تیانجن (شِنہوا) چین نے اب تک مدار میں پودوں کی 14 انواع سے تعلق رکھنے والی 20 سے زائد اقسام کامیابی سے کاشت کی ہیں۔ چینی خلاباز مرکز کے مطابق یہ ایک اہم پیش رفت ہے جو خلائی سٹیشن پر بڑے پیمانے پر فصلوں کی پیداوار کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اس اہم پیش رفت کو چین کے شمالی شہر تیانجن میں منعقدہ ایئرو سپیس میڈیکل انجینئرنگ کانفرنس میں اجاگر کیا گیا جہاں شین ژو-21 کے انسان بردار مشن کے خلاباز ژانگ ہونگ ژانگ نے چین کے تیان گونگ خلائی سٹیشن پر موجود ایک شاداب ”خلائی باغ“ کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ اس باغ میں سلاد پتہ، گاجر، سورج مکھی، آلو اور گندم جیسی فصلیں شامل ہیں۔
چین میں طویل مدتی انسان بردار خلائی پروازوں کا دور اکتوبر 2021 میں شروع ہوا جب شین ژو-13 کے عملے کے ارکان ژائی ژی گانگ، وانگ یا پھنگ اور یے گوانگ فو چین کے خلائی سٹیشن کے مرکزی ماڈیول ’تیان حہ‘ میں منتقل ہوئے۔
چینی خلاباز مرکز کے ماہر بیان چیانگ نے کہا کہ ”خلا میں طویل قیام کے لئے ضروری ہے کہ ہم زمین سے رسد کی فراہمی پر انحصار کم کریں۔ ہمارے کنٹرول شدہ ماحولیاتی حیات معاون تجربات کا مقصد خلا میں ایسا ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے جو وہیں پانی، ہوا اور خوراک کو دوبارہ پیدا کر سکے، اس طرح زمین پر انحصار کم ہو اور بالآخر خود کفالت حاصل کی جا سکے۔“
کنٹرول شدہ ماحولیاتی حیات معاون ٹیکنالوجی ایک مصنوعی طور پر تیار کردہ، بند اور قابو میں رکھے گئے ماحولیاتی نظام کو استعمال کرتی ہے جو مدار میں موجود خلابازوں کی بقا کے لئے درکار ہوا، پانی اور خوراک کو موثر طریقے سے ری سائیکل اور دوبارہ پیدا کرتا ہے۔ اس طرح طویل مدتی انسانی قیام کے لئے موزوں زندگی اور صحت کا معاون نظام قائم کیا جاتا ہے۔
بیان کے مطابق اس وقت خلائی سٹیشن پر پودے اگانے والے 2 طرح کے یونٹس مسلسل کام کر رہے ہیں، ایک سبسٹریٹ کلچر کے ذریعے اور دوسرا ایئروپونکس کے ذریعے۔ دونوں مل کر محققین کو ایک ایسے بنیادی حیات معاون نظام کی تیاری میں قیمتی تجربہ فراہم کر رہے ہیں جس میں بنیادی طور پر طبعی اور کیمیائی ری سائیکلنگ پر انحصار کیا جاتا ہے جبکہ حیاتیاتی طور پر دوبارہ پیدا کرنے کا عمل معاون کردار ادا کرتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے بیان نے کہا کہ چین اپنے قمری تحقیقاتی پروگرام کی پیش رفت کے ساتھ ایک ”قمری سبزی باغ“ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
چین نے خلائی سٹیشن پر پودوں کی 14 اقسام کامیابی سے کاشت کر لیں



