پنجاب اس وقت صرف مسائل کا صوبہ نہیں، سوالات کا صوبہ بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت نے کتنے منصوبوں کے افتتاح کیے، سوال یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں کتنی آسانی آئی۔ سوال یہ نہیں کہ سرکاری اشتہارات میں کتنی کامیابیاں گنوائی گئیں، سوال یہ ہے کہ گلی میں کھڑا گندا پانی کب ختم ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ سرکاری عمارتوں پر کس کی تصویریں کتنی بڑی ہیں، سوال یہ ہے کہ اس عمارت کے دروازے پر کھڑا غریب شہری اپنی عزت اور اپنا کام لے کر کب واپس جائے گا۔ پنجاب کے عوام سے کہا جاتا ہے کہ ترقی ہو رہی ہے، مگر عوام پوچھتے ہیں کہ یہ ترقی آخر کہاں ہے؟ کاغذوں میں، اشتہارات میں، افتتاحی تختیوں پر یا اس زندگی میں جسے ایک عام پاکستانی روزانہ جھیل رہا ہے؟ پنجاب حکومت یقیناً متعدد ترقیاتی منصوبے چلا رہی ہے، اور سرکاری ریکارڈ میں سڑکوں، پانی، صفائی، زراعت اور سماجی بہبود سمیت کئی منصوبے موجود ہیں۔ مگر حکمرانی کا اصل امتحان فائلوں میں نہیں، عوام کے چہروں پر ہوتا ہے۔ اور جب عوام کے چہروں سے اطمینان غائب ہو اور سوالات بڑھتے جائیں تو پھر اقتدار کے ایوانوں کو اپنے آئینے بدلنے کے بجائے اپنا چہرہ دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی مایوسی کے موسم میں محسن نقوی کی ایک تصویر سامنے آتی ہے اور اچانک منظر کچھ بدلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ طاقتور وزارتِ داخلہ کے سربراہ، صاحبِ اختیار، آسودہ حال اور اقتدار کے انتہائی بلند حلقوں میں شمار ہونے والے محسن نقوی عام مسافروں کے درمیان اکانومی کلاس میں سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تصویر 15 ستمبر 2026 کو سوشل میڈیا پر گردش میں آئی اور رپورٹ کے مطابق وہ متحدہ عرب امارات سے پاکستان واپسی کے سفر میں عام مسافروں کے ساتھ اکانومی کلاس میں بیٹھے تھے۔ شاید یہی وہ معمولی سا منظر ہے جس کی اس وقت پاکستان کے مایوس نوجوان کو غیر معمولی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ نوجوان اب تقریروں سے تھک چکا ہے، دعووں سے اکتا چکا ہے، تصویری ترقی سے بے زار ہے اور اس سیاسی کلچر سے دل برداشتہ ہے جس میں عوام کو قربانی کا درس دیا جاتا ہے مگر اقتدار والوں کے لیے سہولتوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ ایسے میں ایک طاقتور وزیر کا عام مسافر کی نشست پر بیٹھنا کوئی انقلاب نہیں، کوئی معجزہ نہیں، کوئی مکمل کارکردگی کا سرٹیفکیٹ بھی نہیں، مگر یہ ضرور ایک علامت ہے۔ ایک ایسی علامت جس نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا ہے کہ کیا حکمران واقعی عوام کے درمیان رہ کر بھی حکمران رہ سکتا ہے؟
پاکستان کا مسئلہ صرف مہنگائی نہیں، احساسِ محرومی کی مہنگائی بھی ہے۔ مسئلہ صرف بے روزگاری نہیں، امید کے روزگار سے محرومی بھی ہے۔ مسئلہ صرف بجلی کا بل نہیں، یہ احساس بھی ہے کہ جو شخص بل ادا کر رہا ہے، اس کی آواز اقتدار کی میز تک نہیں پہنچ رہی۔ ایک طرف نوجوان ڈگریاں اٹھائے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں، دوسری طرف کاروباری طبقہ معاشی دباؤ کی شکایت کر رہا ہے، متوسط طبقہ اپنی ضروریات کاٹ رہا ہے اور غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے حساب میں الجھا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں جب حکمرانوں کی زندگی عوام کی زندگی سے بہت مختلف دکھائی دیتی ہے تو غصہ پیدا ہوتا ہے، فاصلے پیدا ہوتے ہیں اور پھر سیاست پر اعتماد کم ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محسن نقوی کی اکانومی کلاس والی تصویر نے لوگوں کی توجہ کھینچی۔ تصویر میں نہ کوئی بڑا قافلہ ہے، نہ شاہانہ منظر، نہ مصنوعی عوامی جلسہ، نہ کیمروں کے سامنے کسی غریب کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی اداکاری؛ بس ایک نشست ہے، ایک سفر ہے اور عام لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا ایک صاحبِ اختیار شخص۔ بسا اوقات سیاست کے بڑے بڑے اشتہارات سے زیادہ ایک سادہ منظر دل پر اثر کر جاتا ہے۔
یہاں پنجاب حکومت کا سوال بھی پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔ مریم نواز حکومت اپنی کارکردگی کے لیے صحت، سڑکوں، صفائی، زراعت، نوجوانوں اور سماجی بہبود کے متعدد منصوبے پیش کرتی ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں 2026-27 کے لیے بڑے ترقیاتی پروگرام، کسانوں کے لیے قرض، ٹریکٹر اسکیمیں، پانی کے منصوبے اور مختلف بنیادی ڈھانچے کے منصوبے درج ہیں۔ مگر سوال پھر وہی ہے: حکومت کی اصل کامیابی منصوبوں کی تعداد ہے یا ان کا نتیجہ؟ اگر سڑک بنے تو شہری کو سفر میں آسانی ملنی چاہیے، اگر ہسپتال بنے تو مریض کو علاج ملنا چاہیے، اگر صفائی کا منصوبہ ہو تو گلی سے بدبو اٹھنا بند ہونی چاہیے، اگر نوجوانوں کے نام پر منصوبہ ہو تو نوجوان کو مستقبل نظر آنا چاہیے۔ ورنہ منصوبوں کی فہرستیں بڑھتی رہیں گی اور عوام کی شکایات بھی بڑھتی رہیں گی۔ حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کا شہری سرکاری اشتہار دیکھ کر قائل نہیں ہوتا، وہ اپنی زندگی دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔
اور پھر تشہیر کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ عوامی منصوبوں پر حکمرانوں کی تصاویر، سرکاری وسائل سے تشہیر اور سیاسی شخصیت کو منصوبوں کے ساتھ مسلسل جوڑنے کے رجحان پر سوال اٹھانا کسی حکومت کی مخالفت نہیں، جمہوری احتساب کا حصہ ہے۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں پنجاب کے سرکاری طیارے کے مبینہ استعمال پر بھی سیاسی تنازع کھڑا ہوا۔ اپوزیشن رکن نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ کے لندن سفر پر سرکاری خزانے سے اخراجات ہوئے، جبکہ پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نے سفر کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ یہاں فیصلہ سیاسی شور سے نہیں بلکہ شفاف سرکاری ریکارڈ سے ہونا چاہیے۔ مگر اس تنازعے نے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کر دیا ہے: عوام کے پیسے کے معاملے میں حکمرانوں کو صرف قانونی طور پر نہیں، اخلاقی طور پر بھی بے داغ نظر نہیں آنا چاہیے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں محسن نقوی کی تصویر ایک سیاسی علامت بن جاتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اکانومی کلاس میں بیٹھ جانے سے ملک کے تمام مسائل حل ہو گئے، نہ یہ کہ ایک تصویر کسی وزیر کی پوری کارکردگی کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ سیاست میں علامتوں کی اپنی زبان ہوتی ہے، اور اس وقت پاکستان کے نوجوان اس زبان کو بہت غور سے پڑھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کون ان کے درمیان آتا ہے اور کون ان سے فاصلے بناتا ہے۔ کون سادگی اختیار کرتا ہے اور کون آسائش کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ کون عوامی وسائل کو امانت سمجھتا ہے اور کون انہیں اقتدار کا استحقاق سمجھتا ہے۔ یہی وہ چھوٹے چھوٹے فرق ہیں جو بڑے سیاسی تاثر پیدا کرتے ہیں۔ محسن نقوی کا اکانومی کلاس میں بیٹھنا اسی لیے ایک خوشگوار منظر بن گیا ہے کہ اس وقت پاکستانی سیاست کو شاید سب سے زیادہ ضرورت فاصلہ کم کرنے کی سیاست کی ہے۔
محسن نقوی کے پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ رہنے کا دور بھی اسی بحث میں بار بار آتا ہے۔ وہ جنوری 2023 سے فروری 2024 تک نگران وزیرِ اعلیٰ رہے۔ ان کے دور کے حامی ان کی انتظامی رفتار اور مختصر مدت میں کیے گئے اقدامات کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ کسی بھی سابق حکومت کی طرح ان کے دور کو بھی مکمل غیر جانب دارانہ پیمانے پر پرکھنے کے لیے منصوبوں کے نتائج، اخراجات اور ادارہ جاتی اثرات دیکھنا ضروری ہے۔ لیکن آج کی بحث کا اصل مرکز محسن نقوی کا ماضی نہیں، ان کی وہ موجودہ تصویر ہے جس نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا اقتدار انسان کو عوام سے دور کرنے کے لیے ہے یا عوام کے قریب لانے کے لیے؟ اگر ایک وزیرِ داخلہ عام مسافر کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے تو باقی صاحبانِ اختیار بھی کم از کم یہ سوچ سکتے ہیں کہ اقتدار کی اصل عظمت کتنی بڑی گاڑی، کتنے محافظوں اور کتنے پروٹوکول میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ عام آدمی اپنے حکمران کو دیکھ کر یہ محسوس کرے کہ یہ شخص ہم سے بہت دور نہیں۔
اقبال نے کہا تھا:
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے،
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔
مگر آج کے پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان اٹھنا چاہتا ہے، مگر اسے راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے، مگر روزگار نہیں۔ وہ کاروبار کرنا چاہتا ہے، مگر معاشی بے یقینی اسے روک دیتی ہے۔ وہ پاکستان چھوڑنا نہیں چاہتا، مگر حالات اسے باہر جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی وہ نوجوان ہے جس کے لیے محسن نقوی کی اکانومی کلاس والی تصویر ایک لمحاتی امید بن کر آئی ہے۔ ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا، جو یہ کہتا محسوس ہوتا ہے کہ شاید اب بھی سیاست میں سادگی کی گنجائش باقی ہے، شاید اب بھی اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکل کر عوام کے درمیان بیٹھا جا سکتا ہے، شاید اب بھی کسی وزیر کو یہ احساس ہو سکتا ہے کہ عوام صرف ووٹر نہیں، اس ریاست کے اصل مالک ہیں۔
لیکن یہاں محسن نقوی کے لیے بھی اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ تصویر کو کردار بنانا ہوگا، نشست کو طرزِ حکمرانی بنانا ہوگا، اور سادگی کو پالیسی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر اکانومی کلاس صرف ایک تصویر ہے تو کل یہ تصویر بھی باقی سیاسی تصویروں کے ڈھیر میں کہیں گم ہو جائے گی۔ لیکن اگر یہی سادگی عوامی مسائل کی ترجیح، قانون کی یکساں عمل داری، نوجوانوں کے روزگار، کاروباری آسانی، ریاستی وسائل کی حفاظت اور عام شہری کے احترام میں نظر آئے تو پھر یہ تصویر محض ایک وائرل تصویر نہیں رہے گی بلکہ ایک مختلف سیاسی رویے کی علامت بن سکتی ہے۔
پنجاب کی حکومت سمیت ملک کے ہر حکمران کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام اب صرف افتتاحی تختیاں نہیں دیکھتے، وہ حساب بھی دیکھتے ہیں۔ وہ صرف سرکاری اشتہار نہیں پڑھتے، اپنے گھر کا بجٹ بھی دیکھتے ہیں۔ وہ صرف وزیروں کی تقریریں نہیں سنتے، اپنی زندگی کا شور بھی سنتے ہیں۔ اور جب یہی عوام کسی طاقتور وزیر کو اپنے درمیان ایک عام نشست پر بیٹھا دیکھتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اقتدار کی دیوار میں کہیں ایک کھڑکی اب بھی باقی ہے۔
محسن نقوی کی یہ تصویر اس وقت پاکستان کے مایوس نوجوان کے لیے اسی کھڑکی کی مانند ہے۔ اسے امید کا پورا سورج قرار دینا شاید جلد بازی ہوگی، مگر اسے امید کی ایک کرن کہنا بھی غلط نہیں۔ کیونکہ اس ملک کو اس وقت ایسے ہی چھوٹے چھوٹے اشاروں کی ضرورت ہے جو عوام اور حکمران کے درمیان موجود خلیج کو کم کریں۔ پاکستان کو ایسے حکمران درکار ہیں جو عوام سے بلند ہونے کے بجائے عوام کے درمیان کھڑے ہوں، جو سرکاری خزانے کو اپنی جاگیر نہیں بلکہ امانت سمجھیں، جو وزارت کو اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھیں، اور جو یہ جانتے ہوں کہ تاریخ میں بڑے محل، لمبے قافلے اور بھاری پروٹوکول کسی انسان کو بڑا نہیں بناتے۔ انسان بڑا ہوتا ہے تو اپنے عمل سے، اپنے کردار سے، اپنے فیصلوں سے اور اس وقت بڑا ہوتا ہے جب وہ طاقت کے باوجود عام آدمی کی طرح جینا جانتا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ محسن نقوی کی اکانومی کلاس والی تصویر آج ایک سوال بھی ہے اور ایک امید بھی۔ سوال ان سب کے لیے جو اقتدار کو آسائش سمجھتے ہیں، اور امید ان سب کے لیے جو اب بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں عوام اور حکمران کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔ مایوسی کے اس گھنے موسم میں اگر ایک سادہ سفر نوجوان کے دل میں امید جگا سکتا ہے تو پھر شاید مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، نیت اور ترجیحات کی کمی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں مزاحمت جنم لیتی ہے۔



