بیجنگ (شِنہوا) چین کی سائبر سپیس انتظامیہ نے بچوں کے لئے صحت مند اور محفوظ انٹرنیٹ کے استعمال کو یقینی بنانے کی خاطر رہنما اصولوں کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں متعلقہ سروس فراہم کرنے والوں کے لئے متعدد ضوابط تجویز کئے گئے ہیں۔
جاری کردہ مسودے پر 17 اکتوبر تک عوام سے رائے طلب کی گئی ہے۔
مسودے میں بچوں کے لئے خصوصی طور پر ایسے سمارٹ آلات تیار کرنے اور بنانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے مطابق ہوں۔ اس کے علاوہ ایسی انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز اور خدمات کو بھی فروغ دینے کی تجویز دی گئی ہے جو بچوں کی صحت مند نشوونما میں مددگار ہوں۔
مسودے کے مطابق بچوں کو اجنبی افراد کے ساتھ آن لائن سماجی رابطوں، ورچوئل قریبی تعلقات کی خدمات اور ایسی آن لائن خدمات تک رسائی نہیں ہونی چاہیے جو انہیں انٹرنیٹ کا عادی بنائیں یا ان کی جسمانی و ذہنی صحت کے لئے نقصان دہ ہوں۔
مسودے کے مطابق 16 سال سے کم عمر بچوں کو فراہم کی جانے والی آن لائن سماجی رابطوں اور مصنوعی ذہانت سمیت ایسی انٹرنیٹ خدمات جو بچوں کی سوچ اور ادراک کو متاثر کر سکتی ہیں صرف نابالغ موڈ کے ذریعے ہی فراہم کی جا سکیں گی۔
مسودے میں نابالغ موڈ کے افعال کی بھی وضاحت کی گئی ہے جن میں بچوں کی جسمانی و ذہنی صحت کے لئے نقصان دہ آن لائن معلومات کی نشاندہی، بچوں کی ذاتی معلومات سے متعلق حقوق اور مفادات کا تحفظ، انہیں انٹرنیٹ کا عادی ہونے سے روکنا اور سرپرستوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔
چین کی انٹرنیٹ ترقی سے متعلق 57ویں شماریاتی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 تک چین میں 6 سے 19 سال کی عمر کے انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی۔
چائنہ اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نائب سربراہ وانگ ژی چھن نے کہا کہ بچوں کی ذہنی صحت، رویوں اور سلامتی پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک اور خطے حالیہ عرصے میں بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے لئے قانونی عمر کی حد بڑھانے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔
وانگ نے کہا کہ مسودے میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لئے چینی خصوصیات پر مبنی ایک ماڈل تجویز کیا گیا ہے جو بچوں کے آن لائن تحفظ کو مضبوط بنانے کے عالمی رجحان کے حوالے سے ایک مثبت اقدام ہے۔
چین نے بچوں کے آن لائن تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لئے رہنما اصول تیار کرلئے



