تحریر: سعدیہ نارو
لاہور سے سکردو
۱۰ جولائی ۲۰۲۶
کوہ نوردی محض ایک شوق کا نام نہیں، یہ ایک ایسی طلب ہے جو رفتہ رفتہ جنون میں ڈھل جاتی ہے۔ اس جنون کی کیفیت وہی جان سکتا ہے جس کا دل پہاڑوں میں بستا ہو، جو صرف ان کی بلندیوں سے مسحور نہ ہو بلکہ ان کے دامن میں چھپی دشواریوں کا ادراک بھی رکھتا ہو اور انہیں جھیلنے کا حوصلہ بھی۔
گرمیوں کی آمد میرے لیے محض موسم کی تبدیلی نہیں ہوتی۔ جیسے ہی برف پگھلنے لگتی ہے، راستے کھلنے لگتے ہیں اور پہاڑوں کی طرف جانے والی راہیں مسافروں کے لیے دوبارہ اپنا سینہ وا کرتی ہیں، میرے اندر بھی سفر کی ایک بے نام سی خواہش سر اٹھانے لگتی ہے۔ نئے راستے اپنی طرف بلاتے ہیں، نئی منزلیں خواب بن کر آنکھوں میں اترتی ہیں اور دل کسی انجانی سمت چل پڑنے کو بے قرار ہو جاتا ہے۔
پھر خواہشوں کو حقیقت کا لباس پہنانے کا مرحلہ آتا ہے۔ بجٹ سامنے رکھ کر راستوں اور منزلوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، مختلف ٹور آپریٹرز کے پروگرام دیکھے جاتے ہیں، یہ سوچا جاتا ہے کہ کس کمپنی کے ساتھ جانا ہے، کون لوگ ہم سفر ہوں گے اور سفر کی مشکلات کس حد تک برداشت کی جا سکیں گی۔ اور پھر بالآخر وہ دن بھی آ جاتا ہے جب مسافر گھر کی دہلیز پر ایک آخری نظر ڈالتا ہے، اپنوں کو الوداع کہتا ہے اور بلند و بالا پہاڑوں، برف زاروں اور خاموش وادیوں کی طرف نکل پڑتا ہے۔
گزشتہ برس، اگست ۲۰۲۵ میں، جب میں کے ٹو ٹریک اور غوندوغورو لا سے واپس لاہور پہنچی تو جسم پر سفر کی تھکان ابھی باقی تھی، مگر دماغ اگلے سفر کی سوچ میں پڑا تھا۔ واپسی کے دو دن بعد میں نے اپنے ٹور آپریٹر عمیر حسن سے کہا،
“عمیر، آپ ہمیں اگلے سال سنو لیک، ہسپر لا ٹریک یا خسر گنگ کروا دیں۔”
عمیر ہنس پڑے اور بولے،
“سعدیہ، ابھی آپ کو واپس آئے دو دن ہوئے ہیں۔ پچھلی تھکن اتری نہیں اور آپ اگلے ٹریک کی پلاننگ کر رہی ہیں۔”
اسے دیوانے کا خواب کہیے یا اگلے سال کا منصوبہ، مگر میں دل ہی دل میں فیصلہ کر چکی تھی کہ آنے والے سال میں ان مہمات میں سے کم از کم ایک سفر ضرور کرنا ہے۔
۱۷ جنوری ۲۰۲۶ کو Ascender Adventures نے ایورسٹ بیس کیمپ ٹریک کا اعلان کیا تو میں نے مزید معلومات کے لیے عمیر کو فون کیا۔ انہوں نے حسبِ معمول صاف اور مخلصانہ رائے دی،
“اگر یہ آپ اپنے لیے پوچھ رہی ہیں تو میں آپ سے یہی کہوں گا کہ ابھی آپ پاسز کریں اور ایورسٹ بیس کیمپ ٹریک کو چار پانچ سال بعد کے لیے رکھیں۔”
یہ ایک ایسا مشورہ تھا جس میں کاروباری مفاد سے زیادہ میرے مفاد کی فکر تھی۔ وہ چاہتے تو ایک بڑے اور معروف ٹریک کے لیے مجھے آمادہ کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے ان کی بات سنی، سنو لیک اور ہسپر لا کی اپنی پچھلی خواہش انہیں یاد دلائی اور فون بند کر دیا۔
۱۲ اپریل کو Ascender Adventures نے سنو لیک، ہسپر لا ٹریک کا اعلان کیا تو ایک بار پھر دل میں خواہش نے سر اٹھایا۔ میں نے سب سے پہلے بجٹ کا حساب لگانا شروع کیا۔ دو سال میں دو بڑے ٹریکس کرنا، وہ بھی ایسے ٹریکس جو تقریباً ہر ٹریکر کا خواب ہوتے ہیں، اور پھر یہ سب اپنی جیب سے کرنا، یقیناً کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ شوق اپنی جگہ، مگر اتنی خطیر رقم کا انتظام ایک الگ اور اہم حقیقت تھی۔
۱۵ مئی کو عمیر حسن نے سنو لیک، ہسپر لا ٹریک کے لیے کنفرمیشن کال کی تو میں نے حامی بھر لی۔ اس کے بعد تیاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اپنے آرتھو پیڈک سرجن کے مشورے کے مطابق مطلوبہ ایکسرے اور بلڈ ٹیسٹ کروائے اور رپورٹس انہیں دکھائیں۔ جب انہوں نے ٹریک پر جانے کی اجازت دے دی تو گویا سفر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی۔
ٹریکنگ کا کچھ سامان میرے پاس پہلے سے موجود تھا، ماضی میں وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق گیئر خریدتی رہی تھی۔ چند چیزیں کوہ پیما سے خرید لائی۔ بظاہر میں ایک نئے سفر کی تیاری میں مصروف تھی، مگر دل کے کسی گوشے میں ایک تشویش مسلسل موجود تھی۔
گروپ میں چھ مرد حضرات تھے اور میرا کوئی دوست ان میں شامل نہیں تھا۔ دوسری طرف سنو لیک، ہسپر لا کا یہ ٹریک طویل بھی تھا، کٹھن بھی اور جسمانی و ذہنی طور پر تھکا دینے والا بھی۔ بار بار خیال آتا کہ کیا میں اس سفر کی تمام مشکلات کا سامنا کر پاؤں گی؟
۷ جون کو میں نے عمیر سے دوبارہ بات کی اور اپنی پریشانی ان کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا،
“دیکھیں سعدیہ، آپ ذہنی طور پر مضبوط ہیں، آپ یہ ٹریک کر لیں گی۔ ہسپر لا پار کرنے کے بعد ٹریک بہت مشکل اور تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ ٹریک کرنا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ آپ کا اپنا ہو گا، البتہ ہماری طرف سے کوئی کمی کوتاہی نہیں ہو گی۔”
ان کی بات میں حقیقت بھی تھی اور حوصلہ بھی، لیکن اس کے باوجود میں کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔
ایسے میں میرے بیٹے نے ایک جملہ کہا،
“ماں، یا تو آپ ٹریکنگ چھوڑ دیں یا لوگوں پر انحصار کرنا چھوڑ دیں۔”
یہ بات سن کر مجھے یوں لگا جیسے کسی نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا ہو۔ اس کے بعد مجھے کسی اور تسلی کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں اس ٹریک پر جاؤں گی اور اپنی ہمت پر جاؤں گی۔
جون کی آگ برساتی گرمی میں شہری زندگی کی ذمہ داریوں کو سمیٹ کر کسی طویل پہاڑی سفر کے لیے تیار ہونا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ گھر کے معاملات، بچوں کی ضروریات، روزمرہ کے کام اور سفر کی تیاری، سب کچھ ایک ساتھ نمٹانا تھا۔
۲۰ جون کو میں نے ۱۰ جولائی کی سکردو کی ریٹرن ٹکٹ بک کروا لی۔ اب سفر محض ایک خواہش نہیں رہا تھا، اس کی ایک تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔
جولائی شروع ہوا تو جیسے وقت کو پر لگ گئے۔ دن گزرتے گئے اور کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔ آخری دنوں میں گھریلو ذمہ داریوں کو نمٹانے کے ساتھ ساتھ ٹریک کی پیکنگ بھی مکمل کر لی۔ بیگ میں سامان ترتیب دیتے ہوئے محسوس ہوتا تھا جیسے میں صرف کپڑے، گیئر اور ضروری اشیا نہیں رکھ رہی، بلکہ آنے والے دنوں کی ایک داستان کے تانے بانے بن رہی ہوں۔
۱۰ جولائی کی صبح آٹھ بجے میں ایئرپورٹ پہنچ گئی۔ دل میں خوشی بھی تھی اور ایک انجانی سی بے چینی بھی۔ پہاڑوں پر جانا میری خواہش تھی، لیکن بحفاظت واپس لوٹنا میری ذمہ داری۔
میری پرواز کا مقررہ وقت صبح دس بجے تھا، مگر چند مسافروں کی غیر ذمہ داری کے باعث پرواز تقریباً آدھا گھنٹہ تاخیر کا شکار ہو گئی۔ جہاز مسافروں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ بالآخر ساڑھے گیارہ بجے طیارے نے لاہور ایئرپورٹ سے پرواز بھری۔ میں کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ زمین آہستہ آہستہ مجھ سے دور ہوتی گئی۔ شہر کے پھیلے ہوئے آثار سکڑتے گئے، عمارتیں نقطوں میں بدلنے لگیں اور پھر رفتہ رفتہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئیں۔ جہاز بلندی کی طرف بڑھتا گیا اور نیچے کی دنیا بادلوں کی تہوں میں کہیں گم ہو گئی۔
کھڑکی کے باہر نیلا آسمان تھا، بادلوں کے سفید غول تھے اور اندر مسافروں کا دبا دبا شور۔ میری نظریں اگرچہ کھڑکی کے پار تھیں، مگر ذہن آنے والے دنوں کے تانے بانے بن رہا تھا۔ کبھی خیال جہاز میں بیٹھے اجنبی مسافروں کی طرف جاتا، کبھی گھر چھوڑے بچوں کی طرف۔ پھر میں ایک ایک کر کے ان کاموں کو ذہن میں دہرانے لگی جو روانگی سے پہلے ان کے لیے انجام دینے ضروری تھے۔ ایک ایک ذمہ داری کو یاد کرتی اور پھر خود کو تسلی دیتی کہ ہاں، یہ کام بھی مکمل کر کے آئی ہوں، وہ بھی۔ اس احساس نے دل میں ایک عجیب سا سکون پیدا کیا۔
ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز انہی سوچوں اور اندیشوں میں گزر گئی، یہاں تک کہ طیارے نے دوپہر بارہ بجے سکردو کے رن وے کو چھو لیا۔ وہی مانوس ایئرپورٹ۔ ایک سال پہلے، تقریباً انہی دنوں میں، میں پہلی مرتبہ یہاں اتری تھی۔ اس بار منظر وہی تھا، مگر میں وہی نہیں تھی۔ گزشتہ سفر کی یادیں حال کے منظرنامے میں گھلنے لگیں اور ذہن بے اختیار ماضی اور حال کا موازنہ کرنے لگا۔
ایئرپورٹ سے مجھے لینے کے لیے کمپنی نے گاڑی اور ڈرائیور بھیجا تھا، لیکن اس مرتبہ میری منزل براہِ راست سکردو نہیں بلکہ شگر خاص تھی۔ شگر میں میرے کلاس فیلو اور دیرینہ دوست محسن اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔ گزشتہ برس کے ٹو ٹریک پر روانگی سے پہلے وہ اپنی فیملی اور اپنی ایک غیر ملکی دوست، سیاح کیتھرین، کے ساتھ خصوصی طور پر مجھ سے ملنے سکردو آئے تھے۔ اس مرتبہ میری خواہش تھی کہ سفر کے آغاز ہی میں خود ان سے ملوں۔ میں نے پہلے ہی محسن کو اپنے آنے کی اطلاع دے دی تھی اور وہ مجھے ایئرپورٹ لینے آ رہے تھے۔
محسن کی دیر سے پہنچنے کی عادت زمانۂ طالب علمی میں بھی میرے لیے کبھی کبھی کوفت کا باعث بنتی تھی، اس لیے اس مرتبہ میں ذہنی طور پر پہلے ہی تیار تھی۔ تاہم لاہور سے پرواز ہی خاصی تاخیر سے روانہ ہوئی تھی، سو اس مرتبہ محسن کی تاخیر کے باوجود وہ تقریباً وقت پر ہی ایئرپورٹ پہنچ گئے۔
میں نے ٹرالی پر رکھا اپنا بیگ سنبھالا اور ایئرپورٹ سے باہر نکلی تو محسن کو منتظر پایا۔ سامان گاڑی میں رکھا گیا اور ہم شگر خاص کی طرف روانہ ہو گئے۔
دن گرم تھا اور دھوپ میں وہ مخصوص پہاڑی تمازت تھی جو میدانی علاقوں کی گرمی سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ دریا سندھ کا پل پار کیا تو سرفرنگا سامنے آیا، وہی وسیع و عریض سنہرا صحرا جسے دنیا سکردو کے کولڈ ڈیزرٹ کے نام سے جانتی ہے۔ دوپہر کا وقت تھا، اس لیے دریا شگر اور دریائے سندھ کے درمیان قراقرم کے اس پھیلے ہوئے ریگستان میں زیادہ چہل پہل نہ تھی۔ سڑک نسبتاً خاموش تھی اور ہمارے ساتھ ساتھ دریا شگر بہتا جا رہا تھا۔
راستہ گفتگو میں کب گزر گیا، احساس ہی نہ ہوا۔ محسن کے گھر پہنچے تو ان کی چھوٹی سی فیملی میری منتظر تھی۔ چائے اور اس کے لوازمات سے لطف اندوز ہونے کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور تازہ دم ہوئی۔ پھر محسن کے ساتھ شگر دیکھنے کے لیے نکل پڑی۔ راستے میں وہ اپنے کاروبار، شگر کی زندگی اور یہاں کے لوگوں کے بارے میں بتاتے رہے۔ میں سنتی رہی اور ساتھ ساتھ شگر کے منظر اپنی آنکھوں میں اتارتی رہی۔
جاری ہے ۔۔۔



