چینی محققین نے زمین اور چاند کے درمیان دو طرفہ لیزر رابطے کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا

بیجنگ (شِنہوا) چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ سنٹر فار سپیس یوٹیلائزیشن (سی ایس یو) نے بتایا ہے کہ محققین نے زمین اور چاند کے درمیان لیزر مواصلاتی رابطے کا تجربہ مکمل کر لیا ہے جس کے دوران مدار میں دو طرفہ تیز رفتار لیزر رابطے کی صلاحیتوں کی کامیاب تصدیق کی گئی۔
ایک سال سے زائد عرصے تک مدار میں تجربات کے بعد ٹیم نے 4 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر دو طرفہ لیزر مواصلاتی رابطہ قائم کیا جو چین کی خلائی لیزر مواصلاتی ٹیکنالوجی کے زمین کے قریبی مدار سے گہری خلائی حدود تک توسیع کی علامت ہے۔
روایتی مائیکرو ویو مواصلات کے مقابلے میں لیزر مواصلات زیادہ رفتار، زیادہ بینڈوڈتھ، بہتر سکیورٹی اور زیادہ مختصر اور کم حجم ہارڈویئر فراہم کرتے ہیں۔ تاہم زمین اور چاند کے درمیان فاصلے میں لیزر مواصلات ممکن بنانے کے لئے 3 بڑے چیلنجز پر قابو پانا ضروری تھا جن میں شعاع کی درست سمت بندی، سگنل کی کمزوری اور ترسیل کی رفتار شامل ہیں۔
سی ایس یو کے محقق اور لیزر مواصلاتی تجرباتی ٹیم کے سربراہ یانگ لی نے کہا کہ ’’زمین اور چاند کے درمیان مواصلات ایسا ہے جیسے ایک ہزار میل دور سے سوئی کے ناکے میں دھاگا ڈالنا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انتہائی زیادہ فاصلے کے باعث سیٹلائٹ کی معمولی سی جنبش یا زمین کے ماحول میں ہوا کے ہلکے سے انتشار کے نتیجے میں بھی لیزر شعاعیں اپنی سمت سے ہٹ سکتی ہیں۔ زاویے میں معمولی سی تبدیلی بھی چاند کے فاصلے پر کئی کلومیٹر کی خطا کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹیم نے ہدف کو تلاش کرنے اور اس کا تعاقب کرنے کا ایک جدید نظام تیار کیا جس میں مداری، فضائی اور نوری ترسیل میں پیدا ہونے والی تاخیر کی اصلاح کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے زمینی اور خلائی آلات حرکت میں رہتے ہوئے بھی انتہائی درست سمت بندی برقرار رکھ سکتے ہیں۔
زمین تک 4 لاکھ کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد لیزر سگنل اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ زمینی دوربینیں ایک وقت میں صرف چند فوٹونز وصول کرتی ہیں۔ چاند، ستاروں کی روشنی اور شہری علاقوں کی مصنوعی روشنی مزید خلل پیدا کرتی ہے۔ سی ایس یو کے مطابق یہ صورتحال ایسے ہی ہے جیسے کسی شور شرابے سے بھرے بازار میں سوئی گرنے کی آواز سننے کی کوشش کی جائے۔
محققین نے تیز رفتار سپر کنڈکٹنگ سنگل فوٹون ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اور انتہائی حساس الگورتھمز تیار کئے تاکہ پس منظر کے شور سے درست مواصلاتی سگنلز کو الگ کیا جا سکے۔
رفتار کی رکاوٹ دور کرنے کے لئے ٹیم نے وسیع بینڈوڈتھ والی سگنل پروسیسنگ ٹیکنالوجی تیار کی اور شور کا مقابلہ کرنے کے لئے خصوصی کوڈنگ سکیمیں اختیار کیں۔ تجربے میں 1.25 میگا بٹس فی سیکنڈ اپ لنک اور 100 میگا بٹس فی سیکنڈ ڈاؤن لنک کی دو طرفہ مواصلاتی رفتار حاصل کی گئی۔
سی ایس یو کے مطابق چاند پر انسان کے اترنے اور چاند پر تحقیقی مرکز کی تعمیر کے امکانات کے پیش نظر مستقبل میں چاند کی تحقیق کے دوران مشاہداتی تصاویر اور سائنسی ڈیٹا کی بہت بڑی مقدار پیدا ہوگی، جسے مواصلات کی روایتی بینڈ وڈتھ کے ذریعے منتقل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ زمین اور چاند کے درمیان لیزر پر مبنی یہ ’’انفارمیشن ہائی وے‘‘ مستقبل میں چاند پر بھیجے جانے والے مشنز کے لئے تیز رفتار ڈیٹا منتقلی کا ایک نیا راستہ فراہم کرے گی۔



  تازہ ترین   
مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب کو فوجی دستے اور صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ
ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس، افغانستان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر غور
ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیلئے ہمیشہ تیار ہیں: امریکی صدر کا اعلان
برطانوی ایئربیس سے بی ون بمبار طیارے احتیاطی طور پر واپس بلائے: جے ڈی وینس
امریکا مذاکرات نہیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے: صدر مسعود پزشکیان
سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچ گیا، آج پشاور روانگی
امریکا کی اتحادی ممالک کو 2.27 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کے فروخت کی منظوری
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عمران خان کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک پر پیش کرنے کا حکم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر