منہاج برنا سے آج تک

صحافت کی مزاحمتی داستان
پاکستان کی صحافت کی تاریخ محض اخبارات کے صفحات، ٹیلی وژن کی اسکرینوں اور نیوز رومز کی روشن میزوں کی تاریخ نہیں بلکہ یہ ان چراغوں کی داستان بھی ہے جنہیں آندھیوں نے بجھانے کی کوشش کی مگر وہ بجھنے کے بجائے مزاحمت کی علامت بن گئے۔ یہ داستان ان قلم کاروں کی ہے جنہوں نے خبر کو کاروبار بننے سے پہلے ذمہ داری سمجھا، صحافت کو ذریعہ معاش ہونے سے پہلے ایک مقدس پیشہ جانا اور صحافی کارکن کو محض ایک ملازم نہیں بلکہ صحافت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اسی مزاحمتی روایت کا نام ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو نہ کل خاموش ہوئی تھی نہ آج خاموش ہونے کو تیار ہے۔ جب صحافت کے چراغ پر آمریت کی آندھی حملہ آور ہوئی، جب قلم کو زنجیر پہنانے کی کوشش کی گئی، جب صحافی کے روزگار کو دباؤ کا ہتھیار بنایا گیا، جب خبر کو دیوار سے لگانے کے لیے طاقت کے ایوانوں نے اپنی دیواریں بلند کیں تو پی ایف یو جے صحافی کے سامنے ایک مضبوط حصار بن کر کھڑی ہوئی۔ اس کی تاریخ کسی دفتر، کسی عہدے یا کسی انتخابی نتیجے سے نہیں بنتی، اس کی تاریخ کارکن صحافی کے پسینے، آنسو، گرفتاری، بے روزگاری اور قربانی سے لکھی گئی ہے۔
اس تاریخ کا ذکر ہو اور منہاج برنا، عبد الحمید چھاپرا، حفیظ الرحمان، نثار عثمانی اور سی آر شمسی کا نام نہ آئے تو یہ تاریخ ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہ لوگ صرف عہدوں پر بیٹھے ہوئے صحافتی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک عہد کی علامت تھے۔ انہوں نے اس زمانے میں صحافی کارکن کی آواز بلند کی جب اقتدار کے سامنے کھڑا ہونا کوئی خوش گوار مشغلہ نہیں تھا بلکہ اپنے لیے مشکلات کا دروازہ کھولنے کے مترادف تھا۔ منہاج برنا اور عبد الحمید چھاپرا نے جس مزاحمتی روایت کو قوت دی، حفیظ الرحمان، نثار عثمانی اور سی آر شمسی جیسے جری رہنماؤں نے اسے اپنے کردار اور جدوجہد سے آگے بڑھایا۔ ان بزرگوں کے پاس شاید آج کے عہد کی طرح ابلاغ کے بے شمار ذرائع نہ تھے، مگر ان کے پاس ایک ایسی چیز ضرور تھی جو آج کے شور شرابے میں کم ہوتی دکھائی دیتی ہے اور وہ تھی اصول۔ ان کے نزدیک صحافت کی طاقت صحافی کے ضمیر میں تھی اور صحافتی تنظیم کی طاقت کارکن کے اعتماد میں۔ انہوں نے تنظیم کو ذاتی ترقی کا زینہ نہیں بلکہ کارکن کے حقوق کی فصیل سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہمارے درمیان نہیں مگر ان کی آواز اب بھی پاکستان کی صحافتی تاریخ کے صفحات سے نکل کر سوال کرتی ہے کہ ہم نے ان کے چھوڑے ہوئے ورثے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
پی ایف یو جے کی بنیاد کسی آرام دہ دفتر میں بیٹھ کر نہیں رکھی گئی تھی جہاں چائے کی پیالی کے ساتھ قراردادیں منظور ہوتی ہوں اور اگلے دن اخبارات میں تصویریں چھپتی ہوں۔ یہ تنظیم کارکن صحافی کی مشکلات سے پیدا ہوئی تھی۔ اس صحافی سے جس کے گھر کا کرایہ بھی مسئلہ تھا، بچوں کی فیس بھی مسئلہ تھی، ملازمت کا تحفظ بھی مسئلہ تھا اور آزادی اظہار بھی۔ اس لیے پی ایف یو جے کی اصل شناخت اس کا دفتر نہیں بلکہ اس کا کارکن ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو مزاحمت اور مصلحت کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔ آج جب بعض صحافتی تنظیمیں اپنے اصل مقصد سے بھٹکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر تنظیمیں کارکن کے لیے بنی تھیں یا کارکن تنظیموں کے لیے؟ کیا صحافتی تنظیم کا منصب یہ ہے کہ وہ صحافی کے زخم پر مرہم رکھے یا اپنے عہدیداروں کے سیاسی، مالی اور معاشی مفادات کے لیے راستے تلاش کرے؟ اگر کسی تنظیم کی قیادت کے پاس اپنے عہدے کی شان تو ہو مگر اپنے کارکن کے روزگار کے لیے کوئی مؤثر آواز نہ ہو تو پھر اس تنظیم کو خود اپنے آئین کے آئینے میں کھڑا ہوکر اپنا چہرہ دیکھنا چاہئے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آج کی صحافتی سیاست پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہے۔ پی ایف یو جے کی تاریخی جدوجہد سے نکلنے والے بعض دھڑے اور گروہی تنظیمیں اگر صحافت اور صحافی کارکن کے بجائے اپنے اپنے مفادات کی سیاست میں الجھ جائیں تو انہیں یہ سوال ضرور سننا ہوگا کہ آخر کارکن کہاں ہے؟ اس کا روزگار کہاں ہے؟ اس کی تنخواہ کہاں ہے؟ اس کا مستقبل کہاں ہے؟ صحافیوں کی برطرفیوں، تنخواہوں کی بندش، اداروں کی بندش اور نیوز رومز کے سکڑتے ہوئے دائرے کے دوران اگر صحافتی تنظیموں کی سب سے بڑی سرگرمی عہدوں، دھڑوں اور نمائشی اجلاسوں تک محدود رہ جائے تو پھر کارکن کو سوال کرنے کا پورا حق ہے۔ صحافت کے نام پر اپنی معاشی ترقی کا راستہ تلاش کرنا اور صحافی کارکن کو معاشی بحران کے حوالے کردینا اس پیشے کے ساتھ ایسی ناانصافی ہے جسے تاریخ شاید کبھی معاف نہ کرے۔ صحافی کا خون اگر سرخی بن سکتا ہے تو اس کے گھر کا چولہا بھی صحافتی تنظیم کی ترجیح ہونا چاہئے۔ صرف پریس کانفرنسیں، بیانات اور تصویریں کافی نہیں؛ کارکن کو روزگار چاہئے، تحفظ چاہئے، تنخواہ چاہئے اور عزت کے ساتھ جینے کا حق چاہئے۔
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ حکومتوں نے بھی اکثر صحافتی تنظیموں کی اس اندرونی تقسیم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ جو تنظیم اقتدار کے قریب رہی اسے قربت کے ثمرات ملتے رہے اور جو سوال اٹھاتی رہی اسے اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صحافتی تنظیموں کی اصل قوت یعنی کارکن پس منظر میں چلا گیا اور اقتدار و صحافت کے درمیان ایک ایسا غیر فطری تعلق بنتا گیا جس میں اصول کی جگہ مصلحت اور مزاحمت کی جگہ مفاد نے لے لی۔ حکومتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی صحافتی تنظیم کو صرف اس لیے سہارا دینا کہ وہ حکومت پر تنقید کم کرتی ہے، دراصل صحافت کو سہارا دینا نہیں بلکہ صحافت کی آزادی کو کمزور کرنا ہے۔ اگر حکومت کسی ایسی تنظیم کی پشت پناہی کرے جس کی اصل ترجیح صحافی کارکن کے بجائے گروہی مفاد بن چکی ہو تو اس کا انجام وہی ہوگا جو آج ہمارے سامنے ہے: صحافت کا دائرہ سکڑ رہا ہے، نیوز رومز خاموش ہورہے ہیں، تجربہ کار صحافی باہر نکالے جارہے ہیں اور نوجوان صحافی اپنے مستقبل کے بارے میں سوالیہ نشان لیے کھڑے ہیں۔ صحافت کو سرکاری سرپرستی کی خیرات نہیں بلکہ آزادانہ کام کرنے کا ماحول چاہئے۔
آج پاکستان کا میڈیا ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف خبر کا چراغ ہے اور دوسری طرف ریٹنگ، منافع اور کاروباری ترجیحات کی ایسی منڈی ہے جہاں خبر سے زیادہ تفریح، کھیل اور غیر صحافتی مواد کو جگہ مل رہی ہے۔ جن اداروں کی شناخت کبھی خبر سے تھی وہاں خبر کا دائرہ محدود ہوتا جارہا ہے۔ جن صحافیوں نے اپنی جوانیاں ان اداروں کو دی تھیں انہیں بعض اوقات ایک خط یا ایک فون کال کے ذریعے بتادیا جاتا ہے کہ اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔ کسی نے کبھی ان سے یہ نہیں پوچھا کہ تیس سال کی ملازمت کے بعد آپ کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ بچوں کی فیس کیسے ادا ہوگی؟ کرایہ کہاں سے آئے گا؟ علاج کیسے ہوگا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف میڈیا مالکان کو نہیں بلکہ صحافتی تنظیموں کو بھی دینا ہوگا۔ جنگ گروپ، جیو، ڈان نیوز اور دیگر بڑے اداروں میں پیدا ہونے والے حالات نے صحافتی روزگار کے بحران کی سنگینی کو نمایاں کیا ہے۔ ایسے وقت میں پی ایف یو جے کا خاموش رہنا اس کی اپنی تاریخ سے غداری ہوگا۔ اسی لیے موجودہ قیادت نے میڈیا مالکان کے نام خطوط کے ذریعے برطرفیوں، تنخواہوں کی بندش، اداروں کی بندش اور نیوز کے سکڑتے ہوئے دائرے پر آواز بلند کی ہے۔ یہ محض ایک خط نہیں بلکہ ان خاندانوں کی فریاد ہے جن کے گھروں میں صحافی کی ملازمت کے ساتھ پورا مستقبل وابستہ ہے۔
اور اب اس آواز کو ملکی سرحدوں سے باہر لے جانے کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت کی جانب سے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کو پاکستان میں صحافیوں کی برطرفیوں، تنخواہوں کی بندش، روزگار کے بحران اور کارکن صحافیوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کرنا اسی مزاحمتی روایت کا تسلسل ہے۔ یہ اعلان ہے کہ پاکستان کا صحافی تنہا نہیں۔ اگر ملکی سطح پر اس کی آواز کو دبانے یا نظر انداز کرنے کی کوشش ہوگی تو اس کی آواز عالمی صحافتی برادری تک بھی پہنچے گی۔ صدر رانا عظیم اور سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے میرے لیے یہ محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک تاریخی امانت ہے۔ یہ امانت ہمیں منہاج برنا، عبد الحمید چھاپرا، حفیظ الرحمان، نثار عثمانی اور سی آر شمسی جیسے بزرگوں سے ملی ہے اور امانت میں خیانت صرف کسی عہدے کی ناکامی نہیں بلکہ ایک پوری مزاحمتی روایت سے بے وفائی ہوگی۔
پی ایف یو جے کی طاقت اس کے بیالیس یونٹس، ہزاروں کارکنوں یا عالمی وابستگی میں ضرور نظر آتی ہے مگر اس کی اصل طاقت ان سب سے کہیں آگے ہے۔ اس کی اصل طاقت وہ کارکن ہے جو صبح دفتر پہنچتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ شام کو اس کی ملازمت باقی رہے گی یا نہیں۔ وہ رپورٹر جو خطرناک حالات میں خبر حاصل کرتا ہے، وہ کیمرہ مین جو جان ہتھیلی پر رکھ کر منظر محفوظ کرتا ہے، وہ سب ایڈیٹر جو رات گئے تک خبر کو زبان دیتا ہے، وہ ڈیسک کارکن جو نظر نہ آنے کے باوجود پورے نیوز روم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ یہی لوگ پی ایف یو جے کے اصل وارث ہیں۔ انہیں کسی دھڑے کی ضرورت نہیں، انہیں اپنے حق کی آواز چاہئے۔ انہیں کسی گروہی سیاست کی ضرورت نہیں، انہیں اپنی تنخواہ اور روزگار کا تحفظ چاہئے۔ انہیں کسی نمائشی مزاحمت کی ضرورت نہیں، انہیں ایسی تنظیم چاہئے جو مشکل وقت میں ان کے گھر تک پہنچے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافتی تنظیمیں اپنے گریبان میں جھانکیں۔ جو تنظیمیں کارکن کے نام پر وجود میں آئیں ان سے پوچھا جائے کہ کارکن کے لیے انہوں نے کیا کیا؟ کتنے صحافیوں کی ملازمت بچائی؟ کتنی تنخواہیں دلوائیں؟ کتنے میڈیا مالکان کے سامنے کھڑے ہوئے؟ کتنے بے روزگار صحافیوں کے خاندانوں کا سہارا بنے؟ اور اگر ان سوالوں کے جواب خاموشی ہیں تو پھر یہ خاموشی خود ایک فیصلہ ہے۔ صحافت کسی عہدے دار کی جاگیر نہیں، کسی دھڑے کی ملکیت نہیں اور کسی حکومتی سرپرستی کی محتاج نہیں۔ صحافت ان کارکنوں کی میراث ہے جنہوں نے اسے اپنے خون پسینے سے سینچا ہے۔ جو لوگ اس میراث کو اپنے ذاتی مفاد کا زینہ بناتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ تاریخ کا قلم بہت بے رحم ہوتا ہے، وہ ناموں کے ساتھ عہدے نہیں لکھتا، وہ کردار لکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج پی ایف یو جے کے سامنے چیلنج صرف میڈیا مالکان یا حکومت کی پالیسیوں کا نہیں بلکہ اپنی صفوں کے اندر موجود مصلحتوں کا بھی ہے۔ مزاحمت کا مطلب ہر وقت نعرہ لگانا نہیں، مزاحمت کا مطلب مشکل وقت میں کارکن کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ مزاحمت کا مطلب یہ ہے کہ جب صحافی کی نوکری جائے تو تنظیم اس کے دروازے پر پہنچے، جب تنخواہ بند ہو تو تنظیم آواز اٹھائے، جب کسی صحافی کو دباؤ کا سامنا ہو تو تنظیم دیوار بن جائے اور جب اقتدار سوال سے فرار اختیار کرے تو صحافتی تنظیم سوال کو مزید بلند کردے۔ یہی وہ روایت ہے جو ہمیں اپنے بزرگوں سے ملی ہے اور یہی وہ روایت ہے جسے آج نئی نسل کے حوالے کرنا ہے۔
یہ چراغ بجھ بھی جائے تو دھواں بولے گا
ہم جہاں ہوں گے وہاں حق کا نشاں بولے گا
وقت حکومتوں کو بدل دیتا ہے، اقتدار کے تخت خالی ہوجاتے ہیں، میڈیا مالکان بدل جاتے ہیں، چینل بند اور نئے چینل قائم ہوجاتے ہیں، مگر صحافت کی روح اگر زندہ ہو تو مزاحمت بھی زندہ رہتی ہے۔ منہاج برنا سے آج تک کا سفر اسی زندہ روح کا سفر ہے۔ یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ صحافتی تنظیم کا منصب اقتدار کے دروازے پر دستک دینا نہیں بلکہ ضرورت پڑے تو اقتدار کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ پی ایف یو جے اسی روایت کی امین ہے اور رہے گی۔ جو لوگ صحافت کو اپنے معاشی مفادات کی سیڑھی بنانا چاہتے ہیں وہ اپنا راستہ اختیار کریں، جو لوگ صحافتی تنظیم کو ذاتی مفاد کی دکان بنانا چاہتے ہیں وہ تاریخ کے سامنے اپنا حساب دیں، مگر کارکن صحافی کے حق کی لڑائی نہیں رکے گی۔ کیونکہ پی ایف یو جے کسی ایک شخص، ایک دھڑے یا ایک دور کا نام نہیں۔ یہ پاکستان کے صحافی کارکن کی اجتماعی آواز ہے، اور جب تک اس ملک میں ایک بھی صحافی اپنے حق، اپنے قلم اور اپنے روزگار کے لیے کھڑا ہے، مزاحمت زندہ رہے گی۔



  تازہ ترین   
ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ
جماعت اسلامی کا وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
آپریشن شعبان 2، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 6 دہشتگرد ہلاک
محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، مشترکہ تعاون کو مزید وسعت دینے عزم
وزیراعظم اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک پہنچ گئے
پاکستان اور سعودیہ میں سرکاری و سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کیلئے ویزا شرائط ختم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر