واشنگٹن (شِنہوا) وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر پابندیوں سے متعلق بل پر دستخط کرکے اسے قانونی شکل دے دی ہے۔
بیان کے مطابق ” روس اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے متعلق لنڈسے او گراہم ایکٹ 2026″ نامی اس قانون کے تحت روس پر عائد قانونی پابندیوں، محصولات اور ممانعتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ایران پر عائد موجودہ پابندیوں میں بھی توسیع کی گئی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان نے بدھ کو یہ بل منظور کیا تھا جبکہ سینیٹ نے 7 اگست کو اس کی منظوری دی تھی۔
قانون کے تحت روسی حکام، بینکوں اور روسی توانائی کی مصنوعات کی نقل و حمل کے لئے استعمال ہونے والے بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ روسی تیل یا قدرتی گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان سے آنے والی اشیاء پر 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کر سکیں گے۔
قانون کے تحت ایران پر پابندیوں کے ایکٹ میں بھی پانچ سال کی توسیع کی گئی ہے جس کے تحت ایران کے توانائی اور ہتھیاروں کے شعبوں کو ہدف بنانے والی پابندیاں برقرار رہیں گی۔
اس قانون کو آنجہانی سینیٹر لنڈسے گراہم سے منسوب کیا جا رہا ہے جنہوں نے اس قانون سازی کے لئے بھرپور کوشش کی تھی۔ وہ مختصر اور اچانک علالت کے بعد جولائی میں انتقال کر گئے تھے۔
ایوان نمائندگان میں سینیٹ کے مقابلے میں اس قانون پر قانون سازوں میں زیادہ اختلاف پایا گیا۔
ایوان نمائندگان کے تین ڈیموکریٹ ارکان نے حالیہ مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ قانون فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بنے گااور روس پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے صدر کے محصولات عائد کرنے کے اختیارات میں بہت زیادہ اضافہ کرے گا۔
ٹرمپ نے روس کے خلاف پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیئے



