ریاض (شِنہوا) ریاض میں مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات سے متعلق چوتھے عالمی فورم کا آغاز ہو گیا جہاں مندوبین نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو تحفظ اور ذمہ داری کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت (یونیسکو) اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والا یہ فورم جمعرات تک جاری رہے گا جس میں سرکاری حکام، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے اور ماہرین و محققین ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔
یونیسکو کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آسا ریگنر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت بے مثال رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے جبکہ نظم و نسق کو رفتار برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ریگنر نے مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق میں مضبوط عالمی تعاون اور منصفانہ شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فورم اس بات کا جائزہ لے گا کہ مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصولوں کو عملی شکل کیسے دی جائے۔
سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی کے صدر عبداللہ بن شرف الغامدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کا نظم و نسق آگے بڑھانا اور پالیسیوں کو اپنی قومی ترجیحات اور ثقافتی تناظر کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر کام کرنے، مشترکہ اصولوں کو عملی جامہ پہنانے اور مصنوعی ذہانت کا نظم و نسق جامع، جوابدہ اور عوامی مفاد میں بنانے کی ضرورت ہے۔
2022 میں اپنے آغاز کے بعد سے یہ فورم حکومت، اکادمی، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے عالمی شراکت داروں کو اکٹھا کرتا رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے اخلاقی نظم و نسق پر مکالمے اور تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے۔
یونیسکو کا مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات سے متعلق فورم ریاض میں شروع، عملی نظم و نسق پر زور



