بیجنگ (شِنہوا) چین نے جاپان پر زور دیا ہے کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھے، ماضی پر سنجیدہ غور و فکر کرے اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنے ایشیائی پڑوسیوں اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کن نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران یہ ریمارکس اس وقت دیئے جب ان سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جاپانی وزیراعظم سنائی تاکائیچی کے اس خطاب پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جاپان ایک امن پسند ملک ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے ’’دشمن ریاست کی شقیں‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
گو نے کہا کہ جاپان کے کہنے سے زیادہ عالمی برادری کو یہ زیادہ فکر ہے کہ جاپان کیا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد جاپان کا ’’امن پسند ملک‘‘ ہونے کا تصور اپنی تاریخ پر گہرے غور و فکر اور عسکریت پسندی کی سوچ سے مکمل ناطہ توڑنے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔
گو نے کہا کہ “در حقیقت موجودہ جاپانی حکومت نہ صرف اپنی جارحانہ تاریخ کی تردید کرتی اور اپنے جنگی جرائم پر پردہ ڈالتی ہے بلکہ اپنی فوج مضبوط بنانے اور اسلحے میں اضافے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے، ’دوبارہ عسکریت پسندی‘ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جوہری ہتھیاروں سے متعلق تین اصول ترک کرنے اور امن پسند آئین میں ترمیم کرنے کی کوشش اور کھلم کھلا جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جاپان علاقائی امن اور استحکام کے لئے ایک نمایاں خطرہ بن چکا ہے۔
گو نے کہا کہ رواں سال اقوام متحدہ کے قیام کی 81 ویں اور ٹوکیو ٹرائل کے انعقاد کی 80 ویں سالگرہ ہے اور جاپان نے عسکری رجحان کے جرائم کا اعتراف کرنے اور اقوام متحدہ کا چارٹر مکمل طور پر قبول کرنے کی شرط پر اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
جاپان تاریخ سے سبق سیکھے اور عملی اقدامات سے اعتماد بحال کرے، چین کی تاکید



