دھرنوں کی سیاست اور معیشت کی موت

پاکستان میں سیاست نے جب سے دھرنے کو اپنا سب سے مؤثر ہتھیار سمجھ لیا ہے، تب سے اس ملک کا پہیہ صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ معیشت کے اندر بھی بارہا جام ہوتا رہا ہے۔ کبھی جمہوریت کے نام پر، کبھی عوام کے نام پر، کبھی مہنگائی کے خلاف، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی اقتدار کے حصول کے لیے اور کبھی کسی سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے سڑکوں کو میدان جنگ بنا دیا گیا، اور عام آدمی ہر مرتبہ تماشائی بھی بنا اور قربانی کا بکرا بھی، مگر سوال یہ ہے کہ آخر اس دھرنا سیاست نے پاکستان کو دیا کیا ہے؟ چند دن کی سیاسی شہ سرخیاں، چند تقریریں، چند نعرے، چند گرفتاریاں، چند مذاکرات اور پھر وہی ملک، وہی عوام، وہی مہنگائی، وہی بے روزگاری، وہی بند صنعتیں اور وہی کاروبار جو پہلے ہی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے۔

پاکستان میں دھرنا سیاست کی تاریخ کوئی نئی داستان نہیں ہے۔ مسلم لیگ نون کے ادوار میں احتجاجی سیاست نے مختلف شکلیں اختیار کیں۔ لانگ مارچ ہوئے، ٹرین مارچ ہوئے، ریلیاں نکلیں، سڑکیں بند ہوئیں اور دارالحکومت کو دباؤ میں لانے کی کوششیں ہوئیں۔ پھر تحریک انصاف نے اس سیاست کو ایک نئی شدت کے ساتھ قومی سیاسی منظرنامے کا مستقل حصہ بنا دیا۔ دو ہزار چودہ کا طویل اسلام آباد دھرنا اس سیاست کی ایک نمایاں مثال تھا، جس کے دوران دارالحکومت کی شاہراہیں اور شہری زندگی مسلسل دباؤ میں رہی۔ اس کے بعد مذہبی جماعتوں کے دھرنوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، اور دو ہزار سترہ کا فیض آباد دھرنا اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال بن گیا، جب راولپنڈی، اسلام آباد کے درمیان رابطہ شدید متاثر ہوا، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور شہریوں کو روزمرہ سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہاں مسئلہ احتجاج کا نہیں بلکہ احتجاج کے اس طریقے کا ہے، جس میں احتجاج کرنے والے اپنے حق کے لیے پورے معاشرے کو سزا دینے لگتے ہیں۔ آئین شہریوں کو احتجاج کا حق دیتا ہے، مگر کسی ایک جماعت کا سیاسی حق دوسرے شہری کے بنیادی حق کو کچلنے کا لائسنس نہیں بن سکتا۔ اگر ایک تاجر کی دکان بند ہو جائے، اگر ایک مزدور کی دیہاڑی ختم ہو جائے، اگر ایک طالب علم کا امتحان متاثر ہو جائے، اگر ایک مریض ہسپتال تک نہ پہنچ سکے، اگر ایک ایمبولینس ٹریفک کے سمندر میں پھنس جائے، تو پھر سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا، سوال انسانی ذمہ داری کا بن جاتا ہے۔ دو ہزار سترہ کے فیض آباد دھرنے کے دوران مرکزی راستوں کی بندش سے شہریوں اور تاجروں کو ہونے والی مشکلات کی تفصیلات اخبارات میں رپورٹ ہوئیں اور ٹرانسپورٹرز تک نے راستے تبدیل کیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سڑکیں صرف گاڑیوں کے گزرنے کی جگہ نہیں ہوتیں۔ سڑکیں معیشت کی شریانیں ہوتی ہیں۔ ایک ٹرک جب ایک شہر سے دوسرے شہر جاتا ہے تو اس کے ساتھ صرف سامان نہیں جاتا، اس کے ساتھ روزگار جاتا ہے، کاروبار جاتا ہے، صنعت کا خام مال جاتا ہے، دکان دار کی فروخت جاتی ہے، مزدور کی اجرت جاتی ہے اور حکومت کا ٹیکس جاتا ہے۔ جب شاہراہ بند ہوتی ہے تو صرف ایک گاڑی نہیں رکتی، پورا معاشی سلسلہ رک جاتا ہے۔ اسی لیے دھرنا اگر چند گھنٹوں کا ہو تو بھی اس کا اثر فوری ہوتا ہے، اور اگر کئی دن جاری رہے تو اس کے اثرات کئی ہفتوں اور بعض اوقات کئی ماہ تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ دو ہزار سترہ میں فیض آباد کے راستوں کی بندش نے نہ صرف شہری آمدورفت کو متاثر کیا بلکہ پولیس اور انتظامیہ کے اضافی اخراجات بھی سامنے آئے۔

اور پھر ہمارے سیاسی رہنما بڑے اطمینان سے کہتے ہیں کہ ہم عوام کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس عوام کے لیے آپ سڑک پر نکلتے ہیں، کیا وہی عوام آپ کے دھرنے کی قیمت بھی ادا کرے گی؟ اگر آپ عوام کے لیے نکلے ہیں تو سب سے پہلے اس مزدور کے بارے میں سوچیں جو ایک دن کام نہ ملنے پر گھر میں چولہا نہیں جلا سکتا، اس دکاندار کے بارے میں سوچیں جس کی دکان بند ہونے سے روزانہ کا نقصان ہوتا ہے، اس صنعت کار کے بارے میں سوچیں جس کا خام مال راستے میں پھنسا رہتا ہے، اس مریض کے بارے میں سوچیں جس کی ایمبولینس کسی بند شاہراہ پر کھڑی رہ جاتی ہے اور اس طالب علم کے بارے میں سوچیں جس کا تعلیمی سفر سیاسی تصادم کی نذر ہو جاتا ہے۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی کسی شاہی باغ کی بہار نہیں بلکہ ایک ایسے مریض کی مانند ہے جسے مسلسل علاج کی ضرورت ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کے لیے کمزور کاروباری ماحول، کمزور حکمرانی، کم سرمایہ کاری اور دیرینہ ساختی مسائل کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ ایسے میں اگر سیاسی جماعتیں بار بار سڑکیں بند کرنے اور شہروں کو مفلوج کرنے کو اپنی سیاست کا معمول بنا لیں تو معاشی بحالی کی کوششیں مزید مشکل ہو سکتی ہیں، کیونکہ سرمایہ کاری کو استحکام چاہیے، کاروبار کو تسلسل چاہیے، صنعت کو توانائی اور خام مال کی مسلسل فراہمی چاہیے اور تاجر کو یہ یقین چاہیے کہ کل اس کی دکان کھلے گی یا کسی سیاسی اعلان کے بعد شہر بند ہو جائے گا۔

یہاں آئی پی پیز کا مسئلہ بھی اپنی پوری سنگینی کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ پاکستان کی توانائی کی لاگت پہلے ہی صنعت اور عام صارف دونوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر معیشت کی مضبوط بنیاد قائم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن عجیب تماشا یہ ہے کہ ہم ایک طرف بجلی کے شعبے کی ساختی خرابیوں پر ماتم کرتے ہیں اور دوسری طرف سیاسی بے یقینی کے ذریعے کاروبار اور صنعت کے بچے کھچے اعتماد کو بھی مجروح کرتے رہتے ہیں۔ معیشت صرف آئی پی پیز کے معاہدوں سے نہیں بنتی اور نہ صرف حکومت کے بجٹ سے بنتی ہے۔ معیشت اعتماد سے بنتی ہے، تسلسل سے بنتی ہے، قانون کی بالادستی سے بنتی ہے اور اس یقین سے بنتی ہے کہ ریاست کل بھی وہی ہوگی جو آج ہے۔

پٹرولیم لیوی کے نام پر بوجھ ہو یا بجلی کے بلوں میں مختلف سرچارج ہوں یا اشیائے ضروریہ پر بڑھتے ہوئے ٹیکس ہوں، عام آدمی پہلے ہی اپنی قوت خرید میں کمی محسوس کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی جماعتوں کا فرض یہ ہے کہ وہ عوام کے دکھ کو سیاسی ایندھن بنانے کے بجائے اس کا سیاسی حل تلاش کریں۔ پارلیمنٹ موجود ہے، قائمہ کمیٹیاں موجود ہیں، عدالتیں موجود ہیں، میڈیا موجود ہے، سیاسی مذاکرات کا راستہ موجود ہے۔ اسمبلی کے فلور پر حکومت کو جواب دہ بنایا جا سکتا ہے، بجٹ کو چیلنج کیا جا سکتا ہے، پالیسیوں پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے، آئی پی پیز کے معاہدوں پر پارلیمانی بحث ہو سکتی ہے، ٹیکس پالیسی پر عوامی سماعتیں ہو سکتی ہیں اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ پھر آخر ہر مسئلے کا آخری حل سڑک ہی کیوں بن جائے؟

دھرنے کی سیاست نے ایک اور خطرناک روایت کو جنم دیا ہے کہ ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانے کے لیے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا جائے۔ یہ روایت کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اور مذہبی قوتوں نے مختلف ناموں اور مختلف نعروں کے ساتھ احتجاج کی اسی شکل کو اختیار کیا ہے۔ اس لیے حساب بھی کسی ایک جماعت سے نہیں بلکہ پوری سیاسی تاریخ سے مانگنا ہوگا۔ اگر مسلم لیگ نون نے اپوزیشن کے زمانے میں لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست کی تو اس کا بھی جائزہ ہونا چاہیے۔ اگر تحریک انصاف نے طویل دھرنے اور بعد کے احتجاجی مارچ کیے تو اس کا بھی سیاسی اور معاشی اثر زیر بحث آنا چاہیے۔ اگر مذہبی جماعتوں نے شاہراہوں پر قبضہ کیا تو اس کے اثرات بھی دیکھنے چاہئیں، اور اگر حکومتوں نے سیاسی احتجاج روکنے کے لیے خود سڑکیں بند کیں اور کنٹینر لگائے تو اس کا حساب بھی ہونا چاہیے، کیونکہ معیشت کو نقصان صرف دھرنے والے نہیں پہنچاتے، ریاستی سطح پر غیر ضروری بندشیں بھی معاشی سرگرمی کو متاثر کرتی ہیں۔

آج پھر ملک ایک سیاسی کشمکش کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، جسے اب ستائیس ستمبر سے تبدیل کرکے چار اکتوبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد اور گردونواح میں سکیورٹی انتظامات اور ممکنہ شاہراہوں کی بندش بھی زیر بحث ہے۔ یہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ ایک سیاسی اور آئینی معاملہ ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال ضرور کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ہر سیاسی تنازع کا اختتام پھر سڑکوں کی بندش اور عوامی زندگی کے تعطل پر ہونا چاہیے؟

عمران خان کی رہائی کا مطالبہ ہو یا کسی حکومت کے خلاف احتجاج ہو یا کسی قانون کے خلاف آواز اٹھانا ہو، احتجاج جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، مگر احتجاج اور محاصرہ دو الگ چیزیں ہیں۔ اختلاف اور انتشار دو الگ چیزیں ہیں۔ سیاسی دباؤ اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر کسی سیاسی جماعت کو حکومت سے شکایت ہے تو پارلیمنٹ میں آواز اٹھائے۔ اگر حکومت غلط قانون بنا رہی ہے تو عدالت سے رجوع کیا جائے۔ اگر کوئی معاہدہ قومی مفاد کے خلاف ہے تو اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ اگر آئی پی پیز کے معاہدوں میں کسی سطح پر بے ضابطگی کا شبہ ہے تو پارلیمانی تحقیقات ہوں۔ اگر ٹیکس کا نظام غیر منصفانہ ہے تو عوامی نمائندے قانون سازی کے ذریعے اسے تبدیل کریں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، اقتدار میں ہو یا حزب اختلاف، مذہبی جماعت ہو یا سیاسی جماعت، سب کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ریاست کو چلانے کے لیے سڑکوں کو میدان جنگ نہیں بنایا جائے گا، عوام کو سیاسی مطالبات کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی احتجاج میں ایمبولینس، مریض، طالب علم، مزدور، تاجر اور عام شہری کو سیاسی دشمن نہیں سمجھا جائے گا۔

پاکستان کو آج نعروں سے زیادہ معاشی تسلسل کی ضرورت ہے، کنٹینروں سے زیادہ کھلی شاہراہوں کی ضرورت ہے، سیاسی محاذ آرائی سے زیادہ سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے اور دھرنوں سے زیادہ پارلیمانی سیاست کی ضرورت ہے۔ اگر اپوزیشن حکومت کو دباؤ میں لانا چاہتی ہے تو پارلیمنٹ میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے، اور اگر حکومت اپنی پالیسی کا دفاع کرنا چاہتی ہے تو پارلیمنٹ میں کرے۔ اگر عدالت سے انصاف چاہیے تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے، اور اگر عوام سے رابطہ چاہیے تو عوام کے درمیان جائیں، مگر اس ملک کے کاروبار کو بند کرکے، اس ملک کے مزدور کی دیہاڑی چھین کر، اس ملک کے مریض کی ایمبولینس روک کر اور اس ملک کے طالب علم کا راستہ بند کرکے عوام کے نام پر عوام ہی کو سزا دینا کسی جمہوری روایت کی خوب صورتی نہیں۔

پاکستان کی معیشت کو آئی پی پیز کے پیچیدہ بوجھ سے بھی نمٹنا ہے، ٹیکس نظام کی خرابیوں سے بھی نمٹنا ہے، سرکاری اداروں کی اصلاح بھی کرنی ہے، توانائی کے شعبے کو بہتر بھی بنانا ہے، سرمایہ کاری کا ماحول بھی پیدا کرنا ہے اور روزگار کے مواقع بھی بڑھانے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کے لیے پائیدار ترقی کے راستے میں مالیاتی اصلاحات، کاروباری ماحول کی بہتری، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات کو اہم قرار دیتے رہے ہیں۔ ایسے میں دھرنوں کی مسلسل سیاست معیشت کے اس زخمی جسم پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک ایسی جمہوری اخلاقیات پر اتفاق کریں جس میں احتجاج ہو مگر عوام دشمنی نہ ہو، اختلاف ہو مگر ریاستی نظام کو مفلوج نہ کیا جائے، حکومت کو تنقید کا سامنا ہو مگر سڑکیں بند نہ ہوں، اپوزیشن بھرپور آواز اٹھائے مگر معیشت کا گلا نہ دبائے اور حکومت اپنے مخالفین کو دبانے کے بجائے مذاکرات اور آئینی راستے اختیار کرے، کیونکہ پاکستان کو اس وقت ایک اور دھرنے کی نہیں، ایک نئے سیاسی معاہدۂ کار کی ضرورت ہے۔

اس ملک کے عوام نے بہت دھرنے دیکھ لیے، بہت کنٹینر دیکھ لیے، بہت بند سڑکیں دیکھ لیں، بہت سیاسی نعرے سن لیے۔ اب انہیں کھلی شاہراہیں، کھلے کاروبار، کھلی فیکٹریاں، کھلے اسکول، کھلے ہسپتال اور ایک ایسی سیاست چاہیے جو اقتدار کے لیے ملک کو بند نہ کرے بلکہ ملک کو چلانے کے لیے سیاست کرے، کیونکہ جس سیاست میں عوام کا روزگار قربان ہو جائے، اس سیاست کا جشن خواہ کتنی ہی بڑی تقریر میں منایا جائے، تاریخ کے کٹہرے میں اس سے ایک سوال ضرور پوچھا جائے گا کہ تم اقتدار کے لیے لڑ رہے تھے یا پاکستان کے لیے؟



  تازہ ترین   
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 12 افراد شہید، 35 زخمی
فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم
بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید
بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے
افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار
امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی
حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن، حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے: وزیراعظم
نیتن یاہو ہولناک نسل کشی کے معمار، فلسطینیوں بارے جھوٹ پھیلاتے ہیں، ظہران ممدانی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر