قاہرہ(شِنہوا)مصر کے سابق وزیراعظم عصام شرف نے کہا ہے کہ چین کا عالمی ترقیاتی اقدام(جی ڈی آئی) ترقی پذیر ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو عالمی نظم و نسق میں مضبوط آواز دینے کے ساتھ ساتھ ترقی کے لیے وسیع تر مواقع فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پائیدار ترقی کے لیے شرف فاؤنڈیشن کے بانی اور چیئرمین شرف نے حالیہ انٹرویو میں شِنہوا کو بتایا، “کئی دہائیوں کی بڑی اقتصادی اور سماجی تبدیلی کے بعد چین نے ترقی کا قابلِ ذکر تجربہ حاصل کیا ہے اور وہ اس تجربے اور اپنی صلاحیتوں کو دوسرے ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے زیادہ آمادہ ہوا ہے۔”
شرف نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جی ڈی آئی کی اہم ترین خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں ترقی کو دوبارہ “عالمی توجہ کے مرکز” میں لایا ہے جب دنیا جغرافیائی سیاسی تنازعات، اقتصادی مسابقت اور مسلسل بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا، “ترقی کو ان تنازعات کا شکار نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے عالمی برادری کی مشترکہ ترجیح برقرار رہنا چاہیے،” اور کہا کہ امن اور ترقی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
شرف نے کہا کہ ایسی دنیا میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہے جہاں ترقی کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہو، اسی طرح تنازعات اور عدم استحکام کے ماحول میں حقیقی ترقی کا حصول بھی مشکل ہے۔
انہوں نے کہا، “اس اقدام سے ملنے والے اہم ترین اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ ترقی میں سرمایہ کاری بیک وقت استحکام، امن اور مستقبل میں سرمایہ کاری بھی ہے۔”
شرف نے کہا کہ جی ڈی آئی ترقی کے بارے میں ایک وسیع تر تصور کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو محض اقتصادی ترقی اور نئے منصوبوں سے آگے بڑھتے ہوئے عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے، غربت کم کرنے، خوراک اور توانائی تک رسائی یقینی بنانے، نیز صحت، تعلیم اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
چین کا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو گلوبل ساؤتھ کو ایک مضبوط آواز فراہم کررہا ہے ،سابق مصری وزیراعظم



