کیا شان ہے، ہمارے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی۔

تحریر: عابد حسین قریشی



کتنے مبارک تھے وہ لمحات، کس قدر مسحور کن تھیں وہ گھڑیاں، کتنی راحت آمیز اور نشاط انگیز تھیں وہ ساعتیں، کتنا با برکت اور روح پرور تھا وہ وقت، جب اس کائنات میں سرور کائنات اور فخر کائنات نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ اور ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ انہی کی امت میں پیدا ہوئے۔ سرکارِ دو عالم خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آل وسلم کو رحمت العالمین کا خطاب مالک کائنات نے اپنی مقدس کتاب قرآن پاک میں عطا کیا ہے۔ یہ رب کریم کی وہ عطا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کا ہر امتی اس پر فخر کرنے میں حق بجانب ہے۔ قرآن پاک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی شان بار بار بیان ہوئی۔ آپکے احترام، آپکی عزّت، آپ کے آرام، آپ کے طرز زندگی، بود و باش، معاشرت غرضیکہ ہر پہلو کو قرآن نے اجاگر کیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف اس جہاں کے لئے رحمتہ العالمین نہیں فرمایا بلکہ تمام جہانوں کے لئے کہا ہے۔ اس کائنات میں کتنے جہاں ہیں، اور کتنے ابھی ظہور میں آنے ہیں، ان سب جہانوں کے لئے ہمارے آقا و مولا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمتہ العالمین ہیں۔ جو تمام جہانوں کے لئے رحمتہ العالمین ہیں ، وہ تو ساری امتوں اور ساری قوموں کے لئے بھی رحمتہ العالمین ہیں۔ اس ٹائٹل میں کئی راز پنہاں ہیں، کئی حقیقتیں لوگوں پر اس دوسرے جہاں جو روز محشر سے شروع ہوگا، منکشف ہوں گی، کہ ہمارے نبی محتشم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کا اصل مقام و مرتبہ کیا ہے، جب تمام نبیوں کو اپنی اپنی امتوں پر گواہ کے طور پر لایا جائے گا اور اللہ کی کتاب کہتی ہے، کہ ہمارے نبی ان سب کے اوپر گواہ کے طور پر آئیں گے، تو اس روز رحمتہ العالمین کے اصل معانی اور راز کھلیں گے، اور منکرین ختم نبوت کے پاس یاس و پشیمانی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

نبی مکرم صل اللہ علیہ و آل وسلم کی رحمت و برکت کو کسی خاص زمانہ اور کسی خاص وقت کے لیے محدود نہ کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ وہ بحرِ بیکراں ہے جو صدیوں سے پوری آب و تاب اور روانی سے رواں دواں ہے۔ اس آفتاب و ماہتاب کی دل نشین، دلآویز کرنیں اہل ایمان کے چہروں اور دلوں کو تا ابد منوّر کرتی رہیں گی۔ حضور اکرم صل اللہ علیہ وآل وسلم ظہورِ عرب کے فسق و فجور میں ڈوبے اور اُجڑے دیار میں بہارِ جانفزا کا ایک ایسا پُر کیف جھونکا ہیں ، کہ جسکی خوشبو پورے ماحول کو معطّر کر گئی اور ایک بے کیف و بے سُرور اور کفر و الحاد میں ڈوبا معاشرہ ایسی کروٹ لیتا ہے کہ عداوت و رقابت کی جگہ اُنس و محبت، انتقام کی جگہ عفو و درگزر اور خود غرضی کی جگہ اخلاص و ایثار نے لے لی۔ اور اس انقلابِ دل نشین نے سر زمین عرب کی کایا پلٹ دی۔ اور پھر ہر کوئی آقا کریم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے فضل و کمال اور صدق مقال کا معترف نظر آتا ہے۔

جب شانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آل وسلم اور مقامِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آل وسلم کا تعیّن خود اللہ تعالٰی نے فرما دیا ہے تو کون اس شان اور مقام میں کمی بیشی کر سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی منفرد شان، بلند مقام و مرتبہ، رفعت، عظمت اور عزت و توقیر خود اللہ تعالٰی بیان فرما رہے ہیں۔ ایک زمانہ اُنکی عظمت و رفعت کا قائل اور دنیا میں کروڑوں مسلمان اُنکی عزّت و حرمت پر کٹ مرنے کو تیار ۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ چشم فلک نے کسی انسان کو روئے زمین پر گذشتہ تقریباً پندرہ سو سال سے اتنی شان اور آن اور عزّت و تکریم سے نہیں دیکھا۔ اتنا احترام، اتنا عشق، اتنی محبت ، اتنی چاہت،اتنی شیفتگی، اتنی فریفتگی اور اتنی گرویدگی کہ ہر مسلمان آقا کریم صل اللہ علیہ و آل وسلم کی رحمت و برکت اور وسیلہ سے دعائیں مانگتا ہے۔ درود و سلام کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔ جو کروڑوں لوگ اپنے لبوں پر سجائے دیوانہ وار پیش کر رہے ہیں۔ کیا یہ سعادت اور یہ خوش بختی کبھی کسی دیگر کے حصّہ میں بھی آئی۔ کون اس سراپا رحمت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ کوئی جعل ساز، کوئی کذّاب اس نبی مکرم صل اللہ علیہ و آل وسلم کے پاؤں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔

یہ ہماری خوش قسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں اس رحمت العالمین صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی اُمت میں پیدا کیا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا فخر ہی یہی ہے کہ ہم حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ کیا دُنیا کی کوئی بڑی سے بڑی نعمت، کسی قارون کے خزانے اور کسی سلطنت کی فرماں روائی ان دعائے نیم شبی اور ان گریہ ہائے سحر گاہی کا مقابلہ کر سکتی ہیں ، جو آقا کریم صل اللہ علیہ و آل وسلم نے اس اُمّت کی بخشش و مغفرت کے لیے کیں اور کیا ہم اپنے آقا کریم صلی اللہ علیہ و آل وسلم، اُس مرقع دلبری و زیبائی کی نوک مثرگاں پر لرزتے ہوئے آنسو اور آپکی دلسوزیوں اور اشکباریوں اور اپنی اُمت کے لیے درد، احساس بلکہ تڑپ کا کوئی حق ادا کر سکتے ہیں کہ ہمارے لیے تو ایسا نبی آخرالزمان، رحمت العالمین صلی اللہ علیہ و آل وسلم کا وجودِ مسعود خدائے بزرگ و برتر کا، بے پایاں احسان، کرم، فیض اور رحمت ہے کہ جو کسی بھی دنیاوی منفعت سے بہت بالا، بہت قیمتی، بہت نایاب اور بہت لازوال ہے۔



  تازہ ترین   
سی آئی اے چیف کا ماسکو کا دورہ، روس کو سنگین نتائج کی دھمکی
آبنائے ہرمز میں کویتی آئل ٹینکر السلام ٹو پر حملہ، عملہ محفوظ
ایرانی صدر کی اسلامی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی تردید کر دی
سانحہ پمز ہسپتال: اقوام متحدہ کا 14 نومولود کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس
اسرائیلی فوج کو فنڈز کی کمی کا سامنا، جنگی تیاری متاثر ہونے کا اعتراف
ایران نے امریکی اقتصادی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر