’’مجھے میرا بچہ واپس دیں‘‘ — پمز کے این آئی سی یو واقعے کے بعد دکھی ماں کی دل دہلا دینے والی فریاد

اسلام آباد (رانا تصدق حسین) اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ (این آئی سی یو) میں مبینہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد نومولود بچوں کی تعداد، شناخت، انخلا اور انجام سمیت ہسپتال کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں میں شامل ایک دکھی ماں نے ہسپتال کے باہر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کے وقت این آئی سی یو اور متعلقہ وارڈز میں طبی و نرسنگ عملے کی موجودگی کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک تھی۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

دکھی ماں کا کہنا تھا کہ انہیں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ این آئی سی یو میں اس وقت کتنے بچے موجود تھے، کتنے بچوں کو بحفاظت نکالا گیا اور کتنے بچے جاں بحق ہوئے یا لاپتا ہیں۔ ان کے مطابق انہیں بچوں کی باقیات یا شناخت کے حوالے سے بھی تسلی بخش معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب وہ این آئی سی یو کی جانب گئیں تو یونٹ مبینہ طور پر لاک تھا۔ ان کا سوال تھا کہ اگر اندر نومولود بچے موجود تھے تو یونٹ بند کیوں تھا اور اس وقت متعلقہ عملہ کہاں موجود تھا۔

متاثرہ ماں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد تقریباً ایک گھنٹے کے دوران بعض ڈاکٹرز این آئی سی یو کی جانب آئے، جبکہ ریسکیو اور پولیس کی آمد میں بھی مبینہ طور پر تاخیر ہوئی۔ ان کے مطابق ریسکیو تقریباً دو گھنٹے بعد اور پولیس چار گھنٹے بعد پہنچی۔ تاہم ریسکیو اور پولیس کی آمد کے درست اوقات اور واقعے کی مکمل ٹائم لائن متعلقہ اداروں کی تحقیقات سے ہی واضح ہو سکتی ہے۔

دکھی ماں نے ہسپتال کے نرسنگ اور طبی عملے کے رویے پر بھی سنگین الزامات عائد کیے اور کہا کہ انہیں اپنے بچے کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا چند روز قبل سی سیکشن ہوا تھا اور وہ اب بھی ہسپتال کے باہر اپنے بچے کے بارے میں جواب کی منتظر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ “مجھے میرا بچہ واپس دیں” اور حکام سے مطالبہ کیا کہ ہر نومولود بچے کے بارے میں واضح اور قابلِ تصدیق معلومات فراہم کی جائیں۔

تحقیقات کے لیے اہم سوالات

واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، تاہم صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر کئی بنیادی سوالات کا جواب سامنے آنا ناگزیر ہے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آتشزدگی کے وقت این آئی سی یو میں حقیقتاً کتنے نومولود بچے موجود تھے؟ کتنے بچوں کو بحفاظت نکالا گیا، کتنے جاں بحق ہوئے اور ہر بچے کی شناخت کس طریقے سے کی گئی؟

یہ بھی واضح کیا جانا ضروری ہے کہ والدین کو بچوں کی شناخت اور منتقلی کے بارے میں کیا ریکارڈ فراہم کیا گیا اور اگر کوئی بچہ جاں بحق ہوا تو اس کی شناخت، طبی ریکارڈ اور فرانزک کارروائی کیسے مکمل کی گئی۔

اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا این آئی سی یو واقعے کے وقت لاک تھا؟ اگر ایسا تھا تو اسے کس نے اور کس مقصد کے تحت بند کیا تھا؟ ہنگامی صورتحال میں یونٹ کے دروازے، ایمرجنسی راستے، فائر الارم اور آگ بجھانے کے نظام کی کیا حالت تھی؟

واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کی مکمل فہرست بھی سامنے آنی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ہنگامی صورتحال میں نومولود بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مطلوبہ عملہ موجود تھا یا نہیں۔

ریسکیو اور پولیس کی آمد کے حوالے سے بھی مکمل ٹائم لائن جاری کی جانی چاہیے، جس میں آگ لگنے کا وقت، اطلاع ملنے کا وقت، ریسکیو کی روانگی اور آمد، پولیس کی آمد، بچوں کے انخلا اور انہیں منتقل کیے جانے کے اوقات شامل ہوں۔

اگر کسی افسر یا ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بچوں کو “ڈبوں میں لے جانے” کی بات کی گئی تو اس بیان کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ اس سے کیا مراد تھی، بچوں کو کہاں منتقل کیا گیا اور ان کی شناخت کس طرح کی گئی۔

ہر بچے کا قابلِ تصدیق ریکارڈ ضروری

اس واقعے میں متاثرہ والدین کا بنیادی مطالبہ محض آتشزدگی کی وجوہات جاننا نہیں بلکہ اپنے بچوں کے بارے میں مکمل اور قابلِ تصدیق معلومات حاصل کرنا ہے۔

ضروری ہے کہ این آئی سی یو میں داخل ہر نومولود بچے کا الگ ریکارڈ سامنے لایا جائے، جس میں داخلے کا وقت، شناخت، طبی ریکارڈ، ڈیوٹی پر موجود عملہ، انخلا یا منتقلی کی تفصیلات اور موجودہ حیثیت واضح ہو۔

جہاں بچے جاں بحق ہوئے ہوں وہاں شناخت اور فرانزک معائنے کا شفاف طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندانوں کے شکوک دور کیے جا سکیں۔

شفاف تحقیقات کا مطالبہ

متاثرہ ماں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات فی الحال الزامات ہی ہیں اور ان کی آزادانہ تحقیقات کے بغیر انہیں حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم الزامات کی نوعیت ایسی ہے کہ انہیں نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

واقعے کی غیر جانب دار، شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ تحقیقات میں ہسپتال انتظامیہ، طبی و نرسنگ عملے کی ڈیوٹی، حفاظتی نظام، فائر سیفٹی انتظامات، ریسکیو ردعمل اور بچوں کے ریکارڈ سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اگر غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، حفاظتی نظام میں خامیاں سامنے آئیں تو انہیں دور کرنے کے ساتھ ذمہ داری بھی مقرر کی جائے، اور اگر کسی مجرمانہ عمل کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب اگر متاثرہ خاندانوں کی جانب سے لگائے گئے کسی الزام کی تحقیقات میں تردید ہوتی ہے تو اس کی بھی واضح اور دستاویزی وضاحت عوام اور والدین کے سامنے پیش کی جانی چاہیے۔

اس پورے معاملے کا بنیادی سوال یہی ہے: ہر نومولود بچے کا حساب کہاں ہے؟

والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں سچ جاننے کا حق ہے، جبکہ ریاستی اداروں اور ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کی شناخت اور انجام کے بارے میں مکمل، شفاف اور قابلِ تصدیق جواب فراہم کریں۔



  تازہ ترین   
امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام
پوری دنیا ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور استقامت پر حیران ہے: صدر پیوٹن
روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن
خلیجی ممالک کی مدینہ منورہ میں حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت
سعودی وزیر دفاع کے امریکی و فرانسیسی وزرائے دفاع سے رابطے، امن کیلئے اقدامات پر زور
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا
افغان طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی، ڈرون حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر