تحریر: عابد حسین قریشی
7 ستمبر 1974 پاکستان کی قومی اسمبلی اور ختم نبوت کے پروانوں کے لئے ایک تاریخ ساز دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے طویل بحث مباحثہ اور قادیانیوں کے دونوں گروپوں کے نمائندوں پر طویل جرح کے بعد انہیں دائرہ اسلام سے خارج کرنے کی متفقہ قرارداد منظور کرکے آئین میں ضروری ترامیم کیں۔ مجھے اس قومی اسمبلی کی ساری کاروائی کو جو پانچ بڑی ضحیم جلدوں میں مرتب ہوئی، پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آج موقع کی مناسبت سے اسی کاروائی سے متعلقہ چند یادیں شیئر کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
29 مئی 1974ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر جو اندوہناک واقعہ پیش آیا اس نے پاکستان کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ جب اس واقعے کی خبر ملک کے مختلف حصوں میں پہنچی تو ردِعمل نہایت شدید تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں، جلسوں اور جلوسوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ متعدد شہروں میں ہڑتالیں ہوئیں، املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لاٹھی چارج، آنسو گیس، گرفتاریاں اور دیگر اقدامات بھی کیے گئے۔ یوں پورا ملک ایک غیر معمولی مذہبی و سیاسی تحریک کی لپیٹ میں آ گیا۔ حکومت وقت نے پہلے تو اس تحریک کو بزور بازو دبانے کی کوشش کی، مگر ختم نبوت کے پروانے پورے جزبہ ایمانی کے ساتھ ملک بھر میں سڑکوں پر آچکے تھے اور ان مچلتے جزبات کے آگے بندھ باندھنا مشکل نظر آرہا تھا۔ قومی اسمبلی کی اپوزیشن میں ایک نہایت معتبر نام مولانا شاہ احمد نورانی کا بھی تھا، جنہوں نے قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قرار داد پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ جس پر حکومت نے اسکا قانونی اور آئینی حل نکالنے والا آپشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ایک زیرک اور معاملہ فہم سیاست دان تھے۔ انہوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ اب یہ مسئلہ محض انتظامی اقدامات سے حل ہونے والا نہیں بلکہ اس کے لیے کوئی بنیادی اور فیصلہ کن راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس معاملے کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپرد کر دیا اور اعلان کیا کہ اس مسئلے کا حتمی فیصلہ منتخب نمائندوں کا ایوان کرے گا۔ یہ اس پورے قضیے کا ایک نہایت اہم اور تاریخی موڑ ثابت ہوا۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر صاحبزادہ زادہ فاروق علی خان نے پوری اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کی حیثیت دے دی، تاکہ اس مسئلے کا ہر پہلو تفصیل سے زیرِ غور آ سکے۔ اس کارروائی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ قومی اسمبلی میں اس وقت ملک کے نامور علماء، دانشور، وکلاء اور سیاسی قائدین موجود تھے۔ شاید پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کم ہی ایسا موقع آیا ہو کہ اتنے جلیل القدر اہلِ علم اور اہلِ دانش ایک ہی فورم پر جمع ہوئے ہوں۔
ان نمایاں شخصیات میں مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا عبدالحق، خواجہ جمال کوریجہ ، خواجہ غلام فرید کوریجہ اور دیگر متعدد علمی و سیاسی شخصیات شامل تھیں۔ ان کے علاوہ اعلیٰ تعلیم یافتہ قانون دان، دانشور اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اسمبلی کا حصہ تھے۔ ویسے تو اس قومی اسمبلی کا ہر رکن قابل ستائش و لائق تحسین ہے، تاہم متزکرہ بالا علمائے اکرام اور اہل علم کے ساتھ ساتھ جن دیگر ممبران قومی اسمبلی نے پوری دینی حمیت اور معاملہ کی نزاکت اور حساسیت کے پیش نظر اس قومی اسمبلی کی کارروائی میں بھرپور کردار ادا کیا، ان میں سے چند قابل ذکر لوگوں میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ، وزیر مزہبی امور مولانا کوثر نیازی، چوہدری ظہور الٰہی، سردار مولا بخش سومرو، صاحبزادہ صفی اللہ، شہزادہ سعید الرشید عباسی، ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری، سردار عنایت الرحمان عبادی، چوہدری جہانگیر علی، کرنل حبیب احمد، مغل اورنگ زیب، راو خورشید علی ہیں،میاں عطا اللہ، بیگم نسیم جہاں، سید عباس حسین گردیزی، عبدالعزیز بھٹی، چوہدری غلام رسول تارڑ، محمد افضل رندھاوا، چوہدری ممتاز احمد، غلام نبی چوہدری، ملک کرم بخش اعوان ، غلام حسن ڈھانڈلہ، مخدوم نور محمد ہاشمی ، حنیف خان، ارشاد احمد خان، ملک محمد سلیمان، عبدالحمید جتوئی، ملک محمد جعفر، ڈاکٹر غلام حسین، اور احمد رضا قصوری اور دیگر بہت سے ممبران شامل تھے۔ یہ سبھی لوگ قابل تکریم و توصیف ہیں، کہ جو فتنہ قادیانیت کے خلاف پورے دینی جزبہ سے بروئے کار آئے اور دینی حمیت کا حق ادا کر دیا۔ اس تناظر میں بہت سے لوگوں نے اس قومی اسمبلی کے اس اجتماع کو ایک غیر معمولی تاریخی موقع قرار دیا۔
قومی اسمبلی کی کارروائی میں اُس وقت کے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرکزی کردار ادا کیا۔ طریقۂ کار یہ طے پایا کہ اسمبلی کے ارکان اپنے سوالات تحریری صورت میں اٹارنی جنرل کو فراہم کریں گے اور پھر وہی ان سوالات کی بنیاد پر قادیانی جماعتوں کے نمائندوں سے جرح کریں گے۔ اس ساری کاروائی کا حسن یہ تھا کہ قومی اسمبلی کے فاضل ممبران اس نازک اور حساس معاملہ میں کسی بھی حتمی نتیجہ تک پہنچنے کے لئے تمام فریقین کو سننا چاہتے تھے، خصوصاً قادیانی گروپوں کو سماعت کا پورا موقع فراہم کیا گیا۔ مرزا ناصر احمد پر تو گیارہ دن جرح جاری رہی۔ ہزاروں سوالات کا اسے جرح میں سامنا کرنا پڑا، اور پوری قومی اسمبلی کے ممبران ہمہ تن گوش ہوکر یہ ساری کاروائی سنتے رہے ۔ اور بوقت ضرورت اپنی قیمتی آراء کا بھی اظہار کرتے رہے۔متزکرہ بالا ممبران اسمبلی میں سے چند ایک کو ذاتی طور پر جاننے اور ملنے کا شرف بھی اس خاکسار کو ملا۔ کچھ کے بارے میں ویسے ذاتی اور سیاسی معلومات بھی رہیں۔ کہ میں قانون کے ساتھ سیاسیات کا طالب علم بھی رہا، اور سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی لی۔ ذاتی طور پر ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت کا قائل رہا، مولانا کوثر نیازی کا حلقہ انتخاب چونکہ میرا آبائی ضلع سیالکوٹ تھا، اسلئے زمانہ طالب علمی میں انکی براہ راست جلسوں میں بڑی روح پرور جوشیلی تقریروں سے لطف اندوز بھی ہوئے۔ اس وقت کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ ایک معروف قانون دان تھے، اور شاید اس کابینہ میں سب سے کم عمر وزیر بھی۔ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار ایک نامور قانون دان تو تھے ہی، مگر قومی اسمبلی کی اس کاروائی میں وہ ایک منفرد روپ، ایک الگ شان اور آن سے نظر آئے، کہ انہوں نے نہ صرف قانونی اور آئینی آداب کو ملحوظ خاطر رکھا، بلکہ تمام تر مذہبی اور فقہی سوالات کو اپنے انداز میں حسن ترتیب کے ساتھ تشکیل دیکر قادیانیوں کے نمائندوں پر بھرپور اور طویل جرح کرکے ایک ایسا احسن اقدام کیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے تاریخ میں امر ہو گئے۔ مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم اپنی پوری نورانی وجاہت کے ساتھ دینی حلقوں میں ہمیشہ ممتاز رہے۔ سواد اعظم میں بڑے مقبول و معروف اور مجھے انکی بھی سیالکوٹ میں بڑی سحر انگیز تقریر سننے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مولانا مفتی محمود درویش منش انسان تھے۔ انہوں نے 1970 اور پھر 1977 کے جنرل الیکشنز میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ سے ہرایا۔ وہ وزیر اعلٰی صوبہ سرحد( خیبر پختون خواہ ) بھی رہے، اور اصولوں کی بنیاد پر مستعفی ہوگئے۔ دینی حلقوں میں انکا بڑا احترام ہے۔ اور وہ جمعیت علمائے اسلام کے سر براہ مولانا فضل الرحمن کے والد گرامی تھے۔ اسی طرح مولانا عبدالحق اور مولانا غلام غوث ہزاروی ممتاز علمائے دین اور بہت بڑی تعداد میں اپنے پیروکاروں کی رکھتے ہوئے نہایت ممتاز و محترم تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان ممتاز قانون دان اور ملتان کے معروف صاحبزادہ فیملی کے چشم و چراغ تھے۔ مولانا ظفر احمد انصاری جھنگ سے مزہبی بیک گراؤنڈ کے ساتھ بڑے عالم فاضل انسان بھی تھے۔ سرگودھا سے چوہدری جہانگر علی ایک قانون دان ہونے کے ناطے اس قومی اسمبلی کی کاروائی میں گہری دلچسپی لیتے رہے۔ بہت سے اہم سوالات وہ بعد از تحقیق اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کو جرح کے لیے پیش کرتے رہے اور انکا رول اس ساری کاروائی میں نہایت اہم رہا۔ انکے ہونہار اور قابل فخر بیٹے چوہدری مسعود جہانگیر سول مقدمات کے ایک معرف وکیل تھے، جنہیں صرف انکی قابلیت پر ہی لاہور ہائی کورٹ کا جسٹس بنایا گیا اور انہوں نے اپنی قابلیت اور محنت و دیانت سے قانونی حلقوں میں بڑا نام کمایا۔ اس خاکسار کے ساتھ جج صاحب خصوصی شفقت فرماتے رہے ۔ عبدالعزیز بھٹی راولپنڈی سے ممبر قومی اسمبلی تھے جو بعد ازاں کچھ عرصہ کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی رہے۔ ملک سلیمان مرحوم شکرگڑھ سے ایک مڈل کلاس فیملی سے وکیل تھے مگر 1970 میں انہوں نے دانیال عزیز کے والد گرامی چوہدری انور عزیز جو بہت نامور سیاست دان تھے کو شکست دی۔ میرے سیالکوٹ کے زمانہ وکالت میں ملک سلیمان باقاعدگی سے سیالکوٹ بار میں تشریف لاتے اور میرے ساتھ انکی خصوصی شفقت بھی رہی۔ میرے سول جج بننے پر میرے گاؤں چٹی شیخاں بھی تشریف لائے اور مجھے عزت بخشی۔
اس سلسلے میں قادیانی جماعت کے مرکزی (ربوہ) گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد اور لاہوری جماعت کے نمائندوں کو طلب کیا گیا۔ مرزا ناصر احمد پر کئی روز تک تفصیلی جرح جاری رہی، جس میں ختمِ نبوت، نبوت کے تصور، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام و مرتبہ، قادیانی عقائد، غیر احمدیوں کے بارے میں ان کے نظریات اور دیگر بنیادی مذہبی و اعتقادی مسائل پر تفصیلی سوالات کیے گئے۔
بعد ازاں مولانا مفتی محمود اور دیگر ارکانِ اسمبلی کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ اس پوری کارروائی میں نہایت گہرے اور بنیادی نوعیت کے مذہبی، آئینی اور قانونی نکات زیرِ بحث آئے۔ ان مباحث نے بالآخر اس تاریخی فیصلے کی بنیاد فراہم کی جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے آئینی و قانونی تشخص کے بارے میں اپنا فیصلہ صادر کیا۔



