پاک۔چین کہانیاں |پاکستانی کاروباری افراد کی مارکیٹ کو وسعت دینے کے لئے چین-آسیان ایکسپو میں بھرپور شرکت کا سلسلہ برقرار

نان ننگ (شِنہوا) 23 ویں چین-آسیان ایکسپو (سی اے ایکسپو) 17 سے 21 ستمبر تک چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خود مختار خطے کے شہر نان ننگ میں منعقد ہوئی۔ اس میں 70 سے زائد ممالک اور خطوں کی 3 ہزار 400 سے زیادہ کمپنیوں نے شرکت کی، جبکہ متعدد پاکستانی کاروباری افراد نے بھی نمائش میں حصہ لیتے ہوئے اس پلیٹ فارم کے ذریعے مسلسل مواقع تلاش کئے۔بین الاقوامی نمائش کے مصروف حصے میں پاکستان کا بوتھ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ شفاف اور چمکدار قیمتی پتھر کے زیورات اور نفاست سے تراشے گئے ہاتھ کے بنائے ہوئے برتن قرینے سے سجائے گئے تھے، جبکہ نمائش کنندگان رواں چینی زبان میں وہاں سے گزرنے والے صارفین کا گرمجوشی سے استقبال کر رہے تھے۔کراچی سے تعلق رکھنے والے نمائش کنندہ یار محمد نے صارفین کو پتھر سے بنی دستکاری دکھاتے ہوئے کہا کہ “میں 12 سال پہلے چین آیا تھا اور چینیوں کے ساتھ تجارت شروع کی۔ یہ ساتویں مرتبہ ہے کہ میں سی اے ایکسپو میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لئے آیا ہوں۔” ان کے ساتھ لائی گئی پتھر کی تمام مصنوعات پاکستان میں تیار کی گئی تھیں اور مقامی ہنرمندوں نے انہیں مکمل طور پر ہاتھ سے تراشا تھا۔چین-آسیان ایکسپوکے علاوہ یار محمد چین میں منعقد ہونے والی بڑی نمائشوں، جیسے چین-جنوبی ایشیا ایکسپو، چائنہ انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (سی آئی آئی ای) میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “نمائش اور فروخت کے نتائج کافی اچھے ہیں، کیونکہ چینی عوام قدرتی پتھر کو پسند کرتے ہیں۔” انہیں اس بات پر خاص فخر ہے کہ ان مصنوعات کے ڈیزائن میں بہت سے گوبھی جیسے چینی عناصر شامل ہیں، جو صارفین کو پسند آنے والے ڈیزائن ہیں۔یار محمد نے کہا کہ “ہم کئی برسوں سے چین میں قیمتی پتھر کا کاروبار کر رہے ہیں، اس لئے ظاہر ہے کہ ہم چینی ثقافت کو بھی کچھ حد تک سمجھتے ہیں۔” آج کل وہ سال کے تقریباً 8 یا 9 ماہ چین میں کاروبار کرتے ہیں اور باقی وقت تجارتی امور نمٹانے کے لئے پاکستان واپس جاتے ہیں۔ انہوں نے چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ میں ایک تجارتی کمپنی قائم کر رکھی ہے جو بنیادی طور پر قیمتی پتھر کی تجارت سے وابستہ ہے، جبکہ وہ چین کے تیار کردہ سانچے، اوزار اور دیگر مصنوعات بھی پاکستان فروخت کرتے ہیں۔یار محمد کے خیال میں سی اے ایکسپو نہ صرف مصنوعات کی نمائش کی ایک کھڑکی ہے بلکہ غیر ملکی کمپنیوں کے لئے چینی مارکیٹ تک رسائی کا ایک پل بھی ہے، جو کاروباری شراکت داروں کو ایک دوسرے سے ملنے اور کاروباری وسائل کو وسعت دینے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ پلیٹ فارم ہمیں مقامی خصوصی مصنوعات پیش کرنے اور کامیابی سے چینی مارکیٹ میں داخل ہونے کا موقع دیتا ہے۔ بہت سی پاکستانی کمپنیوں کو چینی مارکیٹ کی ترقی کے امکانات پر بھرپور اعتماد ہے اور وہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہاں ہیں۔نمائش گاہ کی روشنیوں میں نفاست سے تیار کئے گئے فن پارے اور مصوری کے نمونے اپنے منفرد رنگوں اور باریک ڈیزائن کے باعث جگمگا رہے تھے اور بے شمار ناظرین کی توجہ حاصل کر رہے تھے۔ نمائش کے سٹالز کے سامنے نمائش کنندگان رواں چینی زبان میں اپنی مصنوعات کا پرجوش انداز میں تعارف کرا رہے تھے، جس سے بڑی تعداد میں لوگ رک کر مصنوعات دیکھنے اور خریدنے کے لئے جمع ہو رہے تھے۔سی اے ایکسپو میں پاکستانی کاروباری افراد کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرکت کو چین-پاکستان اقتصادی و تجارتی تعاون کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔ چین کئی برسوں سے مسلسل پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2025 میں چین اور پاکستان کے درمیان مجموعی تجارتی حجم 25.24 ارب امریکی ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.5 فیصد زیادہ ہے۔ اسی دوران آسیان اور پاکستان کے درمیان اقتصادی و تجارتی روابط بھی مسلسل گہرے ہو رہے ہیں۔حالیہ برسوں میں پاکستان کی وزارت تجارت، چین میں پاکستانی سفارتخانے، گوانگ ژو میں پاکستانی قونصل خانے اور پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جیسے سرکاری اداروں اور کاروباری تنظیموں نے متعدد مرتبہ چین-آسیان ایکسپو میں شرکت کی ہے، جہاں قومی تشخص کے ساتھ لکڑی کے فرنیچر اور دستکاری جیسی منفرد مصنوعات بھی پیش کی گئی ہیں۔ 2020 اور 2021 میں پاکستان مسلسل 2 برس چین-آسیان ایکسپو کا خصوصی مدعو شراکت دار رہا اور اقتصادی و تجارتی فروغ کی مختلف سرگرمیوں کے ذریعے اپنی نمایاں مصنوعات اور تعاون کے مواقع کو جامع انداز میں اجاگر کیا۔ گزشتہ برسوں کے دوران نمائش میں پاکستان کی شرکت کا جوش و جذبہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔کراچی سے آنے والے زوہیب پہلی مرتبہ اس مشرقی ایکسپو میں شریک ہوئے۔ زبان کی رکاوٹ کے باوجود وہ وہاں موجود صارفین کو پتھر کی دستکاری متعارف کرانے کے لئے بلند آواز میں پکارنے اور اشاروں سے سمجھانے میں مصروف رہے۔ نان ننگ میں چند روز کام کرنے کے بعد انہوں نے یہاں کے کاروباری اور ثقافتی ماحول کی بارہا تعریف کی اور کہا کہ “یہاں کے شہری اور کاروباری افراد بہت پرجوش اور خوش اخلاق ہیں۔ میں مستقبل میں بھی نمائش میں شرکت کے لئے واپس آؤں گا۔سی اے ایکسپو کی اہمیت صرف اشیاء کی تجارت تک محدود نہیں بلکہ یہ ثقافتی تبادلے اور باہمی امتزاج کا بھی ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔چینی نمائش کنندہ یے جنگ، جو ریشم سے متعلق غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور منتقلی کے شعبے سے وابستہ ہیں، نے موقع پر ہی پاکستان سے پیتل کی دستکاری کا ایک مجموعہ خریدا، جس میں گھوڑے، ہرن، برتن اور دیگر اشکال شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستانی دستکاری مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کی جاتی ہے اور ہمارا ریشم بھی ہاتھ سے تیار ہوتا ہے۔ انہیں ایک ساتھ سجانے یا نمائش میں پیش کرنے سے دونوں ایک دوسرے سے خوب میل کھائیں گے اور اچھا تاثر پیدا ہوگا۔” پاکستان قدیم شاہراہ ریشم پر ایک اہم گزرگاہ اور نمایاں مقام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان اشیاء کو مشترکہ طور پر نمائش میں پیش کرنے اور روزمرہ کی نمائش میں رکھنے سے بیلٹ اینڈ روڈ کی ثقافت کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جا سکے گا۔ ادائیگی مکمل ہونے کے بعد تاجر یہ دستکاری ایکسپریس ڈیلیوری کے ذریعے سیچھوان میں واقع یے جنگ کی کمپنی کو بھیج دے گا۔قیمتی پتھرسے ریشم تک، دستکاری سے ثقافتی بیانیے تک، پاکستانی کاروباری افراد چین-آسیان ایکسپو کے ذریعے چین اور آسیان کے درمیان وسیع علاقائی مارکیٹ میں مسلسل نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ یار محمد کے الفاظ میں چین میں کاروبار کرنا “اچھا محسوس ہوتا ہے”۔مستقبل کے حوالے سے ان کی نظریں مزید آگے ہیں وہ چین سے ٹیلی ویژن اور اے آئی روبوٹس خرید کر پاکستان میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔پاکستانی کاروباری افراد چین-آسیان ایکسپو میں “سونے کی کان کنی” کی مانند نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں اور چین-پاکستان اقتصادی و تجارتی تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی ایک نئی داستان رقم کرتے رہیں گے۔



  تازہ ترین   
ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ
جماعت اسلامی کا وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
آپریشن شعبان 2، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 6 دہشتگرد ہلاک
محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، مشترکہ تعاون کو مزید وسعت دینے عزم
وزیراعظم اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک پہنچ گئے
پاکستان اور سعودیہ میں سرکاری و سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کیلئے ویزا شرائط ختم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر