کی بھٹی میں جھونکنے کے بجائے ایسی پالیسی اختیار کرے جس میں امریکہ کی ترقی کے ساتھ دنیا کی معیشت بھی سانس لے سکے
اگر دنیا کسی نئی عالمی جنگ کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے اسباب کو صرف ایک شخص کے کھاتے میں ڈالنا تاریخ اور سیاست دونوں کے لیے حد سے زیادہ سادہ نتیجہ ہوگا کیونکہ جنگیں کئی ریاستوں کے فیصلوں تنازعات اور غلط اندازوں سے جنم لیتی ہیں لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکی آمیز خارجہ پالیسی اور طاقت کے استعمال پر بڑھتا ہوا انحصار عالمی کشیدگی میں اضافے کا ایک اہم عنصر بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کو واشنگٹن سے زیادہ ذمہ دار زیادہ مستقل اور زیادہ قابل اعتماد سفارت کاری کی ضرورت ہے
اب فیصلہ صرف امریکی سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ امریکی عوام کا بھی ہے انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ طاقت کا مطلب مسلسل محاذ آرائی ہے یا قومی مفاد کے ساتھ عالمی استحکام بھی امریکی مفاد کا حصہ ہے انہیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جنگوں کے اخراجات صرف میزائلوں اور بموں میں نہیں ہوتے بلکہ ان کی قیمت مہنگی توانائی بے یقینی معیشت انسانی جانوں اور آنے والی نسلوں کی سلامتی کی صورت میں ادا ہوتی ہے
ٹرمپ اگر واقعی امریکہ کو عظیم بنانا چاہتے ہیں تو عظمت کا راستہ ہر طرف جنگ کے دروازے کھولنے سے نہیں بلکہ جنگ کے دروازے بند کرنے سے نکلے گا امریکہ کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیار نہیں اس کی معیشت اس کی ٹیکنالوجی اس کی سفارت کاری اور دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ہیں اگر واشنگٹن ہر اختلاف کو دھمکی میں تبدیل کرتا رہا تو دنیا امریکہ سے خوف تو کھا سکتی ہے مگر اعتماد نہیں کرے گی
اور جب دنیا کی سب سے طاقتور ریاست اعتماد کھو دیتی ہے تو صرف اس کے مخالفین ہی متاثر نہیں ہوتے اس کے اتحادی بھی متبادل راستے تلاش کرتے ہیں معیشتیں نئے بلاک بناتی ہیں طاقت کا توازن تبدیل ہوتا ہے اور عالمی نظام ایک ایسی کشمکش میں داخل ہوجاتا ہے جس کا انجام کسی کے ہاتھ میں نہیں رہتا
اسی لیے آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ کتنی بڑی دھمکی دے سکتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ وقت آنے پر اپنی طاقت کو روک بھی سکتے ہیں کیا وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دے سکتے ہیں کیا وہ اپنے اتحادیوں کو یقین دلاسکتے ہیں کہ امریکہ کا وعدہ حالات کے ساتھ نہیں بدلے گا اور کیا وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا کو خوفزدہ کرکے امریکہ کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا
اگر امریکی قیادت نے طاقت اور دھمکی کو ہی اپنی مستقل زبان بنا لیا تو آنے والے دن زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں اور اگر امریکی عوام نے اپنی جمہوری طاقت کے ذریعے پالیسیوں کا احتساب کیا تو امریکی سیاست میں ایک نیا سوال ضرور ابھرے گا کہ دنیا پر حکمرانی کرنے کے لیے امریکہ کو جنگ چاہیے یا قیادت کے لیے اعتماد اور اس کے لیے امریکا کا مڈٹرم الیکشن اور اس کا نتیجہ فیصلہ کن ہوگا۔



  تازہ ترین   
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 12 افراد شہید، 35 زخمی
فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم
بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید
بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے
افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار
امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی
حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن، حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے: وزیراعظم
نیتن یاہو ہولناک نسل کشی کے معمار، فلسطینیوں بارے جھوٹ پھیلاتے ہیں، ظہران ممدانی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر