بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین اقوام متحدہ کی منظوری اور بین الاقوامی قانون میں بنیاد کے بغیر یکطرفہ پابندیوں کے ساتھ ساتھ تیسرے ممالک کو ہدف بنانے والی نام نہاد “ثانوی پابندیوں” کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
یہ بیان امریکہ کی جانب سے 18 ستمبر کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026 کو قانون میں بد لنے کے حوالے سے دستخط کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ قانون سازی روس کے خلاف پابندیوں کو مضبوط کرتی ہے، ایران سے متعلق پابندیوں میں توسیع کرتی ہے اور بعض تیسرے ممالک کی جانب سے روسی تیل یا قدرتی گیس درآمد کرنے پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین نے ہمیشہ مساوات اور باہمی مفاد کی بنیاد پر دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ معمول کا اقتصادی اور تجارتی تعاون کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کا تعاون کسی تیسرے فریق کو ہدف نہیں بناتا اور تیسرے فریق کی مداخلت یا دباؤ کے تابع نہیں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین بعد میں امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر گہری نظر رکھے گا اور اپنی قومی خودمختاری اور ترقیاتی مفادات کے ساتھ ساتھ چینی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کے مضبوط تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ترجمان نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ چین کے ساتھ ایک ہی سمت میں کام کرے اور بات چیت اور مشاورت کے ذریعے مستحکم اقتصادی اور تجارتی تعلقات برقرار رکھے، جبکہ عالمی تجارتی نظام اور عالمی صنعتی اور سپلائی چینز کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرے۔
چین کا “ثانوی پابندیوں” کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ پر مستحکم تجارتی تعلقات برقرار رکھنے پر زور



