بیجنگ (شِنہوا) چین کے استغاثہ ادارے عوامی مفاد سے متعلق ماحولیاتی مقدمات میں شواہد جمع کرنے کے لئے ریموٹ سینسنگ اور دیگر ٹیکنالوجیز کا بڑھتے ہوئے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔
بیجنگ میں ملک کے اعلیٰ ترین استغاثہ ادارے، اعلیٰ عوامی استغاثہ (ایس پی پی) کی جانب سے منعقدہ ایک میڈیا کانفرنس میں بتایا گیا کہ ایس پی پی کی جانب سے قائم کردہ ریموٹ سینسنگ ایپلی کیشن پلیٹ فارم اب صوبائی درجے اور اس سے اوپر کے تقریباً 400 استغاثہ اداروں کو آلودگی اور ماحولیاتی نقصان کی اطلاع والے مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کرنے اور دیکھنے کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔
چینی قومی خلائی انتظامیہ کے تعاون سے تیار کئے گئے پلیٹ فارم نے مئی 2025 میں استغاثہ اداروں کو خدمات فراہم کرنا شروع کیں۔ ایس پی پی کے نائب چیف پراسیکیوٹر جنرل ژانگ شوئے چھیاؤ نے بتایا کہ اب تک اس پلیٹ فارم کے ذریعے سیٹلائٹ تصاویر کے 10 ہزار سے زائد مناظر پر کارروائی کی جا چکی ہے۔
ژانگ نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم نے چین کے جنوبی دریائے پرل کے طاس میں آبی آلودگی پر قابو پانے سے متعلق عوامی مفاد کے مقدمات میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ دریائی طاس کے نظم و نسق کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے جو دنیا بھر میں درپیش ایک چیلنج ہے۔‘‘
ایس پی پی کے سینئر پراسیکیوٹر چھیو جنگ ہوئی نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر پراسیکیوٹرز کو ماحولیاتی نقصان کی حد کا اندازہ لگانے اور یہ جائزہ لینے میں مدد دیتی ہیں کہ کسی مقام میں وقت کے ساتھ کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔
چھیو جنگ نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم پراسیکیوٹرز کو مقدمات سے متعلق ابتدائی معلومات کی زیادہ موثر طریقے سے تصدیق کرنے، ماحولیاتی نقصان کا جائزہ لینے اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والے شواہد کی باہمی تائید کرنے میں مدد دیتا ہے۔
چین کے استغاثہ اداروں کا ماحولیاتی مقدمات میں ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال



