تیانجن (شِنہوا) چین کی شمالی تیانجن بلدیہ میں قائم جرمن پریسیژن ٹیکنالوجی کمپنی کی پیداواری ورکشاپ کے اندر خودکار آلات پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور پروڈکشن لائن سے انتہائی درستگی کے ساتھ سپرنگز تیزی سے تیار ہو کر نکل رہے ہیں۔
138 سال پرانی جرمن خاندان کی ملکیتی کمپنی کرن لیبرز گروپ نے اگست میں اپنے تیانجن پلانٹ کی دوسرے مرحلے کی توسیع کا کام مکمل کر لیا ہے جس پر 12 کروڑ یوآن (ایک کروڑ 77 لاکھ امریکی ڈالر) کی مزید سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
اس توسیع کے ساتھ طبی شعبے کے سپرنگ تیار کرنے والی نئی پروڈکشن لائن عالمی سطح پر اس گروپ کی اپنی نوعیت کی سب سے جدید ترین لائن بننے کے لئے تیار ہے۔
کرن لیبرز گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایرک سپیکرٹ نے کہا کہ چین نہ صرف کمپنی کی اہم ترین مارکیٹوں میں سے ایک ہے بلکہ یہ صنعتی جدت طرازی اور ترقی کا ایک عالمی مرکز بھی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چین میں مسلسل سرمایہ کاری، صارفین کی ضرورت کو سمجھنا اور مقامی صلاحیتوں کو نکھارنا یعنی بہتر کرنا کمپنی کی طویل المدتی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔
چین کی طویل المدتی سرمایہ کاری کی صلاحیت پر یہ اعتماد تیانجن میں کام کرنے والی دیگر کئی جرمن کمپنیوں کے حکام نے بھی ظاہر کیا جنہوں نے ایک وسیع منڈی، مضبوط ترسیل کے نظام اور سازگار کاروباری ماحول کو سرمایہ کاری کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔
موٹرز اور بڑے ڈرائیو سسٹمز فراہم کرنے والی جرمنی کی ایک عالمی کمپنی اینوموٹکس نے چین پر اپنا اعتماد مزید مضبوط بنایا ہے اور اس کا نیا پلانٹ اس سال جون میں تیانجن میں شروع ہوا جس پر تقریباً 60 کروڑ یوآن کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
یہ فیکٹری جرمنی سے باہر ہائی وولٹیج اور ہائی پاور لو-وولٹیج موٹرز کے لئے کمپنی کا سب سے بڑا اور مکمل تحقیق و ترقی اور پیداوار کا مرکز بن چکی ہے۔ دو ہزار پانچ سو میگاواٹ تک سالانہ پیداواری صلاحیت کا حامل یہ نیا پلانٹ اتنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ایک بڑے شہر کو پورا ایک سال تک روشن رکھ سکے۔
اینوموٹکس لارج موٹرز (تیانجن) لمیٹڈ کے جنرل منیجر لو ژینگ نے چین میں مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ چین پہلے ہی دنیا بھر میں اینوموٹکس کی سب سے بڑی انفرادی منڈی بن چکا ہے۔ کمپنی کی مصنوعات کے اہم ترین صارفین جن میں بحری انجینئرنگ کے آلات، بحری جہاز اور ڈیٹا سنٹرز شامل ہیں، سب کے سب چین میں ہی موجود ہیں۔ جن سے مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے سے مصنوعات کی فراہمی کا وقت اور لاگت کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اگست میں جرمنی کے وفاقی شماریاتی دفتر کے جاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 125.5 ارب یورو کے دوطرفہ تجارتی حجم کے ساتھ چین 2026 کی پہلی ششماہی میں بھی جرمنی کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار رہا ہے۔
صنعت اور ترسیل کے نظام میں چین کی مہارت کے ساتھ ساتھ ہنر مندی کا ذخیرہ بھی جرمن کمپنیوں کو سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دینے کی ایک بڑی وجہ رہا ہے۔
اینوموٹکس ایچ وی (ہائی وولٹیج) ڈویژن کے عالمی سربراہ اولیور بیک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے اپنی عالمی فیکٹری کے خاکے کی منصوبہ بندی کی تو صنعتی بنیاد اور ہنر مند افراد کا ذخیرہ، مقامی ترسیلی نظام کی صلاحیتوں اور منصوبے کے نفاذ جیسے عوامل کا جائزہ لیا اور یہی وجہ ہے کہ تیانجن کو ایک ایسے مرکز کے طور پر منتخب کیا جو ہماری تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔
اولیور بیک نے مزید کہا کہ یہاں بننے والی مصنوعات کو چینی مارکیٹ میں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی برآمد کیا جا سکتا ہے۔
لو ژینگ نے کہا کہ چینی ٹیم مصنوعات کی تیاری، طریقہ کار کی بہتری اور توثیق جیسے اہم مراحل میں بھرپور انداز میں شامل ہے۔ مقامی سطح پر تحقیق و ترقی کی یہ کامیابیاں اینوموٹکس کی عالمی پروڈکٹ لائنوں کو بھی تقویت دے رہی ہیں۔
جرمن کمپنیاں سازگار کاروباری ماحول کی بدولت چین میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں



