بیجنگ (شِنہوا) انسان نما روبوٹس کی قطاریں بار بار ایک ہی حرکات دہرا رہی ہیں،پانی کی بوتلیں اٹھانا، ٹرے مائیکروویو اوون میں رکھنا اور پارسلوں کے لیبل سکین کرنا۔ قریب ہی موشن کیپچر سوٹ پہنے انسانی آپریٹرز کپڑے تہہ کر رہے ہیں اور بیڈ شیٹس ہموار کر رہے ہیں۔ ان کی حرکات سینسرز کے ذریعے ریکارڈ کی جا رہی ہیں اور اے آئی کے تربیتی نظام میں منتقل کی جا رہی ہیں۔
اس طرح کے مناظر چین کے کئی مقامات پر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ صنعت سے وابستہ افراد ان مراکز کو ’’مجسم اے آئی کے تربیتی مراکز‘‘ قرار دیتے ہیں۔
چین میں اب انسان نما روبوٹ بنانے والی 140 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں۔ 2025 میں چین نے 14 ہزار 400 انسان نما روبوٹس تیار کرکے مارکیٹ میں بھیجے جو دنیا بھر میں بھیجے گئے ایسے روبوٹس میں ہر 10 میں سے تقریباً 8 روبوٹس کے برابر ہے۔
تاہم یہ اعداد و شمار متاثر کن ہونے کے باوجود صنعت کو ایک بنیادی چیلنج درپیش ہے کہ ایسے روبوٹس جو محدود اور کنٹرول شدہ ماحول میں دوڑ، چھلانگ اور رقص کر سکتے ہیں، انہیں ایسی مشینوں میں تبدیل کرنا جو روزمرہ زندگی کے بے شمار اور غیر متوقع کام قابل اعتماد طریقے سے انجام دے سکیں۔
روزمرہ کے کام انجام دینے کے قابل بنانے کے لئے روبوٹس کو بڑی مقدار میں ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنا ایک اہم ضرورت ہے۔
جس طرح لارج لینگویج ماڈلز نے وسیع پیمانے پر موجود تحریری مواد سے سیکھ کر ڈیجیٹل دنیا کو تبدیل کیا، اسی طرح روبوٹس کو بھی مجسم دنیا میں مہارت حاصل کرنے کے لئے حقیقی دنیا کے ساتھ تعامل سے حاصل ہونے والے وسیع ڈیٹا کی ضرورت ہے۔ انہیں بار بار کے تجربات کے ذریعے یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ مختلف اشکال کی اشیاء کو کس طرح پکڑنا ہے، نامانوس جگہوں پر کس طرح راستہ تلاش کرنا ہے، اپنے اردگرد کے ماحول میں تبدیلیوں کا کس طرح ردعمل دینا ہے اور روزمرہ کے کام کس طرح مکمل کرنے ہیں۔
لیکن جہاں انٹرنیٹ متن سے بھرپور ہے وہیں روبوٹس کے لئے حقیقی دنیا کے ساتھ تعامل کا ڈیٹا ماضی میں منظم انداز میں جمع نہیں کیا گیا۔ نئے تربیتی مراکز اسی خلا کو پر کرنے کے لئے قائم کئے جا رہے ہیں جہاں روبوٹس کو حقیقی ماحول میں بار بار اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا پر مبنی تربیت کے ذریعے راستہ تلاش کرنے اور مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت سکھائی جاتی ہے۔
ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک چین میں 70 سے زائد مجسم اے آئی تربیتی مراکز قائم ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ 40 سے زیادہ ایسے تربیتی مراکز زیر تعمیر یا منصوبہ بندی کے مرحلے میں تھے۔ ان میں سے زیادہ تر یانگسی دریا کے طاس، بیجنگ-تیانجن-ہیبے خطے اور دریائے پرل کے طاس میں واقع ہیں۔
چین میں انسان نما روبوٹس کی صنعت کےفروغ کے لئے مصنوعی ذہانت کی ’’کلاس رومز‘‘ متعارف



