کوالالمپور (شِنہوا) جنوب مشرقی ایشیا میں حالیہ ہفتوں کے دوران فضائی معیار بگڑ کر خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے۔ انڈونیشیا کے کلیمانتان اور سماٹرا کے علاقوں میں رواں سال بڑے پیمانے پر جنگلات اور اراضی میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جس کے باعث دھوئیں نے پروازوں کا نظام متاثر کیا، سکول بند کرنا پڑے اور ملک کے بعض علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی۔
ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ سنٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف سٹریٹیجسٹ کیٹ ڈبلیو وونگ نے کہا کہ سرحد پار پھیلنے والا دھواں ایک وسیع مسئلہ ہے جو ملائیشیا، سنگاپور اور فلپائن میں عوامی صحت، تعلیم، نقل و حمل اور سیاحت کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور جس پر قابو پانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی طریقہ کار، جن میں سرحد پار دھوئیں کی آلودگی کے متعلق آسیان معاہدہ بھی شامل ہے، مکالمے اور تکنیکی رابطےکے لئے موثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، تاہم موجودہ نظام اس مسئلے کی بنیادی وجوہات حل کرنے کے بجائے بنیادی طور پر آگ لگنے کے بعد نگرانی اور ردعمل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “موجودہ طریقہ کار میں آگ کو ابتدا ہی میں روکے جانے کے بجائے دھواں پھیلنے کے بعد اس کی نگرانی اور اس سے نمٹنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس طرح ہر ملک کی جانب سے آبی زمینوں کے تحفظ اور بحالی اور زمین کے بہتر استعمال کے انتظام کو یقینی بنانے کی اہم ذمہ داری نظر انداز ہو جاتی ہے۔”
ان کے مطابق آسیان ممالک اور چین کے درمیان زیادہ قریبی رابطہ اور تعاون آفات، بالخصوص علاقائی سطح پر دھوئیں کی آلودگی سے نمٹنے کے لئے موثرحفاظتی اور انتظامی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’سیٹلائٹ سے ریموٹ سینسنگ، موسم کی پیش گوئی، ابتدائی انتباہ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ڈرونز اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے آلات کے شعبوں میں چین کی جدید صلاحیتیں آسیان کی عملی ضروریات سے براہ راست مطابقت رکھتی ہیں۔‘‘
چین۔آسیان تعاون دھند کی روک تھام اور تدارک میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، تھنک ٹینک



