اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کے زیراہتمام صنفی بنیادوں پر تشدد میں اضافے اور اس کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ میں میڈیا اور صحافتی یونینز کے کردار کے موضوع پر ویب سیشن منعقد ہوا، جس میں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔
سیشن میں آئی ایف جے کی صدر زولینا لینز نے خصوصی شرکت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ خواتین پر تشدد میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے، صنفی بنیادوں پر تشدد صرف خواتین کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد سے متعلق قانون سازی پر کام کیا، تاہم اس معاملے پر قانون سازی ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ معاشرہ ایسے موضوعات پر بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔ ان کے مطابق صنفی تشدد جسمانی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بھی ہوتا ہے جبکہ خواتین کو اب آن لائن بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے آئی ایف جے اور پی ایف یو جے پر زور دیا کہ اس حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔
جماعت اسلامی کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ خواتین پر تشدد دراصل ایک فرد نہیں بلکہ ایک نسل پر تشدد کے مترادف ہے۔ متاثرہ افراد کی تضحیک کے بجائے ہمدردی اور مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ، صحافی اور ٹریڈ یونینز اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ خواتین کے تحفظ کے لیے مردوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن برائے خواتین ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ کمیشن خواتین اور بچوں کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔ صوبائی اسمبلی سے متعدد قوانین منظور ہوئے ہیں جن پر ضلعی کمیٹیوں کے ذریعے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے عوام میں آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سینئر صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی نے کہا کہ آن لائن تشدد بھی خواتین کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور صحافیوں کو ایسے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے صحافتی اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ میڈیا کا کام خبر دینا ہے، سنسنی پھیلانا نہیں۔ انہوں نے ملک کے تمام صوبوں میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جینڈر کونسل کی چیئرپرسن ماریہ اینجلیس نے پی ایف یو جے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ انہیں نیوز رومز، سڑکوں اور سوشل میڈیا پر ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے آئی ایف جے جینڈر کونسل کے حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنظیمی قیادت کی سطح پر اب بھی صنفی عدم توازن موجود ہے، جہاں 78 فیصد صدور مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں، تاہم نائب صدور کی سطح پر صنفی برابری حاصل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق 58 فیصد ٹریڈ یونینز میں جینڈر کمیٹیاں موجود ہیں۔
ڈان کے ڈپٹی بیورو چیف عامر وسیم نے کہا کہ اسمبلیوں کی قائمہ کمیٹیاں اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد تشدد خاموشی سے برداشت کر رہی ہے، جس کے لیے تمام طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے متاثرہ افراد کی رازداری برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیرسٹر ملیکہ بخاری نے کہا کہ پاکستان میں متاثرہ فرد کو موردِ الزام ٹھہرانے کا رجحان موجود ہے، جس کے باعث کئی افراد انصاف کے حصول سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ اور ان سے متعلق کیسز کی رپورٹنگ میں عالمی معیار کو مدنظر رکھا جانا چاہیے اور میڈیا، یو این ویمن سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
پی ایف یو جے کی رہنما شہربانو نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے کیسز کی رپورٹنگ میں متاثرہ فرد کی رازداری کا مکمل خیال رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں جبکہ صحافتی یونینز اس حوالے سے فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سینئر اینکر تنزیلہ مظہر نے کہا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد کے کیسز پر مکمل تیاری کے ساتھ کام کرنا چاہیے کیونکہ حساس اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہی معاملے کو درست انداز میں اجاگر کر سکتی ہے۔ انہوں نے خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے اور قانون سازوں، صحافیوں اور عالمی اداروں کے مشترکہ کردار کی ضرورت پر زور دیا۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جنرل سیکریٹری اور سینئر صحافی لبنیٰ جرار نے کہا کہ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں انسانی حقوق اور خواتین کے مسائل بعض اوقات پس پشت چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے خواتین کے لیے تربیت، مہارتوں اور مباحثوں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔
سابق بی بی سی پروڈیوسر اور فیشن ڈیزائنر ڈاکٹر نازیہ میمن نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے لیے مشترکہ آواز ضروری ہے اور میڈیا کو معاملے کی حساسیت برقرار رکھتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے لانے چاہییں۔
انڈونیشیا سے آئی ایف جے کوآرڈینیٹر جینڈر کونسل نورل نور عزیزہ نے کہا کہ خواتین کے لیے کام کی جگہوں کو محفوظ بنانا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے ٹریڈ یونینز اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ایکٹوسٹ اور ڈائریکٹر بولو بھی اسامہ خلیجی نے پیکا قانون پر گفتگو کرتے ہوئے 2025 میں ہونے والی ترامیم پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق ترامیم سے قانون مزید سخت ہوا ہے۔ انہوں نے پیکا کی دفعہ 20 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مجرمانہ ہتک عزت اب بھی جرم ہے جبکہ صحافیوں کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے نوٹسز کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں اور مردوں کو خواتین کے احترام اور ذمہ دار شہری بننے کے حوالے سے تربیت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
آر آئی یو جے کی رہنما اور کالم نویس صائمہ صدیق نے کہا کہ خواتین کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور استحصال کا شکار خواتین کی آواز بننا ہوگا۔ ڈاکٹر تہمینہ رانجھا نے کہا کہ خواتین اکثر تشدد کے خلاف خاموش رہتی ہیں، اس لیے انہیں قانونی مدد، ہیلپ لائنز اور معاون پولیس نظام فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
فوزیہ رانا نے قومی اور صوبائی سطح پر آگاہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو حساس موضوعات کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لیے تربیت دینا ضروری ہے۔ ثنا زہرہ نقوی نے کہا کہ خواتین زندگی کے ہر شعبے میں کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کا تحفظ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سیشن کے اختتام پر آئی ایف جے ایشیا پیسیفک کی جینڈر کوآرڈینیٹر جویریہ صدیق اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل شکیل احمد نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے اور صحافتی رپورٹنگ میں ذمہ دارانہ رویے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پی ایف یو جے اور آئی ایف جے کے زیر اہتمام صنفی تشدد اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ویب سیشن



