آسٹریا کے پارلیمانی سپیکر کا یورپ اور چین کے باہمی تجربات سے استفادہ کرنے اور منصفانہ تعاون پر زور

ویانا (شِنہوا) آسٹریا کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، قومی کونسل کے صدر والٹر روزن کرینز نے کہا ہے کہ یورپ کو چین کی ترقی کے حوالے سے تشویش پر مبنی سوچ ترک کرکے باہمی تجربات سے استفادہ کرنے اور منصفانہ تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے روزن کرینز نے کہا کہ چین نے کئی شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور چین کو منصفانہ قواعد کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔
روزن کرینز نے کہا کہ یورپ کی قومی پارلیمانوں کو تعاون کے لئے منصفانہ اور مناسب لائحہ عمل تیار کرنے میں پہل کرنی چاہیے تاکہ یورپ اور چین کے مختلف شعبے باہمی غلط فہمیوں اور تعصبات کو دور کر سکیں، عملی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں، اپنی اپنی صلاحیتوں سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائیں اور مشترکہ ترقی حاصل کریں۔
روزن کرینز نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے چین کا دورہ کیا جو قومی کونسل کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا چین کا پہلا دورہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریا کی سیاسی جماعتوں میں چین کے ساتھ تبادلوں کو مزید فروغ دینے پر وسیع اتفاق رائے اور مضبوط آمادگی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دورے میں وفد نے نہ صرف چین کی قدیم تاریخ و ثقافت کو قریب سے دیکھا بلکہ چین کی جدت کی مہم میں پیدا ہونے والی توانائی اور ترقی کا بھی مشاہدہ کیا۔
اس سال چین اور آسٹریا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ روزن کرینز نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی مسلسل مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
روزن کرینز نے بتایا کہ 1990 کی دہائی سے اب تک دونوں ممالک کے قومی قانون ساز اداروں کے درمیان 60 سے زائد مرتبہ تبادلے اور روابط ہو چکے ہیں۔
55 سالہ باہمی روابط کا ذکر کرتے ہوئے روزن کرینز نے کہا کہ آسٹریا اور چین امن کو اہمیت دیتے ہیں، مسلسل کثیرجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ تعاون کے ذریعے امن کے فروغ اور باہمی مفادات پر مبنی نتائج کے ذریعے ترقی کے حصول کے لئے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے ترقی سے متعلق تصورات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ دونوں ممالک طویل عرصے سے اقوام متحدہ کے لائحہ عمل کے تحت عالمی امن اور ترقی کے لئے کردار ادا کرتے رہے ہیں جبکہ معیشت اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو بھی فروغ دیا ہے جس کے نتیجے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آسٹریا کی 650 سے زائد کمپنیاں چین میں کام کر رہی ہیں جو آسٹریا اور چین کے درمیان تعاون کی مضبوط توانائی اور صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
روزن کرینز نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں مختلف تبدیلیاں اور بے یقینی ایک ساتھ جاری ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت کے نظم ونسق اور علاقائی تنازعات جیسے مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریا اور چین کے قانون ساز ادارے مکالمے اور تعاون کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں، مشترکہ اتفاق رائے پیدا کر سکتے ہیں، عالمی نظم و نسق کے لئے تعاون کے قواعد کو بہتر بنا سکتے ہیں اور عالمی مسائل سے نمٹنے کے لئے اپنی دانش اور صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہیں۔



  تازہ ترین   
امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام
پوری دنیا ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور استقامت پر حیران ہے: صدر پیوٹن
روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن
خلیجی ممالک کی مدینہ منورہ میں حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت
سعودی وزیر دفاع کے امریکی و فرانسیسی وزرائے دفاع سے رابطے، امن کیلئے اقدامات پر زور
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا
افغان طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی، ڈرون حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر