اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سینیٹ کی ذیلی کمیٹی داخلہ نے گیارہ سو ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری، سمگلنگ کے معاملات پرمرکزی کمیٹی میں رپورٹ پیش کردی ۔ 6 افسروں کو ذمہ دار ٹھہرایا دیا گیا ، قبائلی اضلاع کے نام پرٹیکس استثنٰی لے کرشہروں کی فیکٹریوں کو فائدہ پہنچایا گیا،900 فیکٹریوں نے رعایت لی اور صرف108کارخانے کسٹمز چھوٹ کا ریکارڈ پیش کرسکے ۔ ایس آر او جاری ہوا اور وسیع پیمانے پر ٹیکس استثنٰی کے سرٹیفکیٹ حاصل کیے گئے ، قبائلی اضلاع کے نام ان فیکٹریوں نے 279 ارب روپے کا گھی خام مال درآمد کیا گیا، 360 ارب کے سگریٹ کا مواد، 215 ارب روپے کا سٹیل، 65 ارب روپے کی قبائلی اضلاع کے عوام چائے پی گئے جبکہ وہاں تو قہوہ چلتا ہے اور بتایا گیا کہ 850 ارب روپے کے ٹیکس استثناکے سرٹیفکیٹ پیش کیے جانے تھے جس میں سے صرف 203 ارب روپے کے ٹیکس استثنا سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے ۔بے نامی فیکٹریاں کام کر رہی ہیں، مینیول سسٹم ہے اور کوئی سٹاک رجسٹر موجود نہیں ہے ۔ علاو ہ ازیں سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ و انسداد منشیات نے ریپ، تیزاب گردی، گھریلو ملازمین کے تحفظ اور ایل پی جی کی غیر مجاز منتقلی سے متعلق اہم فوجداری قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی۔
کھربوں کی ٹیکس چوری،سمگلنگ،6افسرذمہ دار



