صحافت کی قبر پر کون کھڑا ہے؟
صحافت مر نہیں رہی اسے مارا جا رہا ہے۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسے مارنے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو برسوں سے اس کی حفاظت کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ آج کا صحافی دوسروں کے دکھ لکھتے لکھتے اپنے دکھوں کا اسیر ہو چکا ہے۔ وہ مہنگائی پر خبر بناتا ہے مگر اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کے لئے پریشان ہے۔ وہ بجلی کے بلوں پر عوام کا مقدمہ لڑتا ہے مگر اپنے گھر کا بل دیکھ کر خود لرز جاتا ہے۔ وہ پٹرول کی قیمت بڑھنے کی خبر دیتا ہے مگر اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلوانے سے پہلے جیب ٹٹولتا ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق کی جنگ لڑتا ہے مگر اپنے حقِ محنت کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صحافی کے دکھوں کا مداوا کون کرے گا؟
کبھی صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا تھا۔ آج اسی ستون کے نیچے کھڑا صحافی خود سہارا ڈھونڈ رہا ہے۔ مہنگائی نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔ گھر کا کرایہ بڑھ گیا، بجلی کا بل آسمان پر پہنچ گیا، پٹرول مہنگا ہو گیا، بچوں کی تعلیم کے اخراجات کئی گنا بڑھ گئے، علاج معالجہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور دوسری طرف میڈیا اداروں میں ملازمت کا تحفظ تقریباً ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ کسی بھی دن ایک مختصر سا پیغام آتا ہے اور برسوں سے کام کرنے والا صحافی یا میڈیا ورکر دفتر کے دروازے سے واپس کر دیا جاتا ہے۔ نہ اس کی برسوں کی خدمت کا حساب، نہ اس کے بچوں کا خیال، نہ واجبات کی فکر۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جو شخص صبح سے رات تک معاشرے کے مسائل تلاش کرتا ہے، اپنی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا۔ وہ اپنے ایڈیٹر کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ صاحب میرے گھر کا کرایہ باقی ہے۔ وہ اپنے بچوں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آج ابو کے پاس فیس کے پیسے نہیں۔ وہ اپنے بجلی کے بل کو دیکھ کر پریشان ہوتا ہے مگر اگلے دن پھر دفتر پہنچتا ہے اور قلم اٹھا لیتا ہے۔ شاید اسی کیفیت پر یہ شعر صادق آتا ہے
قلم ہاتھ میں رکھا ہے تو پھر بولنا ہوگا
اندھیروں کے مقابل ہمیں خود روشنی ہونا ہوگا
مگر سوال صرف معاشی بحران کا نہیں۔ سوال اس پورے نظام کا ہے جس نے صحافی کارکن کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی بقا اور اپنے پیشے کی حرمت کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہے۔ ایک طرف مالکان کے معاشی مسائل اپنی جگہ ہیں۔ اشتہارات کا بحران ہے۔ اخبارات کی سرکولیشن متاثر ہوئی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے روایتی میڈیا کے کاروباری ڈھانچے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اداروں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ ہم ان حقائق سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ ہر مسئلے کا ذمہ دار میڈیا مالک ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بحران کا سارا بوجھ صرف کارکن کے کندھوں پر کیوں ڈالا جائے؟
اگر ادارہ مشکل میں ہے تو قربانی صرف کارکن کیوں دے؟ اگر اخراجات بڑھ گئے ہیں تو سب مل کر کیوں نہیں بیٹھتے؟ اگر ادارے کو بچانا ہے تو کارکن کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جاتا؟ اور اگر کسی صحافی کو فارغ کرنا ناگزیر ہو جائے تو اس کے واجبات اور قانونی حقوق کی ادائیگی کیوں نہیں کی جاتی؟ یہ سوال کسی تصادم کے نہیں بلکہ انصاف کے سوال ہیں۔
اور یہاں سے بات صحافتی تنظیموں تک پہنچتی ہے۔ وہ تنظیمیں جو کبھی کارکن کی ڈھال ہوا کرتی تھیں، ان سے آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کارکن کہاں ہے؟ جس صحافی نے اپنے خون پسینے سے ان تنظیموں کو طاقت دی، کیا اسے کبھی یہ حق بھی دیا گیا کہ وہ پوچھ سکے کہ اس کے نام پر حاصل کیا جانے والا اختیار کہاں خرچ ہوا؟ کیا تنظیم کا منصب کارکن کے مسائل حل کرنے کے لئے ہے یا کسی فرد کے ذاتی سیاسی اور معاشی مستقبل کی سیڑھی بننے کے لئے؟
ہمارا ایسے کسی گروہ اور ایسے کسی دھڑے سے کوئی تعلق نہیں جو صحافیوں کے حقوق کے نام پر صحافت کو اپنی ذاتی سیاست کی سیڑھی بنائے۔ ہمارا تعلق ان لوگوں سے بھی نہیں جو ووٹ کی پرچی منہ میں چبا کر انتخابی فتح کا ڈھونگ رچانے کے الزامات کے باوجود صحافتی نمائندگی کے دعوے کرتے رہے، پھر پی ایف یو جے کو دھڑوں میں تقسیم کرنے کی مذموم سیاست کا حصہ بنے، سیاست کے ایوانوں تک پہنچے اور وزارتوں کے منصب حاصل کئے، جبکہ ان کے قریبی ساتھی صحافتی دھڑوں کی قیادت پر قابض ہو گئے۔ اس کے بعد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے ساتھ جو کچھ ہوا، جس طرح کارکنوں کے معاشی حقوق کے سوالات اٹھے اور جس انداز میں صحافتی تنظیمی طاقت کے ذاتی استعمال کے الزامات سامنے آئے، وہ سب صحافتی برادری کے سامنے ہے۔
اگر کسی بڑے ادارے میں اسی طرح کی تنظیمی قیادت سے وابستہ افراد کو غیر معمولی عہدے اور مراعات ملنے پر سوال اٹھتے ہیں تو ان سوالات کا جواب بھی آنا چاہئے۔ صحافت سوال پوچھنے کا نام ہے اور جو شخص دوسروں سے سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے اسے اپنے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہئے۔
میرا ایسے تمام دھڑوں کے علمبرداروں کو دوٹوک پیغام ہے کہ اب وقت احتساب کا ہے۔ صحافی کارکنوں کے نام پر حاصل کیا گیا ہر اختیار، ہر عہدہ اور ہر مراعت اب سوال کے دائرے میں آئے گی۔ جن لوگوں پر صحافیوں کے معاشی حقوق پامال کرنے، کارکنوں کے روزگار کے خاتمے یا صحافتی طاقت کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے کے الزامات ہیں انہیں جواب دینا ہوگا۔ ہم کسی کی ذاتی دشمنی نہیں چاہتے، مگر صحافی کے حق پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کریں گے۔ جس کارکن نے اپنی جوانی صحافت کو دی ہے اس کے روزگار، عزت اور حقِ محنت کو کسی فرد کی سیاسی دکانداری کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اور ان تمام لوگوں کے لئے بھی ہمارا واضح پیغام ہے جو ایسے کرداروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ صحافت کسی فرد کی جاگیر نہیں اور صحافتی تنظیم کسی کی ذاتی چراگاہ نہیں۔ اگر کوئی شخص صحافیوں کے نام پر اپنے مفادات کی حفاظت کرتا ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہئے۔ اگر کوئی بلیک میلنگ کرتا ہے تو اسے بے نقاب کیا جانا چاہئے۔ اگر کوئی مالکان اور کارکنوں دونوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے تو صحافتی برادری کو اس کے کردار پر سوال اٹھانا چاہئے۔ ہم دھمکی کی سیاست نہیں کرتے مگر اب خاموش بھی نہیں رہیں گے۔
ہماری لڑائی مالکان سے نہیں بلکہ ناانصافی سے ہے۔ ہم تمام میڈیا مالکان سے کہنا چاہتے ہیں کہ آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ آپ کے مسائل سنیں گے، حکومت کے سامنے آپ کی مشکلات رکھیں گے اور میڈیا صنعت کے تحفظ کے لئے آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ مگر اس کے ساتھ ہماری بھی ایک گزارش ہے کہ اپنے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے جائز حقوق ادا کریں۔ جن کے واجبات باقی ہیں انہیں ادا کریں۔ جن کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں انہیں تنخواہیں دیں۔ جن لوگوں نے برسوں آپ کے اداروں کے لئے کام کیا ہے انہیں محض ایک کاغذ یا ایک پیغام کے ذریعے بے روزگار نہ کریں۔
چھانٹی اگر ناگزیر ہے تو بھی انسانیت، قانون اور انصاف کو سامنے رکھا جائے۔ قربانی دینی ہے تو سب مل کر دیں۔ مالکان بھی دیں، کارکن بھی دیں، تنظیمیں بھی دیں اور قیادت بھی دے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ چند لوگ اپنے مفادات محفوظ کر لیں اور ہزاروں کارکن اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر میں راتیں جاگتے رہیں۔
آج کا صحافی صرف معاشی بحران کا شکار نہیں بلکہ شدید ذہنی اذیت سے بھی گزر رہا ہے۔ ہر روز اسے یہ خوف کھاتا ہے کہ کل اس کی ملازمت ہوگی یا نہیں۔ ہر ماہ اسے یہ فکر ہوتی ہے کہ تنخواہ وقت پر ملے گی یا نہیں۔ ہر بل اسے یہ یاد دلاتا ہے کہ اس کی آمدن اور اخراجات کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں صحافت کی آزادی کا نعرہ تو بہت خوبصورت لگتا ہے مگر اس آزادی کی اصل قیمت وہ صحافی ادا کر رہا ہے جو اپنے گھر کے چولہے کے لئے پریشان ہے۔
اسی لئے پی ایف یو جے جرنلسٹ گروپ کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم نہ بلیک میلر ہیں، نہ بلیک میلنگ کریں گے اور نہ کسی کو بلیک میلنگ کی اجازت دیں گے۔ ہم نہ کسی سیاسی جماعت کے نمائندے ہیں اور نہ کسی میڈیا مالک کے ذاتی مفادات کے محافظ۔ ہمارا تعلق صرف صحافی کارکن سے ہے اور ہماری وفاداری صحافت کی آزادی، صحافی کے روزگار اور اس کے بنیادی حقوق کے ساتھ ہے۔
ہم پرنٹ میڈیا کو دفن ہونے نہیں دیں گے۔ یہ وہ میڈیا ہے جس نے پاکستان کی سیاسی، سماجی اور جمہوری تاریخ لکھی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا ایک نئی حقیقت ہے اور اس کے کارکنوں کے حقوق بھی ہماری ذمہ داری ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کارکن بھی ہمارے اپنے ہیں۔ ہماری جدوجہد کسی ایک شعبے کے لئے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو قلم، کیمرے، مائیک یا کمپیوٹر کے ذریعے عوام تک خبر پہنچا رہا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا نے صحافت کے لئے نئے دروازے ضرور کھولے ہیں مگر اس کے ساتھ شور، غیر ذمہ دارانہ بیانیے اور کردار کشی کے نئے دروازے بھی کھلے ہیں۔ ایسے ماحول میں اصل صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تحقیق، توازن، دلیل اور ذمہ داری کے ساتھ کی جانے والی صحافت ہی وہ چراغ ہے جو اس اندھیرے میں راستہ دکھا سکتی ہے۔یہاں وزارت اطلاعات ونشریات کے وفاقی وزیر اوروزارت کے سیکرٹری ،پی أٸی او سمیت دیگر میڈیا کے معاملات کو سرکاری سطح پر پرکھنے والے تمام اداروں اور ان کے سرپرستوں سےبھی میری یہی گزارش ہے کہ ووٹ کی پرچی کھانے والے ان نام نہاد صحافتی لیڈروں سے مت گھبراٸیں ہم أپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر أپ کے فیصلے صحافتی ورکرز اور میڈیا کارکنوں کے حق میں میرٹ پر ہوٸے تو ہم أپ کو کسی بھی صحافتی گروپ کی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہونے دیں گے لہذا اب وقت آ گیا ہے کہ صحافت کو ذاتی مفادات، سیاسی سودے بازی اور تنظیمی دھڑے بندی سے نکالا جائے۔ صحافتی تنظیمیں دوبارہ کارکن کے گھر تک پہنچیں۔ ان لوگوں کے دروازے پر جائیں جو کئی کئی ماہ کی تنخواہوں کے منتظر ہیں۔ ان صحافیوں کے بچوں کا سوچیں جن کے باپ آج روزگار کے لئے پریشان ہیں۔ ان میڈیا ورکرز کا مقدمہ لڑیں جنہیں برسوں خدمت کے بعد ایک لمحے میں بے روزگار کر دیا گیا۔
ہم راولپنڈی اسلام آباد سے کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملک کے ہر شہر کے صحافیوں سے کہتے ہیں کہ آگے بڑھیں، اپنی تجاویز دیں، اختلاف کریں، سوال اٹھائیں مگر اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔ ہم ایک ایسی صحافتی تحریک چاہتے ہیں جو کسی فرد کے گرد نہیں بلکہ اصول کے گرد کھڑی ہو۔ جو کسی دھڑے کی جاگیر نہیں بلکہ پورے صحافتی کارکن کی آواز ہو۔
اور آخر میں صرف اتنا کہ صحافت کا جنازہ اٹھانے والوں کو شاید یہ اندازہ نہیں کہ صحافی کا قلم ابھی زندہ ہے۔ اس قلم نے آمریتیں دیکھی ہیں، سنسرشپ دیکھی ہے، قید و بند دیکھی ہے، معاشی دباؤ دیکھا ہے اور سیاسی انتقام بھی دیکھا ہے۔ مگر یہ قلم آج بھی سوال پوچھ رہا ہے۔
ہم سے قلم چھین لو گے تو سوال کون کرے گا
ہم کو خاموش کر دو گے تو جواب کون مانگے گا
یہ جنگ کسی فرد کے خلاف نہیں۔ یہ جنگ اس نظام کے خلاف ہے جس نے صحافی کو معاشی جنگ میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ یہ جنگ اس سوچ کے خلاف ہے جو صحافت کو ذاتی مفاد کی سیڑھی سمجھتی ہے۔ یہ جنگ اس رویے کے خلاف ہے جو کارکن کو استعمال کرکے اسے بھول جاتا ہے۔
ہم کسی سے رعایت نہیں مانگتے۔ ہم صرف اپنا حق مانگتے ہیں۔ صحافی کا حق، میڈیا ورکر کا حق، قلم کا حق اور سب سے بڑھ کر سچ بولنے کا حق۔
صحافت بچے گی تو سوال زندہ رہے گا، سوال زندہ رہے گا تو جمہوریت زندہ رہے گی اور جمہوریت زندہ رہے گی تو عوام کی آواز کبھی دفن نہیں ہوگی۔



