پاکستانی نوجوان کا لانگ مارچ کے روٹ کا دوبارہ سفر، فوج اور عوام کے درمیان رشتے کا مشاہدہ

نان چھانگ (شِنہوا) روئی جن کے شاژوبا گاؤں میں واقع ’’ریڈ ویل‘‘ پر پاکستانی طالب علم طلحہ یاسر نیچے بیٹھے، لکڑی کی بالٹی کی رسی کو مضبوطی سے تھاما اور ہاتھوں کی مدد سے اسے کھینچتے ہوئے اوپر لے آئے۔ بالٹی کنویں کے دہانے تک پہنچی تو انہوں نے پانی ہاتھ میں لیا اور ایک گھونٹ پیا۔ پاس کھڑے ریڈ آرمی کے سپاہیوں کی نسل سے تعلق رکھنے والے لیو یانگ کی طرف مڑ کر انہوں نے بس کہا کہ ’’میٹھا ہے۔‘‘
لیو یانگ نے انہیں بتایا کہ یہ کنواں 1933 میں کھودا گیا تھا، جب ماؤ زے دونگ نے فوجیوں اور دیہاتیوں کی قیادت کرتے ہوئے ایک ایک بیلچہ مٹی نکلوائی تھی۔ اس گاؤں میں نسلوں سے پانی کی قلت تھی، یہاں تک کہ لوگوں اور مویشیوں کو پینے کا پانی لانے کے لئے کئی کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ شاژوبا کے لوگ 90 سال سے زائد عرصے سے یہ کہاوت نسل در نسل منتقل کرتے آ رہے ہیں کہ ’’جب بھی پانی پیو، کنواں کھودنے والوں کو کبھی نہ بھولو۔‘‘
اس سال لانگ مارچ کی فتح کو 90 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اکتوبر 1934 میں مرکزی ریڈ آرمی نے جیانگ شی سے تاریخی لانگ مارچ کا آغاز کیا، جو 12 ہزار 500 کلومیٹر طویل سفر تھا۔ 24 سالہ طلحہ گان نان میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور گزشتہ چار برس سے چین میں مقیم ہیں۔ اس موسم گرما میں انہوں نے روئی جن اور یودو سے لانگ مارچ کے آغاز کے راستے پر سفر کیا۔ راستے میں پیدل چلتے اور مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے اس تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کی جس نے چین کی تقدیر بدل دی۔
روئی جن چینی سوویت جمہوریہ کی عبوری مرکزی حکومت کا مرکز تھا اور یہی وہ مقام تھا جہاں لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا۔ طلحہ لیو یانگ کے ساتھ سبزیوں کے کھیت میں گئے اور چند کدو توڑے۔ دونوں نے کدو کاٹ کر ہانڈی میں ڈال دیئے۔ لکڑی کی میز پر سرخ چاول اور کدو کا شوربہ رکھا تھا، جس میں تیل یا نمک برائے نام ہی تھا۔ لیو یانگ نے سوویت دور کی ایک کہاوت سنائی کہ ’’سرخ چاول، کدو کا شوربہ۔ ہر کھانے میں آخری دانے تک سب کچھ صاف کر دو۔‘‘ ریڈ آرمی نے یہ اصول بنا رکھا تھا کہ چاول کا ایک دانہ بھی ضائع نہ کیا جائے اور جو کچھ بچایا جا سکے، اسے انقلاب کے لئے محفوظ رکھا جائے۔
طلحہ نے کہا کہ ’’پاکستان میں بھی ہم نے ایسے لوگوں کے بارے میں سنا ہے جو فوج کی مدد اور حمایت کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پہلے فوج نے لوگوں کا پانی کا مسئلہ حل کرنے میں مدد کی، پھر لوگوں نے اپنی آخری خوراک بھی فوج کے لئے پیش کر دی۔ اس طرح کا اعتماد ایک دو دن میں قائم نہیں ہوتا۔‘‘
لیو یانگ نے دور کی جانب اشارہ کیا۔ لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے روئی جن کے صحت مند اور جوان مرد بڑی تعداد میں فوج میں بھرتی ہونے کے لئے آگے آئے۔ بزرگ اور خواتین پیچھے رہ گئے تاکہ چاول صاف کریں، کپڑا بنیں اور جوتے تیار کریں۔ جب محاذ سے زخمی فوجیوں کو واپس لایا جاتا تو گاؤں کے لوگ باری باری ان کی تیمارداری کرتے۔ طلحہ نے کہا کہ ’’میں پہلے سمجھتا تھا کہ لانگ مارچ صرف آرمی کا ایک سفر تھا۔ آج مجھے سمجھ آیا ہے کہ فوج کے پیچھے ہر شخص کھڑا تھا۔‘‘
جولائی 1934 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی اور مرکزی انقلابی فوجی کمیشن یون شی شان (کلاؤڈ سٹون ماؤنٹین) منتقل ہوئے، جہاں ریڈ آرمی کی حکمت عملی کے تحت منتقلی کے حتمی فیصلے پر غور کیا گیا۔ طلحہ اس چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھے۔ یہ پہاڑی زیادہ بلند نہیں اور یہاں کی نباتات بھی کوئی خاص نمایاں نہیں، لیکن تاریخ نے اسی مقام پر ایک فیصلہ کن موڑ لیا۔
فیصلہ ہو چکا تھا اور روانگی کی گھڑی قریب آ گئی تھی۔ ہواوؤ گاؤں کے پیچھے گاؤں کے پارٹی سیکرٹری ہوا شینگ طلحہ کو چیڑ کے جنگل میں لے گئے اور ایک درخت کے سامنے رک گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ درخت ایک 15 سالہ لڑکے نے لگایا تھا۔‘‘ اکتوبر 1934 میں اس گاؤں کے 17 نوجوان ریڈ آرمی میں بھرتی ہوئے۔ روانگی سے پہلے ہر ایک نے چیڑ کا ایک پودا لگایا۔ انہوں نے عہد کیا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی واپس نہ آ سکا تو زندہ بچ جانے والے ساتھی اس کے والدین کی دیکھ بھال کریں گے اور ان درختوں کی حفاظت کریں گے۔
ہوا شینگ کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا کہ ’’یہ 17 کے 17 نوجوان لانگ مارچ کے دوران مارے گئے۔ ان میں سب سے کم عمر وہی 15 سالہ لڑکا تھا۔‘‘
طلحہ نے آہستہ سے درخت کی چھال پر انگلیاں پھیریں اور دھیمی آواز میں کہا کہ ’’درخت کتنا بڑا ہو گیا ہے۔ جس شخص نے اسے لگایا تھا، وہ کبھی واپس نہیں آیا۔‘‘
پہاڑی کے دامن میں مٹی سے بنا ایک پرانا گھر آج بھی قائم ہے۔ اس کی دیواریں جگہ جگہ سے بوسیدہ اور چھت پست ہے۔ گاؤں والوں نے جان بوجھ کر اسے منہدم نہیں کیا۔ اس کے چاروں طرف جدید دو منزلہ گھر بن چکے ہیں۔ زندگی بدل چکی ہے لیکن پہاڑی پر موجود چیڑ کے وہ 17 درخت آج بھی نسل در نسل اسی طرح محفوظ رکھے گئے ہیں، جیسے وہ گاؤں والوں کے اپنے بزرگوں کی نشانی ہوں۔
یودو میں ایک گھنے کافور کے درخت کے نیچے 82 سالہ کاؤ جیو فا کھجور کے پتوں سے بنی چپلیں تیار کر رہے تھے۔ ان کی انگلیوں کے درمیان تنکے تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔ یہ ہنر انہوں نے اپنے والد سے سیکھا تھا، جنہوں نے گاؤں کے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر ریڈ آرمی کے لئے سینکڑوں جوڑے چپلیں تیار کی تھیں۔ کاؤ کو اپنے والد کی یہ بات یاد ہے کہ فوجیوں کو ایک طویل سفر درپیش تھا اور تنکوں کی چپلیں جلد گھِس جاتی تھیں، اس لئے ایک اضافی جوڑا بھی اہمیت رکھتا تھا۔ انہوں نے طلحہ کو تنکوں کا ایک گٹھا دیا اور کہا کہ ’’آپ بھی بنا کر دیکھیں۔‘‘
طلحہ نے رسی بٹنے کی پہلی دو کوششیں کیں لیکن رسی کھل گئی۔ تیسری کوشش میں وہ کسی حد تک ٹھیک رسی بٹنے میں کامیاب ہو گئے۔ کاؤ نے رسی ان سے لے کر اسے دوبارہ مضبوطی سے بٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس زمانے میں یودو کے ہر گھر میں یہ کام ہوتا تھا۔‘‘ پورے کاؤنٹی میں 2 لاکھ سے زیادہ جوڑے تیار کئے گئے تھے۔ ہلکی پھلکی اور پہاڑی راستوں پر چلنے کے لئے موزوں تنکوں کی چپلیں اس دور میں پیدل سفر کے لئے سب سے عملی جوتا تھیں۔ دو لاکھ جوڑے، ہر ٹانکا، ہر تنکا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا گیا تھا۔
شام کے وقت طلحہ یودو کے مشرقی دروازے کے فیری پوائنٹ پر کھڑے تھے۔ وہاں موجود گائیڈ لیو کیرو نے بتایا کہ اکتوبر 1934 میں مرکزی ریڈ آرمی کی مرکزی فورس کے 86 ہزار سے زائد فوجی یہاں جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے یودو دریا پر قائم آٹھ مقامات سے دریا عبور کیا اور اپنے طویل سفر کا آغاز کیا۔ اسے ’’لانگ مارچ کا پہلا دریائی عبور‘‘ کہا جاتا ہے۔
لیو نے طلحہ کو بتایا کہ یودو کے لوگوں نے کس طرح اپنی آخری چیزیں بھی ریڈ آرمی کے لئے دے دیں۔ راشن کے لئے چاولوں کا آخری پیالہ، وردیوں کے لئے کپڑے کا آخری ٹکڑا، تیرتے پل بنانے کے لئے لکڑی کا آخری تختہ اور میدان جنگ کے لئے اپنا آخری بیٹا بھی قربان کر دیا۔ دریا زیادہ چوڑا نہیں تھا، لیکن اسے عبور کرنے کے اس واقعے نے چین کے انقلاب کے لئے ایک نیا راستہ کھول دیا۔
نوے برس گزرنے کے بعد ہواوؤ کے پیچھے موجود چیڑ کے درخت اب ایک پورا جنگل بن چکے ہیں، جبکہ یودو دریا آج بھی رواں ہے۔ طلحہ نے کہا کہ انہوں نے کتابوں میں لانگ مارچ کے بارے میں پڑھا تھا اور جانتے تھے کہ یہ تاریخ کا ایک عظیم باب ہے۔ لیکن اس راستے پر چلنے کے بعد ہی انہیں احساس ہوا کہ اس عظمت کے پیچھے حقیقی انسانوں کی قربانیاں تھیں، ایسے لوگ جنہوں نے اپنے پیاروں سے جدائی، سخت محنت اور ایسی زندگیاں قربان کرکے یہ راستہ ہموار کیا جو کبھی واپس نہیں آئیں۔
اور ان دنوں کی امیدیں آج ایک بالکل نئی حقیقت میں ڈھل چکی ہیں۔ روئی جن ایئرپورٹ فعال ہے جبکہ یہاں جدید اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی تیاری اور ثقافتی و تخلیقی کھلونوں کی صنعتیں فروغ پا رہی ہیں۔ 2025 میں مقررہ حجم سے زیادہ صنعتی اداروں کی مجموعی آمدنی 33.5 ارب یوآن تک پہنچ گئی۔ یودو دریا کے دوسری جانب ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت نے بھی بڑی ترقی کی ہے۔ یہاں 3,800 سے زائد ادارے قائم ہو چکے ہیں جن کی سالانہ آمدنی 100 ارب یوآن سے تجاوز کر چکی ہے۔ الیکٹرانک اطلاعات اور سیلینیم سے بھرپور زرعی شعبے بھی یہاں جڑ پکڑ رہے ہیں۔ کبھی ریڈ آرمی نے یودو کے لوگوں کی رات بھر محنت سے تیار کی گئی تنکوں کی چپلیں پہن کر اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور آج ’’اچھے ملبوسات، یودو کی تیاری‘‘ دنیا بھر میں پہنچ چکے ہیں۔
طلحہ یودو کے مشرقی دروازے کے فیری پوائنٹ پر کھڑے تھے اور غروب آفتاب کی سنہری روشنی پانی پر بکھری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ روئی جن سے یودو تک پیدل سفر کرتے ہوئے انہوں نے صرف ماضی ہی نہیں بلکہ حال کو بھی دیکھا۔ جن ماؤں نے اپنے بیٹوں کو رخصت کرتے وقت اور جن بیویوں نے اپنے شوہروں کو الوداع کہتے وقت یہ یقین دل میں رکھا تھا کہ آنے والی نسلیں بہتر زندگی گزاریں گی، اس سرزمین کے لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔



  تازہ ترین   
امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام
پوری دنیا ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور استقامت پر حیران ہے: صدر پیوٹن
روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن
خلیجی ممالک کی مدینہ منورہ میں حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت
سعودی وزیر دفاع کے امریکی و فرانسیسی وزرائے دفاع سے رابطے، امن کیلئے اقدامات پر زور
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا
افغان طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی، ڈرون حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر