اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ متنازع آئی ٹی بل کی واپسی پاکستان کے عوام اور ان کے آئینی و بنیادی حقوق کی فتح ہے، وفاقی حکومت نے دیر آید، درست آید کے مصداق اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے بل واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے رکن قومی اسمبلی سحر کامران اور سید سبط الحیدر بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ سے آئی ٹی بل کے حوالے سے پریشان عوام کے لیے آج بڑی خوشخبری ہے۔ بل کی واپسی کا سب سے بڑا کریڈٹ پاکستان کے عوام کو جاتا ہے، جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز بلند کی اور کسی صورت اپنے حقوق پر سمجھوتہ قبول نہیں کیا۔
انہوں نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حقوق کے معاملے پر قیادت نے ایک لمحے کے لیے بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ مشکل وقت میں قیادت نے نہ صرف ان کا ساتھ دیا بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ڈٹ کر آواز اٹھانے کا حوصلہ بھی دیا۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ آئی ٹی بل کے معاملے پر ان پر کس قدر دباؤ تھا، یہ وہ اور ان کی قیادت جانتی ہے، تاہم دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے عوام کے حق میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول یہ کسی ایک فرد یا جماعت کی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی فتح ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا واضح مؤقف ہے کہ کسی بھی قانون کے ذریعے شہریوں کے بنیادی اور آئینی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔ کسی پاکستانی کے گھر، زمین یا جائیداد کے حوالے سے ایسا قانون قابلِ قبول نہیں جو شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار کرے۔ عوام اپنی جائیداد کے خود مالک ہیں اور کسی کو قانون کے نام پر شہری کی ملکیت پر قبضے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوام کے حقوق، ان کی ملکیت اور آئینی تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے پاکستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی آواز کی فتح ہے۔
پمز سانحہ، انکوائری رپورٹ فوری منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ
سینیٹر پلوشہ خان نے پمز میں پیش آنے والے اندوہناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحے میں 14 معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں، جن کے خاندانوں خصوصاً ماؤں کے دکھ کا کوئی مداوا نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں سانحے کے شواہد مٹا کر حقائق چھپانے کی کوشش نہ کی جائے۔ حکومت فوری طور پر انکوائری رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ تمام حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پمز کو ملنے والے 22 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ اس معاملے کا مکمل اور شفاف آڈٹ کرایا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ یہ رقم کہاں اور کس مد میں خرچ کی گئی۔
سینیٹر پلوشہ خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اصل ذمہ دار بڑے حکام کو بچانے کے لیے چھوٹے ملازمین پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور کسی بھی بااثر شخص کو بچانے کی کوشش نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پمز میں موجود بعض اعلیٰ حکام کی جانب سے شواہد چھپانے کی کوششوں کے خدشات موجود ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے کو فائلوں میں دبنے نہیں دے گی اور دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر بھرپور آواز اٹھائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت انکوائری رپورٹ فوری طور پر پبلک کرے اور سانحے سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے لائے۔
سندھ کی تقسیم کی باتیں مسترد
سینیٹر پلوشہ خان نے سندھ کی تقسیم سے متعلق باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام کسی بھی صورت صوبے کی تقسیم قبول نہیں کریں گے۔ ایم کیو ایم ایک عرصے سے سندھ کی تقسیم کی کوششوں میں مصروف ہے، تاہم سندھ کے عوام ایسی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ایک وحدت ہے اور اس کی تقسیم کے حوالے سے کسی بھی کوشش کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ ایوان میں سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد بھی پیش کی گئی ہے، جسے اکثریت سے منظور ہونا چاہیے۔
آئی ٹی بل میں متنازع شقیں شامل تھیں، سحر کامران
رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ آئی ٹی بل عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ بل میں ایسی شقیں شامل تھیں جن کے تحت اگر کوئی شہری اپنے گھر پر ٹاور لگانے کی اجازت نہ دے تو اسے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، جو انتہائی تشویش ناک امر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹر پلوشہ خان نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بل کے خلاف آواز اٹھائی اور عوام کے بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے ڈٹ کر کھڑی ہوئیں۔ قومی اسمبلی میں جس انداز سے قانون سازی کی جا رہی ہے، اس پر تحفظات ہیں۔
سحر کامران نے مطالبہ کیا کہ آئندہ قانون سازی کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے اور ارکانِ پارلیمنٹ کو قانون سازی کے عمل میں مؤثر طور پر شامل کیا جائے۔
پمز سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن ماؤں کے جگر گوشے ان سے بچھڑ گئے، ان کے دکھ کا کوئی مداوا نہیں ہو سکتا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سانحے کی شفاف تحقیقات کرائے، اصل ذمہ داروں کا تعین کرے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرے۔



