گوانگ ژو (شِنہوا) نئی توانائی کی گاڑیاں (این ای وی) بنانے والی چینی کمپنیاں گاڑیوں کی برآمد سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان میں اپنی مقامی سرگرمیوں کو مخصوص مصنوعات اور بعد از فروخت خدمات کے ذریعے مزید وسعت دے رہی ہیں کیونکہ پاکستان برقی نقل و حرکت کی جانب منتقلی تیز کر رہا ہے۔
شدید گرمی، وولٹیج میں اتار چڑھاؤ اور عوامی چارجنگ سٹیشنز کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے چینی این ای وی بنانے والی کمپنیاں پاکستانی حالات کے مطابق اپنی مصنوعات تیار کر رہی ہیں اور مقامی سطح پر معیاری بعد از فروخت سروس نیٹ ورک قائم کر رہی ہیں۔
بی وائی ڈی گروپ کے نائب صدر لیو شوئے لیانگ نے کہا کہ ’’پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہو کر اور منصوبے کے مطابق مقامی سطح پر اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے بی وائی ڈی کو امید ہے کہ وہ پاکستان میں جدید الیکٹرک گاڑیاں اور صنعت کی ترقی کا تجربہ لائے گی، ملک کی نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی صنعت کی ترقی کو فروغ دے گی اور پاکستانی صارفین کو آٹوموٹو ٹیکنالوجی کے فوائد سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرے گی‘‘۔
برسات کے موسم کے دوران نمی گاڑیوں کے برقی سرکٹس کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے بی وائی ڈیی نے پاکستان میں گاڑی مالکان کے لئے خدمات کا پروگرام شروع کیا ہے۔ رجسٹرڈ مالکان کو بیٹری، موٹر اور برقی کنٹرول نظام، ہائی وولٹیج تاروں اور چارجنگ پورٹس کے وقتاً فوقتاً مفت حفاظتی معائنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
بی وائی ڈی کے قائم کردہ 3ایس سروس مراکز میں سے ایک سے بعد از فروخت سروس حاصل کرنے کے بعد اطمینان کا اظہار کرتے ہوۓ احمد رشید خان نے کہا کہ ’’مجھے تشویش تھی کہ شدید بارش میری برقی گاڑی کے لئے مسائل پیدا کر سکتی ہے، لیکن مفت معائنے سے ممکنہ خطرات دور کرنے میں مدد ملی اور بعد از فروخت سروس کا ردعمل بھی بہت بروقت تھا‘‘۔
ملک میں دائیں جانب سٹیئرنگ والی گاڑیوں کے ٹریفک قوانین کے مطابق ایک اور چینی کار ساز کمپنی جی اے سی گروپ نے مقامی ڈرائیونگ عادات سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے اپنی اہم گاڑیوں کے ماڈلز میں انسانی مشینی رابطے اور ڈرائیونگ کنٹرولز کو تبدیل کیا ہے۔
زیادہ درجہ حرارت اور بجلی کے نظام میں وولٹیج کے اتار چڑھاؤ سے نمٹنے اور گرمی کے باعث کارکردگی میں کمی، چارجنگ میں ناکامی اور وولٹیج کے حد سے تجاوز جیسے مسائل کی روک تھام کے لئے جی اے سی نے بیٹری کے درجہ حرارت کو منظم کرنے کے نظام کو بہتر بنایا ہے تاکہ اس کی گاڑیاں پاکستان کے ڈرائیونگ ماحول سے زیادہ مطابقت رکھ سکیں۔
نئی توانائی کی گاڑیاں بنانے والی چینی کمپنیاں پاکستان میں برقی گاڑیوں کی صنعت میں منتقلی تیز کر رہی ہیں



