جب سے مسلم لیگ ن کی تجربہ کار ٹیم نے حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی پاکستان میں غریب آدمی کی زندگی بھی کیا خوب زندگی بن چکی ہے۔ صبح آنکھ کھلے تو آٹا مہنگا، دوپہر کو سبزی مہنگی، شام کو بچوں کی فیس کا تقاضا اور رات کو بجلی کے بل کا خوف۔ مہینے کی پہلی تاریخ آتے ہی کیلنڈر دیکھنے کے بجائے بجلی کا میٹر دیکھنے کو جی چاہتا ہے کہ نہ جانے اس مرتبہ اس ننھی سی مشین نے گھر کے کتنے خوابوں کا حساب لکھ دیا ہے۔ غریب آدمی بجلی استعمال کرنے سے پہلے اب دو مرتبہ سوچتا ہے اور بل ہاتھ میں آنے کے بعد چار مرتبہ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میٹر بجلی گنتا ہے اور حکمران عوام کی برداشت۔
یہ وہ ملک ہے جہاں ایک طرف عام آدمی کے لیے بجلی کا ایک یونٹ بھی عیاشی بن چکا ہے اور دوسری طرف بجلی کے شعبے کے پیچیدہ مالیاتی نظام، مختلف محصولات، معاہدوں اور استعداد کی ادائیگیوں کا بوجھ مسلسل عوام کے کندھوں پر منتقل ہوتا رہا ہے۔ بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، اس کی قیمت کا سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ صنعت چلے یا نہ چلے، کاروبار بڑھے یا سکڑے، کارخانہ اپنی پوری صلاحیت سے پیداوار کرے یا مشینوں پر جالے لگ جائیں، قومی معیشت کو بہرحال قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دے کر کم از کم یہ تو ثابت کیا ہے کہ احتجاج صرف پتھراؤ، شیشے توڑنے اور سرکاری املاک جلانے کا نام نہیں۔ ایک احتجاج ایسا بھی ہو سکتا ہے جس میں کوئی اینٹ نہ ٹوٹے مگر حکمرانوں کی نیند ضرور ٹوٹنے کی کوشش کی جائے۔ کوئی گاڑی نہ جلے مگر اقتدار کے ایوانوں میں ایک سوال ضرور جلتا رہے۔ کوئی ٹریفک اشارہ نہ ٹوٹے مگر حکمرانوں کے ضمیر کا اشارہ ضرور سرخ ہو جائے۔
یہ دھرنا اسی اعتبار سے اہم ہے۔
اس احتجاج میں مختلف سیاسی وابستگی رکھنے والے لوگ شریک ہیں۔ تاجر ہیں، طلبہ ہیں، سماجی کارکن ہیں، مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جن کی واحد سیاسی وابستگی اس وقت ان کا خالی بٹوہ ہے۔ لاہور کے وہ تاجر بھی اس آواز میں اپنی آواز شامل کر رہے ہیں جن کے سیاسی روابط کبھی مسلم لیگ ن کے ساتھ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سے وابستہ لوگ بھی ہیں اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے افراد بھی۔ گویا مہنگائی نے وہ کام کر دکھایا ہے جو ہماری سیاسی جماعتیں برسوں کی کوشش کے باوجود نہ کر سکیں؛ اس نے مختلف سیاسی خیموں کے درمیان کھڑی دیواروں میں دراڑ ڈال دی ہے۔
اور یہی حکمرانوں کے لیے اصل پیغام ہے۔
جناب شہباز شریف صاحب! جناب نواز شریف صاحب! ذرا اس منظر کو غور سے دیکھیے۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت کی شکایت نہیں رہی۔ یہ اس آدمی کی فریاد ہے جو بجلی کا بل ہاتھ میں پکڑ کر سوچتا ہے کہ بچوں کی فیس دوں یا بل ادا کروں۔ یہ اس مزدور کی فریاد ہے جسے مہینے کے آخر میں گھر لے جانے کے لیے اجرت کم اور ضروریات زیادہ ملتی ہیں۔ یہ اس تاجر کی فریاد ہے جس کی دکان پر گاہک کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔ یہ اس صنعت کار کی فریاد ہے جس کے لیے بجلی کی قیمت پیداوار کی لاگت نہیں بلکہ کاروبار بند کرنے کی دعوت بنتی جا رہی ہے۔
اور حضور! آپ سے زیادہ اس صورتحال کی نزاکت کون سمجھ سکتا ہے؟ آپ اقتدار میں ہیں۔ آپ کے پاس اختیار ہے۔ آپ کے پاس وزارتیں ہیں، ادارے ہیں، فائلیں ہیں، مشیر ہیں، ماہرین ہیں، اجلاس ہیں، کمیٹیاں ہیں اور یقیناً ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر مشکل سوال کا ایک خوبصورت سا جواب تیار کرکے آپ کے سامنے رکھ دیتے ہوں گے۔ مگر خدارا کبھی ان خوبصورت جوابات کو ایک طرف رکھ کر غریب کے گھر کا بجلی کا بل بھی پڑھ لیجیے۔
شاید وہاں کوئی خوبصورت جواب نہ ملے۔ وہاں صرف ایک سوال ہوگا۔
“میں یہ بل کیسے دوں؟”
یہ سوال کسی تقریر سے نہیں، کسی سیاسی نعرے سے نہیں، کسی بجٹ تقریر سے نہیں اور کسی سرکاری بیان سے حل ہوگا۔ اس کے لیے فیصلہ کرنا ہوگا۔ ایسے فیصلے جو طاقتور مفادات کو ناراض کر سکتے ہیں۔ ایسے فیصلے جن کے لیے سیاسی مصلحتوں سے اوپر قومی مفاد کو رکھنا پڑے گا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔
آئی پی پیز کے معاملے پر قوم کو محض اعداد و شمار نہیں چاہیے۔ قوم کو وضاحت چاہیے، شفافیت چاہیے اور سب سے بڑھ کر ایسا نظام چاہیے جس میں قومی خزانے اور عوام کو ناقابل برداشت بوجھ تلے نہ دبایا جائے۔ اگر ایسے معاہدے موجود ہیں جو ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں تو ان پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ اگر بجلی کے شعبے میں ایسی ادائیگیاں ہو رہی ہیں جن کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل ہوتا ہے تو ان کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ اگر کہیں عوام کے مفاد کے مقابلے میں طاقتور مفادات زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں تو پھر حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا وفادار عوام ہے یا مراعات یافتہ طبقہ۔
یہاں ایک سوال اور بھی ہے۔
اگر حکومت ہر مشکل وقت میں غریب سے قربانی مانگ سکتی ہے تو کبھی طاقتور سے قربانی کیوں نہیں مانگی جا سکتی؟
غریب سے کہا جاتا ہے بجلی کم استعمال کرو۔ تاجر سے کہا جاتا ہے ٹیکس دو۔ صنعت کار سے کہا جاتا ہے لاگت برداشت کرو۔ مزدور سے کہا جاتا ہے صبر کرو۔ والدین سے کہا جاتا ہے بچوں کی فیس کا بندوبست کرو۔ مگر عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ طاقتور طبقات سے آخر کب کہا جائے گا کہ اب آپ بھی کچھ قربانی دیجیے؟
یہ کیسا معاشی فلسفہ ہے کہ قربانی ہمیشہ نیچے سے اوپر جاتی ہے اور سہولت ہمیشہ اوپر سے نیچے آنے سے پہلے راستے میں کہیں غائب ہو جاتی ہے؟
جناب شہباز شریف اور جناب نواز شریف!
اب ذرا اپنے سیاسی ماضی کے آئینے میں بھی دیکھیے۔ بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری اور آئی پی پیز کا باب اسی سیاسی نظام کے مختلف ادوار میں آگے بڑھا۔ آج آپ کے پاس موقع ہے کہ ماضی کے فیصلوں کو مقدس صحیفہ سمجھ کر ان کا دفاع کرنے کے بجائے جہاں خرابی ہے اسے درست کریں۔ تاریخ میں غلط فیصلے ہو جانا جرم نہیں، غلطی سامنے آنے کے بعد اسے درست نہ کرنا ضرور ایک بڑی سیاسی ناکامی بن سکتا ہے۔
اپنے سینے پر واقعی ایک بھاری پتھر رکھیے۔
اگر کسی طاقتور کاروباری طبقے کو ناراضی ہوگی تو ہونے دیجیے۔ اگر کچھ بااثر لوگ خوش نہیں ہوں گے تو نہ ہوں۔ حکومت کا منصب اس لیے نہیں ہوتا کہ سب طاقتور لوگ خوش رہیں۔ حکومت کا منصب اس لیے ہوتا ہے کہ ملک کا عام آدمی زندہ رہ سکے، صنعت چل سکے، روزگار پیدا ہو سکے اور ریاست اپنے شہری کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دے سکے۔
ورنہ اقتدار کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ جب کرسی سامنے ہوتی ہے تو انسان سمجھتا ہے کہ اختیار ہمیشہ رہے گا، اور جب کرسی چلی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اختیار بھی کرائے کے مکان کی طرح تھا۔
آج جو دولت ہے، کل نہیں ہوگی۔ آج جو منصب ہے، کل نہیں ہوگا۔ آج جو پروٹوکول ہے، کل کسی اور کے ساتھ ہوگا۔ آج جن دروازوں پر دربان کھڑے ہیں، کل وہاں شاید کوئی پہچاننے والا بھی نہ ہو۔ آخرکار انسان کو اپنے اعمال کے ساتھ ہی رخصت ہونا ہے۔
پھر کیوں نہ ایسا کام کیا جائے جسے جاتے ہوئے انسان اپنے دل میں سکون کے ساتھ یاد کر سکے؟
کیوں نہ یہ کہا جائے کہ ہاں، ہمارے دور میں ایک ایسا فیصلہ ہوا جس سے غریب کے گھر کا چراغ دوبارہ روشن ہوا؟ کیوں نہ تاریخ میں یہ لکھا جائے کہ ایک حکومت نے طاقتور مفادات کے سامنے جھکنے کے بجائے عوام کے حق میں فیصلہ کیا؟
حافظ نعیم الرحمن کے دھرنے کی اصل اہمیت یہی ہے کہ اس نے مایوس آدمی کو یہ احساس دلایا ہے کہ شاید ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ شاید اقتدار کے ایوانوں تک آواز پہنچائی جا سکتی ہے۔ شاید احتجاج شائستگی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ شاید سیاست گالی کے بغیر بھی ہو سکتی ہے اور اختلاف پتھر کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ دھرنا اگر کسی چیز کی علامت ہے تو وہ امید کی علامت ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں نوجوان مستقبل کے بجائے بیرون ملک جانے کے راستے تلاش کر رہا ہو، جہاں والد اپنے بچوں کی فیس کے لیے پریشان ہو، جہاں ماں گھر کے راشن میں ایک ایک چیز کم کر رہی ہو، جہاں کاروباری آدمی بجلی کے بل کو دیکھ کر دکان بند کرنے کا سوچ رہا ہو اور جہاں صنعت توانائی کی قیمتوں کے بوجھ تلے کراہ رہی ہو، وہاں کسی ایک شخص کا یہ کہنا کہ “خدا را اس ملک کے غریب پر رحم کیجیے” معمولی بات نہیں۔
یہ دراصل ایک پورے معاشرے کی فریاد ہے۔ اور حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ فریاد جب حد سے بڑھ جائے تو تاریخ بن جاتی ہے۔
آج حافظ نعیم الرحمن مال روڈ پر بیٹھے ہیں۔ آج عوام ہاتھوں میں اپنے مطالبات لیے کھڑے ہیں۔ آج احتجاج پرامن ہے۔ آج لوگ دلیل دے رہے ہیں۔ آج کوئی شیشہ نہیں ٹوٹا۔ کوئی عمارت نہیں جلی۔ کوئی سرکاری املاک نہیں لوٹی گئی۔ مگر یہ بھی یاد رکھیے کہ پرامن عوامی احتجاج کو کمزوری سمجھنا حکمرانوں کی سب سے بڑی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔
خاموش آدمی ہمیشہ مطمئن نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی وہ صرف آخری حد تک برداشت کر رہا ہوتا ہے۔
اس لیے بہتر ہے کہ اس آواز کو وقت پر سن لیا جائے۔
آئی پی پیز کے معاملات کی شفاف جانچ ہو۔ بجلی کے نرخوں کا بوجھ کم کیا جائے۔ عوام پر عائد غیر ضروری مالی بوجھ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ صنعت کو سستی اور قابل اعتماد توانائی فراہم کی جائے۔ کاروبار کو سانس لینے دی جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ احساس پیدا کیا جائے کہ ریاست اپنے شہری کے مقابل نہیں بلکہ اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
ورنہ مہنگائی کی یہ آگ صرف غریب کی جھونپڑی تک محدود نہیں رہے گی۔
آگ جب پھیلتی ہے تو اسے محل اور جھونپڑی کا پتا نہیں پوچھنا پڑتا۔
آج جس گھر میں بجلی کا بل آیا ہے، کل اسی بحران کی دستک کسی بڑے کاروباری دروازے پر بھی ہو سکتی ہے۔ آج جس صنعت کا پہیہ رک رہا ہے، کل اسی کے اثرات پورے معاشی نظام کو اپنی گرفت میں لے سکتے ہیں۔ آج جس نوجوان کا خواب ٹوٹ رہا ہے، کل اسی مایوسی کا حساب پوری ریاست کو دینا پڑ سکتا ہے۔
لہٰذا جناب شہباز شریف اور جناب نواز شریف، یہ وقت دفاع کرنے کا نہیں، اصلاح کرنے کا ہے۔ یہ وقت ماضی کی فائلیں کھول کر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کا نہیں، مستقبل کا راستہ درست کرنے کا ہے۔ اگر کوئی معاہدہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے تو اسے درست کیجیے۔ اگر کوئی پالیسی صنعت کو مار رہی ہے تو اسے بدلیے۔ اگر کوئی نظام غریب کا خون نچوڑ رہا ہے تو اسے ختم کیجیے۔
اور خدا را یہ نہ سمجھیے کہ عوام ہمیشہ خاموش رہیں گے۔
عوام خاموش ضرور ہیں، بے خبر نہیں۔
وہ سب دیکھ رہے ہیں۔
وہ بجلی کا میٹر بھی دیکھ رہے ہیں، بجلی کا بل بھی، بازار کی قیمتیں بھی، بند ہوتے کاروبار بھی اور اقتدار کے ایوانوں کے فیصلے بھی۔
اب فیصلہ حکمرانوں نے کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں کس حیثیت سے یاد رکھے جانا چاہتے ہیں۔
ان لوگوں کے طور پر جنہوں نے مشکل وقت میں بھی طاقتور مفادات کی حفاظت کی؟
یا ان لوگوں کے طور پر جنہوں نے ایک دن اپنے سیاسی مفادات، ذاتی مصلحتوں اور طاقتور حلقوں کی ناراضی سے بلند ہو کر کہا:
بس بہت ہوگیا۔ اب پاکستان کے عوام پر رحم ہوگا۔
شاید یہی وہ جملہ ہے جس کا انتظار اس وقت پورا پاکستان کر رہا ہے۔
جماعت اسلامی کا دھرنا – عوام جلتے رہے، اقتدار کے چراغ روشن رہے



