تحریر: نوید اشرف خان (واہ کینٹ)
ہم دو انتہاؤں میں زندہ رہنے والی قوم ہیں۔
آج سپانٹک چوٹی سر کرنے کے دوران فوت ہو جانے والی ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جنازہ اور تدفین لاہور میں کر دی گئی۔ 20 اگست سے لے کر آج 9 ستمبر، ان انیس ایام میں اس موضوع پر بہت بات کی جا چکی۔ آج چونکہ ڈاکٹر اسماء مشتاق مرحوم کی نماز جنازہ اور تدفین کی جا چکی ہے تو تمام گزشتہ سوالات، اعتراضات بھی مرحومہ کی میت کے ساتھ دفن کیے جا چکے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ کریم مرحومہ کی سستیوں، کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر فرما کر مرحومہ کی مغفرت فرمائیں۔
آج ان کے جنازے پر ایک اجتماعی بے حسی کا ایسا منظر دیکھنے کو ملا جو بحیثیت قوم ہماری پستی کا آئینہ دار ہے اور اس کے ساتھ ان تمام خواتین کی آنکھیں کھولنے کے لیے بھی کافی ہے جو سماج کی مخالفت کے باوجود ڈاکٹر اسماء مشتاق جیسے دلیرانہ شوق رکھتی ہیں۔
میں آج پھر چند سوال آپ کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔
کچھ عرصہ قبل سہیل سخی براڈ پیک کا جنازہ ہنزہ میں ہوتا ہے، دو روز قبل سید علی میاں فلک سر کا جنازہ سوات میں ہوتا ہے۔ ہنزہ اور سوات دونوں جگہ عوام کا ایک جم غفیر جمع ہوتا ہے، سیاسی، سماجی شخصیات جنازہ میں شریک ہوتی ہیں، اعلیٰ انتظامی افسران، فوجی افسران، پولیس اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ جنازہ میں شریک ہوتے ہیں۔ سہیل سخی اور سید میاں علی کی میت کو جلوس کی شکل میں جنازہ گاہ میں لایا جاتا ہے۔ بلکہ میاں صاحب کو باقاعدہ گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا ہے۔ اور ان دونوں حضرات کو سرکاری اعزازات کے ساتھ سپرد خاک کیا جاتا ہے۔ اور یہ سب ان کے شایانِ شان بھی تھا۔
لیکن آج ایسے ہی ایک واقعہ میں جان کی بازی ہار جانے والی خاتون کو خاموشی سے دفنا دیا جاتا ہے۔
یہاں پنجاب حکومت ذمہ دار ہے؟
لاہور کے رہائشی خود ذمہ دار ہیں؟
یا انتظامیہ اور ادارے اس بے حسی کے ذمہ دار ہیں؟
یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔
یہ دوہرا معیار کیا صرف اس لیے تھا کہ جس کا جنازہ تھا وہ ایک عورت تھی؟
کیا کسی خاتون کے جنازہ میں عام مسلمانوں کی شرکت شرعاً ممنوع ہے؟
یہ تینوں افراد جن کا ذکر کیا گیا، ان کی میتیں کافی دنوں بعد ملیں۔ چہرہ تو کسی کا دیکھنا بنتا ہی نہیں تھا۔ خاتون کا جنازہ تو ویسے بھی فوراً سلام پھیرنے کے بعد محرم تدفین کے لیے اٹھا لیتے ہیں۔ تو آج مرحومہ کے جنازہ پر لاہور شہر کیوں نہیں امڈ آیا؟
خوازہ خیلہ اور ہنزہ کی طرح۔
کیا ہم آج بھی معاشرتی طور پر کسی خاتون کو بحیثیت خاتون کسی بھی عملی میدان میں تسلیم کرنے کو تیار نہیں؟
بحث یہ نہیں کہ مرحومہ کا پہاڑ پر جانا ٹھیک تھا یا نہیں؟
آج موضوع یہ بھی نہیں کہ عورت کوہ پیما ہو یا نہ ہو۔
عورت و مرد کی برابری پر بھی آج کلام نہیں۔
مرحومہ نے کیا کارنامہ سر انجام دیا تھا کہ خراج تحسین پیش کیا جائے۔ بات اس پر بھی نہیں۔
بحث یہ ہے کہ برف زاروں میں فوت ہو جانے والے ان تینوں افراد کی موت ایک ہی جیسی بلندی پر ہوئی تھی۔ بلکہ اگر باقاعدہ جمع تفریق کی جائے تو ممکن ہے ڈاکٹر اسماء مشتاق شاید سب سے بلندی پر جان کی بازی ہاری ہوں۔
لیکن مرد ہیرو اور عورت زیرو! کیوں؟
کیا ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ ایک خاتون تھیں؟ مردوں کے معاشرے میں زندگی جینے کی خواہش رکھتی ایک عورت!
ڈاکٹر اسماء مشتاق کی موت اور پھر جنازہ و تدفین سبق ہے ان خواتین کے لیے جن کی بلندیوں پر بنی ایک تصویر پر سینکڑوں کمنٹ اور ہزاروں لائیک آتے ہیں۔ لیکن دل سے تسلیم کتنے کرتے ہیں، اس کا اندازہ ڈاکٹر اسماء مشتاق کی موت کے بعد ہو گیا ہوگا۔ اس لیے اس مصنوعی سوشل میڈیا کی زندگی کی کشش کو کبھی بھی مثالی نہ سمجھیں۔
جنازہ تو ایک دعا ہے، ایک جرگہ ہے جس میں اکٹھے ہو کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کی جاتی ہے کہ یا اللہ ہمارے اس بھائی، بہن کو بخش دے۔
آج سوشل میڈیا بھی خاموش ہے، آج کونٹینٹ بنانے والے بھی نہیں دکھائی دیتے۔ آج اتنی خاموشی کیوں ہے؟
لاہور شہر کے باسیوں، لاہور شہر کے صاحبانِ اقتدار؟
ہمارا معاشرہ واقعی مردوں کا نہیں بلکہ مُردوں کا معاشرہ ہے۔
یہاں مرد کسی بھی خاتون کو دلیرانہ شوق کرتے دیکھ کر ٹھرک تو جھاڑ سکتے ہیں، ٹھرک کے ہاتھوں مجبور ہو کر بلے بلے واہ واہ بھی کر سکتے ہیں۔ خواہ مخواہ کی شاباشیاں اور القابات تو دے سکتے ہیں۔ لیکن کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کر سکتے اور یہی حقیقت ہے جو تلخ ضرور ہے لیکن سب سے بڑی سچائی ہے۔
یہاں سہیل سخی کو ہیرو قرار دیا جا سکتا ہے۔
ان کا مجسمہ ہنزہ کے چوک میں لگانے کی سفارش کی جا سکتی ہے۔
انہیں قوم کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہاں سید علی میاں کو گارڈ آف آنر دیا جا سکتا ہے۔
انہیں شہید فلک سر قرار دیا جا سکتا ہے۔
لیکن اسی قوم کی ایک بیٹی اسماء مشتاق کی موت پر سوالات اور اعتراضات۔
کیوں گئی تھی؟
عورت کو یہ کام زیب نہیں دیتا۔
ڈاکٹری سیکھی تو ڈاکٹری کرتی۔ پہاڑوں پر کیا کر رہی تھی؟
بلندیوں پر جان کی بازی ہار جانے والا مرد ہیرو ہے اور عورت زیرو۔ کیوں؟
پاکستانی شہریت، ایک سی موت۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تینوں ہیرو ہوتے، یا تینوں زیرو۔ لیکن دو ہیرو اور ایک زیرو؟
اجتماعی طور پر ہم ایک دوغلے اور منافق معاشرے کا حصہ ہیں، اور معاشرہ میرے اور آپ کے مجموعہ کا نام ہے۔
ڈاکٹر اسماء مشتاق، اللہ کریم آپ کی مغفرت فرمائیں، آمین۔ اپنی اجتماعی بے حسی پر کم از کم میں ضرور معافی چاہتا ہوں۔



