بیجنگ (شِنہوا) شِنہوا نیوز ایجنسی کے زیر اہتمام آل میڈیا ٹاک شو، چائنہ اکنامک راؤنڈ ٹیبل کی تازہ ترین قسط میں شریک ماہرین نے کہا ہے کہ روزگار کی نئی اقسام سے وابستہ کارکن چین کی افرادی قوت کا اہم حصہ ہیں اور ملک کی معاشی و سماجی ترقی میں ان کا کردار ناگزیر ہے۔
چینی اکیڈمی آف لیبر اینڈ سوشل سکیورٹی کے محقق ہوانگ کون نے بتایا کہ روزگار کی نئی اقسام سے وابستہ افرادی قوت میں زیادہ تر انٹرنیٹ پلیٹ فارمز سے منسلک کارکن شامل ہیں، جن میں ڈیلیوری رائیڈرز، آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز، ٹرک ڈرائیورز، انٹرنیٹ مارکیٹرز، لائیو سٹریمنگ میزبان اور آن لائن گھریلو خدمات فراہم کرنے والے افراد شامل ہیں۔
اسٹیٹ انفارمیشن سنٹر کی ایک معروف رپورٹ کے مطابق 2020 میں پلیٹ فارم سے منسلک کارکنوں کی تعداد 8 کروڑ 40 لاکھ تھی۔
بیجنگ کے ضلع شِی چھینگ کے ایک عہدیدار وانگ شیاؤ جون نے پلیٹ فارم سے وابستہ کارکنوں کو ڈیجیٹل معیشت اور حقیقی دنیا کے صارفین کی خریداری کے درمیان رابطے کا ذریعہ قرار دیا۔
وانگ نے کہا کہ یہ کارکن صرف پارسل اور کھانا ہی نہیں بلکہ ادویات، روزمرہ استعمال کی اشیاء اور ہنگامی سامان بھی براہ راست لوگوں کے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔
جے ڈی ہوم سروسز سے وابستہ گھر کی صفائی کرنے والی ژو لی بھی ان متعدد افراد میں شامل ہے جنہوں نے پیداوار کے روایتی شعبے سے پلیٹ فارم معیشت کا رخ کیا ہے۔ وہ پہلے ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی تاہم انہوں نے گھریلو خدمات کے شعبے کو بہتر مواقع رکھنے والا شعبہ سمجھتے ہوئے اسے اختیار کیا۔
ژو نے کہا کہ میری آمدنی پہلے سے بہتر ہے۔ میں مزید سیکھنا چاہتی ہوں، بچوں کی پیدائش کے بعد ماں اور بچے کی دیکھ بھال، بچوں کی نگہداشت اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے شعبوں میں بھی کام کرنا چاہتی ہوں۔
چھونگ چھنگ ہوم سروس ایسوسی ایشن کی سیکرٹری جنرل یانگ جنگ نے زور دیا کہ روزگار کی نئی شکلوں سے وابستہ کارکنوں کو معاشرے میں زیادہ نمایاں مقام دلانے کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طبقے کو خاص طور پر توجہ اور شناخت کی ضرورت ہے۔ ہمیں روزگار کے نئے شعبوں سے وابستہ افراد کے سماجی انضمام کو بہتر بنانا، معاشرے میں ان کی شمولیت کا احساس بڑھانا اور انہیں اپنے اردگرد کی زندگی میں گھلنے ملنے میں مدد دینا ہوگی۔
چین میں روزگار کے نئے شعبے افرادی قوت اور معیشت کی ترقی کے لئے اہم قرار



