نیروبی(شِنہوا)کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں نیشنل میوزیمز آف کینیا میں چینی فنون کی 2 نمائشیں ، 2ہفتے تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہو گئیں، جنہوں نے کینیا اور چین کے درمیان ثقافتی تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔
دونوں نمائشوں میں مصوری، سرامکس، مجسمہ سازی اور کڑھائی کے ذریعے چینی افسانوی روایات کو کو اجاگر کیا گیا، جبکہ چین کی دیہی احیا، ثقافتی ورثے اور کمیونٹی کی ترقی کو نمایاں کرنے والے فن پارے بھی پیش کیے گئے۔
مغربی کینیا کے شہر ایلڈوریٹ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائش دیکھنے والے کیٹن ڈیسائی نے کہا کہ پینٹنگز “بہت نفیس اور منفرد” ہیں، جبکہ بعض فن پاروں میں چین کی تاریخ اور ترقی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، “مجھے ان فن پاروں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ ان سے ہمیں چینی ثقافت کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی۔”
نیروبی یونیورسٹی میں انٹیریئر ڈیزائنر کے شعبے کے طالب علم مائیکل کونگا نے اپنے جاننے والوں سے نمائش کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد نمائش کا دورکیا۔
کونگا نے کہا، “نمائش میں رکھی گئی پینٹنگز نے مجھے بہت متاثر کیا۔ بطور انٹیریئر ڈیزائنر کینوس، رنگوں کا انتخاب اور روشنی کا انتظام میرے لیے کافی متاثر کن ہے۔ چینی فن خوبصورت اور سادہ ہے۔”
نمائش کے اختتام سے قبل درجنوں اسکول طلبہ نے اساتذہ اور والدین کے ہمراہ گیلری کا دورہ کیا۔
نمائش کے دوران چین کے سیچھوان فائن آرٹس انسٹی ٹیوٹ نے اپنی طرف سے 30 سے زائد فن پارے نیشنل میوزیمز آف کینیا کو عطیہ کیے۔ انسٹی ٹیوٹ کے کیوریٹر ژانگ لیانگ نے یہ فن پارے پیش کیے۔
ژانگ کے مطابق یہ عطیہ میوزیم میں چین اور کینیا کی دوستی کی دیرپا یادگار کے طور پر موجود رہے گا اور چینی فنون اور ثقافت کے بارے میں مزید آگاہی کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔
چینی فنون کی نمائشیں ثقافتی تعلقات مضبوط ہونے کے ساتھ کینیا کے عوام کی توجہ کا مرکز بن گئیں



