تحریر: ذوالفقار علی
اس وقت جب وہ دوست چھوڑ گیا تھا۔ دوست بھی ایسا کہ جو سب کچھ تھا جس کے لئے حقیقتا تو درکنار خیال بھی کبھی برا ذھن میں لانا کفر سمجھتا تھا۔ اتنی عزت محبت اور خلوص کی وجہ؟ یہ تو آج تک خود بھی سمجھ نہیں آئی لیکن یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔ لوگ کہتے ھیں صورت یا کردار کا حسن اس کی وجہ ھوتی ھے لیکن میرے خیال میں صرف ایفیلیشن جب انسان کسی شخص یا ماحول کا عادی ھو جائے تو اس سے جدائی اس کے لئے موت ھوتی ھے۔ اس کے بعد کسی چیز میں کشش باقی نہیں رھی البتہ پہاڑوں پہ اکیلے جا کر کھو جانا باقی رھے گیا۔ وھاں جا کر خود کو بھی بھول جانا۔ ادھر جا کر اکیلے میں کچھ ایسا محسوس ھوتا ھے جو بیان سے باھر ھے۔ اب یہ بھی حقیقت ھے ادھر جا کر خود کو بھول جاتا ھوں لیکن اس کو نہیں بھلا سکتا پھر اچانک ذھن پھر جاتا ھے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا تو کیا ھوا وہ تو میرے ساتھ ھے جس نے اسے پیدائش اور فنا بخشی ایک اس ھی کو کیا ھر چیز کو۔ پہاڑوں گلیشئرز کی عظمت اور پھر ان کو ٹوٹتے اور گرتے دیکھ کر بے اختیار دل کانپ اٹھتا ھے اور اس عظیم ھستی کے آگے سجدہ ریز ھو جاتا ھے جس سے میری تمام توقعات وابستہ ھیں۔ میرا ارادہ نہ بھی ھو تو کوئی طاقت مجھے کھینچ کر ادھر لے جاتی ھے اپنا آپ دکھانے۔ نہ کبھی پلاننگ کی ھے نہ مطالعہ سب انتظامات خود ھی ھو جاتے ھیں جب کہیں پہنچنا ھو تو۔
2019 سے ارادہ تو تھا سنو لیک دیکھنے کا لیکن کیا میں اور کیا میرا ارادہ۔ ھر سال کچھ نہ کچھ مسئلہ بن جاتا۔ اس سال بھی ایسا ھی ھوا ملک ارشد بیمار ھو گیا اپنی پچھلے ٹریک والی کارستانی کی وجہ سے اور پروگرام کینسل ھو گیا کہ میڈم کا میسیج آگیا کہ ھمارے ساتھ آجائیں ھسپر لا سنو لیک ٹریک کے لئے۔ 7 لوگ تیار تھے لیکن آخر میں سب غائب ھو گئے۔ 2 ممبرز کو ٹریک کروانے میں نقصان تھا لیکن محمد خان بروکو نے اپنی کمٹمنٹ پوری کی اور کھلے دل سے تمام انتظامات کئے۔
18 جولائی 2025 کو دوپہر 3 بجے بیٹے نے فیصل موور پہ مجھے ڈراپ کیا اور اکیلے ھی میں سکردو کے سفر پہ روانہ ھوا۔ گاڑی نے بابو سر والے راستہ سے جانا تھا۔ پہلے گاڑی مانسہرہ چائے کے لئے رکی اور اس کے بعد جابہ، بالاکوٹ اور کوائی سے گزر کر رات کے کھانے کے لئے پارس کے پاس رکی۔ پارس کے بعد جرید مہانڈری کاغان، ناران۔ بٹہ کنڈی، بڑوائی، جھلکڈ سے گز کر بیسل پہ رکی۔ بیسل کے بعد بابوسر ٹاپ کانوائے بنا کر کراس کیا اور اس کے بعد ایک ھوٹل پہ فجر کی نماز کے لئے بریک لیا۔ پھر چیلاس چوک، گینی، گونر فارم، رائے کوٹ برج کے بعد جگلوٹ پہ ناشتہ کے لئے رکے۔ پھر عالم برج کراس کر کے سکردو روڈ پہ مڑ گئے۔ سسی، شینگس، استک نالہ، دمبوداس، باغیچہ، تنگس، گربیداس، باشو، سورداس، کچورا سے گزرتے 10 بجے ھماری بس سکردو اڈہ پہ پہنچ گئی۔ ٹیکسی پکڑی اور کونکورڈیا ھوٹل پہنچا تو پتہ چلا ھماری بکنگ دوسرے کونکورڈیا ھوٹل کی ھے جو قریب ھی دریا کنارے تھا۔ محمد خان بروکو اور اقبال سے ملاقات ھوئی اور وہ کمرے میں چھوڑ کر ٹریک کے انتظامات کرنے چلے گئے۔ میڈم بھی بائی ائر پہنچ گئی تھیں اور اپنے کسی جاننے والے کے ریسٹ ھائوس میں ٹہری تھیں۔
دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور پھر کٹپنہ تک واک کے لئے نکل گیا۔ بازار میں ھائکنگ کی بہت سی چیزیں نظر آئیں لیکن لیا کچھ نہیں۔ رات کو جلدی کھانا کھا کر نماز ادا کی اور سو گیا۔ صبح 7 بجے ناشتہ کے لئے ھال میں گیا تو پتہ چلا واحد میں ھی پاکستانی تھا باقی سب ادھر ٹہرنے والے فارنر تھے جو ٹریکنگ کے لئے پاکستان آئے تھے۔
ساڑھے 9 بجے صبح بروکو میڈم اور اقبال کو پک کر کے کونکورڈیا ھوٹل پہنچ گئے اور ھم اشکولی کے لئے روانہ ھوئے۔ شہر سے نکلنے کے بعد جب گاڑی شگر کی طرف مڑی تو اقبال پرمیشن کے کاغذ لے کر چیک پوسٹ پہ گیا اور انھوں نے چیک کرنے کے بعد ھمیں آگے جانے کی اجازت دے دی۔ شگر کے پاس سڑک پہ ھمیں ایک سانپ بھی نظر آیا جو کہ تیزی سے رینگتا کھیتوں میں گھس گیا۔
شگر، الچوری، غازی آباد، سوکگو، تسار سے گزر کر ھم داسو پہنچے تو یہاں آرمی والوں نے ھماری اینٹری کی اور اس کے بعد پل کراس کرنے کے بعد ایک ھوٹل پہ ھم کھانے کے لئے رکے۔ سادہ سے ھوٹل کے خوبصورت باغیچہ میں بیٹھ کر سادہ سا لنچ اور ساتھ میں محمد خان بروکو سے گپ شپ بھی ھو گئی۔ کھانے کے بعد دوبارہ اشکولی کی طرف چل پڑے۔ اشکولی سے آدھہ گھنٹہ پہلے ایک نالے میں سیلاب آگیا تھا۔ بروکو اور اقبال کی مدد سے میں تو نالہ کراس کر گیا لیکن میڈم نے انکار کر دیا۔ کافی دیر بعد پانی کم ھوا تو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بڑے بڑے پتھر ھٹائے اور پھر جیپیں کراس ھوئیں۔
اشکولی پہنچ کر ایک ھوٹل کے لان میں کیمپنگ کی اور چائے کا انتظام کیا گیا۔ علی رضا اور لیاقت نے بتایا کہ وہ بہت دفعہ سنو لیک جا چکے ھیں جس سے ھماری تسلی ھو گئی۔ میڈم نے ھوٹل میں کمرہ لیا جب کہ باقی لوگ ٹینٹ میں ھی رھے۔ چائے سے فارغ ھو کر اقبال ھمیں اشکولی گھمانے لے گیا۔ چھوٹی چھوٹی گلیوں سے گھماتا پہلے میوزیم لے گیا جہاں گھریلو اور زرعی روزمرہ استعمال کی قدیم چیزیں رکھی گئی تھیں۔ میوزیم ایک گھر میں بنایا گیا تھا۔ جس میں سردیوں اور جانوروں والے کمرے بھی بنائے گئے تھے۔ میوزیم کے بعد گھر کی طرف جاتے جب ھر بندہ اقبال کو ملا تو مجھے اندازہ ھو گیا کہ واقعی وہ لاڈلہ اقبال ھے۔ اقبال نے گھر پہ چائے کا انتظام کیا تھا اور ساتھ میں بھنے گوشت کا بھی جو بقول اس کے مارخور کا تھا اور ساتھ میں دیسی انڈے بھی ابالے تھے۔ اتنی عزت مہمانوں کو صرف دور دراز گائوں میں ھی دی جاتی ھے شہروں میں تو اب یہ رواج باقی نہیں رھا۔ اقبال کی گائوں میں واقفیت بہت زیادہ تھی اس لئے لوگوں کے ترز زندگی کو تفصیل سے دیکھنے کا موقع مل گیا۔ میرا نظریہ ھے جب کوئی عزت دے تو آپ بھی اس کو عزت دو اس لئے اس دوران کسی لوکل کی تصویر نہیں بنائی کیونکہ ان کی عورتیں اور بچے پہلے ھی کہے دیتے تھے نو پکچر۔ واپس ھوٹل پہنچ کر کھانا کھایا، نماز ادا کی اور سو گئے-
کیمپ میں صبح سویرے جاگ آجاتی ھے نماز ادا کی ناشتہ کیا سامان پورٹرز کے حوالہ کیا اور ساڑھ چھ بجے اشکولی سے ٹریک کا آغاز کیا۔ کچھ دیر بعد میڈم کو ٹائلٹ ٹینٹ کی کنفرمیشن کا خیال آیا بروکو کا فون مل گیا اور اس نے بتایا کہ سامان میں رکھوا دیا تھا۔ 40 منٹ بعد ھم کراکرم پارک کے آفس میں تھے۔ آفس کے ساتھ دریا تھا اور اس کے پار ایک خوبصورت گائوں تھا تیستے نام کا۔ فارم فل کیا اور دوبارہ چل پڑے۔ اقبال اور میڈم تھوڑا پیچھے رھے گئے تھے۔ پل کے پاس مجھے بیافو والا راستہ نظر نہیں آیا اور پل کراس کر کے بیٹھ گیا تو اقبال نے دور سے آواز لگائی k2 جا رھے ھو چاچا واپس آئو۔ پل سے واپس آکر بغور جائزہ لیا تو ایک چھوٹا سا راستہ بائیں طرف اوپر جا رھا تھا یہی بیافو کا راستہ تھا۔ اس راستہ پہ ھماری ملاقات ایک اور گروپ سے ھوئی جو 74 سالہ جاپانی کو لے کر سنو لیک جا رھے تھے۔ تقریبا 1 گھنٹہ مزید چلنے کے بعد راستہ ایک چھوٹی سی پہاڑی پہ چڑھنا شروع ھو گیا۔ پہاڑی کے درہ پہ پہنچ کر میں نے علی رضا کا دیا ھوا لنچ کھانا شروع کر دیا تاکہ پیچھے والے بھی پہنچ جائیں۔ جب سب پہنچ گئے تو پھر دوبارہ اپنے سفر کو جاری رکھا۔ اب کچھ دیر کی سخت اترائی تھی اور سلائڈنگ ایریا بھی۔ اترائی کے بعد گلیشئر کے بائیں طرف پہاڑ کے ساتھ ٹریک تھا اور سر کے اوپر اونچا سلائڈنگ والا پہاڑ تھا۔ جوں جوں آگے بڑھتے گئے راستہ مزید خراب ھی ھوتا گیا۔ پھر ایک گلیشئر میں ایک چھوٹی سی جھیل کے پاس سے ھمارا گزر ھوا اور اس کے کچھ دیر بعد راستہ ختم ھو گیا اب ھمیں گلیشئر پہ پڑے بڑے بڑے پتھروں پہ خود راستہ ڈھونڈ کر چلنا تھا۔ کبھی دائیں تو کبھی بائیں راستہ ڈھونڈتے اور چلتے گئے۔ کریوسس بھی تھیں لیکن شروع میں کم جو بعد میں بڑھتی چلی گئیں۔ لوکلز کے رکھے پتھروں کے نشانات جن کو وہ بتا کہتے ھیں ھماری رہنمائی کر رھے تھے۔ ایک جگہ خاصی چوڑی کریوس پہ جب اندر جھانک کر دیکھا تو خوف آگیا۔ خوف کی وجہ سے چوڑائی اور زیادہ لگنے لگی۔ علی رضا نے کراس کرنے کے بعد مجھے بھی اس کریوس کو کراس کرنے میں مدد کی۔ اسی وقت ھمارے ایک خچر کے ناک میں سے خون آنا شروع ھو گیا اور وہ مر گیا جبکہ دوسرا کریوس میں گر گیا تو رسے ڈال کر بڑی مشکل سے اس کو نکالا گیا۔ ھمارا گائیڈ اقبال بھی پہلی ھی کریوس میں پائوں پھنسا کر تھوڑا زخمی ھو گیا اور اگر عین وقت پہ میڈم اس کا ھاتھ نہ پکڑتی تو سیدھا اندر ھی جاتا۔
بڑی کریوس کو کراس کرنے کے کچھ دیر بعد پہاڑ پہ چڑھنا شروع کردیا اور پھر ھم پہلی کیمپ سائٹ نملا پہ پہنچ گئے۔ پہلے دن ھم 16 کلومیٹر چلے تھے۔ انتہائی فضول سی جگہ تھی ریت ھی ریت اور پانی بھی دور نیچے گلیشئر سے لانا پڑتا تھا جو کہ گدلا تھا۔ کچن ٹینٹ لگایا گیا پھر دوسرے ٹینٹ۔ نماز ادا کی تو بارش شروع ھو گئی۔ نملا پہ ایک سپینش کپل پہلے سے موجود تھا جو بینتھا کے پاس کوئی چوٹی کرنے گئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد باقی ساتھی بھی پہنچ گئے اور جاپانی والا گروپ بھی۔ علی رضا نے ھمیں سوپ اور نوڈلز بنا کر دیئے۔ کیمپ کی جگہ میڈم کو پسند نہیں آئی لیکن مجبوری تھی۔ میڈم کو پچھلی رات ھوٹل کا تجربہ کوئی اچھا نہیں رھا تھا شاید ادھر پسو تھے اس لئے اقبال کو ٹینٹ اچھی طرح صاف کرنے کے لئے کہا۔ دوسرے ٹینٹ کے پاس خچر آنے کا بھی ڈر تھا۔ رات کو سوتے میں کوئی چیز آکر ٹینٹ کو چھیڑنا شروع کر دے تو ویرانے میں اچھا خاصہ دلیر بندہ بھی ایک دفعہ تو تو ڈر جاتا ھے۔ چھوٹی سی کیمپ سائٹ پہ بہت سارے ٹینٹ لگ گئے تھے شام تک۔ گدلا پانی بھی میڈم سے نہیں پیا جا رھا تھا لیکن مجبوری تھی۔ کھانا کھایا نماز ادا کی اور سو گئے۔
صبح روشنی ھونے سے پہلے ھی جاگ آگئی نماز ادا کی ناشتہ کیا اور 7 بجے انتہائی گندے راستہ پہ چل پڑے۔ شروع میں سخت اترائی اس کے بعد بڑے بڑے پتھر پھر کریوسس کی وجہ سے گھمائو پھرائو۔ 3 گھنٹہ تقریبا راستہ ایسا ھی رھا اس کے بعد منگو کیمپ سائٹ کے سامنے جا کر سفید گلیشئر شروع ھو گیا۔ سفید گلیشئر پہ پہلے تو کریوسس میں گرنے والے پانی کی آواز خوفزدہ کر رھی تھی لیکن آہستہ آہستہ ذھن عادی ھو گیا۔ کریوسس پھلانگتے ایک جگہ سے ھم دائیں طرف مڑ گئے ادھر خچر والوں نے ھمیں کراس کیا اور نظروں سے اوجھل ھو گئے۔ اس جگہ مجھے راستہ سمجھ نہیں آرھا تھا لیکن بتوں کی وجہ سے آسانی ھو گئی مڑنے کے کچھ دیر بعد رضا، اقبال اور میڈم بھی پہنچ گئے اور ایک جگہ ھم گلیشئر کو چھوڑ کر کھڑی چڑھائی چڑھنا شروع ھو گئے ۔ آگے سبزہ تھا اور ایک راستہ شافونگ کیمپ سائٹ کی طرف جا رھا تھا۔ تھوڑا چلنے کے بعد پتھروں سے بنا ایک کمرہ ملا جس کے اندر اور آس پاس مارخور کے سینگ بکھرے پڑے تھے۔ بقول اقبال کے کئی پشتوں سے شکاری سردیوں میں آکر اس کمرے میں ٹہرتے ھیں۔ اس کے بعد بتھروں کو کاٹ کر راستہ بنایا گیا تھا اور پھر ھم شافونگ کیمپ سائٹ کے اوپر پہن گئے۔ تھوڑی اترائی کے بعد ھم نالے کے کنارے ایک ریتلے میدان میں تھے۔ نالے کے ساتھ سبزہ تھا۔ یہی شافونگ کیمپ سائٹ تھی۔ مزید ڈیڑھ گھنٹہ آگے بینتھا کیمپ سائٹ تھی لیکن سب نے تھکاوٹ کی وجہ سے یہیں ٹہرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے دن ھم نے 14 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔
نملا سے بہتر تھی شافونگ کیمپ سائٹ لیکن نالے کا پانی گدلا تھا جو ھم نے پینا تھا۔ ھمارے پہنچنے سے پہلے پورٹرز نے ٹینٹ لگا دیئے تھے۔ علی رضا نے سوپ اور مکرونیز بنائیں۔ اس کے بعد کچھ تصاویر اتاریں تو پورٹر علی نے بتایا کہ اوپر سے سنو لیک نظر آتی ھے۔ پہلے تو اس کی بات کا یقین کر لیا لیکن جب آگے گئے تو پتہ چلا کہ راستہ تو بہت زیادہ گھوم جاتا ھے اس لئے یہ ممکن ھی نہیں کہ وہاں سے سنو لیک نظر آئے۔ مغرب کے وقت کھانا کھایا نماز ادا کی اور سو گئے۔ صبح تھوڑا سا چلنا تھا اس لئے آرام سے اٹھنے کا فیصلہ کیا لیکن روشنی ھوتے ھی جاگ آگئی اور نماز کے کچھ دیر بعد ھی ناشتہ بھی کر لیا۔ خچر اوپر گھانس میں چھوڑے تھے لیکن وہ کئی دور نکل گئے تھے۔ کچھ وقت اور گزارنے کے بعد تنگ آگئے اور 9 بجے اگلی کیمپ سائٹ بینتھا کی طرف چل پڑے۔ کچھ نالے کراس کرنے کے بعد ایک جھیل پہ پہنچ گئے اور اس کے آدھہ گھنٹہ بعد 11 بجے ھم ٹوٹل 5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بینتھا پہنچ گئے۔
سارا دن پڑا تھا۔ پہلے ساتھ والی پہاڑی پہ چڑھے پھر جھیل دیکھنے چلے گئے پھر۔ واپس آکر ٹھنڈے پانی سے غسل کیا۔ پھر پکوڑے بنا کر کھائے لیکن وقت پھر بھی نہیں گزرا۔ پورٹرز ادھر ایک دن مزید رکنا چاھتے تھے اس کے لئے انھوں نے مارخور کے شکار کا آسرا کرایا لیکن میں نے ایک نہ سنی کیونکہ یہاں آنے کا صرف ایک مقصد تھا وہ تھا سنو لیک کا دیدار تو میں ادھر وقت کیسے ضائع کرتا۔ آخر شام کے وقت کھانا کھایا نماز ادا کی اور سو گئے۔ صبح اٹھے تو پھر وھی کہانی پہلے ایک پورٹر آیا کہ آگے موسم خراب ھے ھم پھنس جائیں گے پھر دوسرے نے آکر یہی کہانی دھرائی جب ان دونوں کی نہ سنی تو پھر رضا نے بھی یہی کہانی سنا کر روکنا چاھا۔ سچی بات ھے اس وقت میرے دل میں بھی انھوں نے خوف پیدا کر دیا تھا اوپر پھنسنے کا لیکن میں نے ان سے کہا آگے جاتے ھیں موسم زیادہ خراب ھوا تو واپس آجائیں گے۔ لیاقت سے بات کی تو اس نے زبردست بات کی کہ جان تو سب کو پیاری ھوتی ھے اللہ تعالی نے ھمیں عقل دی ھے اگر خطرہ محسوس کیا تو واپس آجائیں گے لیکن جس مقصد کے لئے آئے ھیں اس کی کوشش تو کریں۔ جاپانی بھی بینتھا پہنچ گیا تھا اور اس کو یہی کہانی سنا کر اس کا سٹاف اس کو ایک دن ریسٹ کروا کر واپس لے گیا۔ جب کسی طرح ان کی بات میں نے نہ مانی تو وہ مجھے تو کچھ نہیں کہے سکتے تھے لیکن لیاقت سے لڑنا شروع کر دیا کہ کوئی بندہ اگر مر گیا تو اس کے تم ذمہ دار ھو گے۔ ان حالات میں ھی ناشتہ کیا اور 7 بجے آگے چل پڑے۔
پہلے اقبال غلط راستہ پہ لے کر نکل گیا جو لوٹاکا پیکز کی طرف جاتا تھا۔ پھر واپس آئے اونچی جگہ چڑھے اور پھر نیچے اترے۔ پھر ایک گھنٹہ وھی پتھر تھے اور ھم تھے۔ سردی میں بھی پسینہ آگیا۔ اس کے بعد ھم سفید گلیشئر پہ تھے لیکن اب ھمیں کئی جگہ کریوسس سے بچنے کے لئے لمبے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ مارفو غورو کے پاس پہنچ کر پھر پتھروں پہ چلنا پڑا اور 3 بجے ھم کیمپ سائٹ پہنچ گئے۔ اس دن ھم 12 کلومیٹر چلے۔ یہ بھی ریتلی جگہ تھی۔ ساتھ ایک بہت اونچا بھورا پہاڑ تھا۔ مارفو غورو کا مطلب بھی لال پہاڑ ھے۔ ھمارے کیمپ نالہ کے درمیان ریت کے ٹیلہ پہ لگائے گئے۔ پہلے چائے پی اس کے بعد رضا نے ھمیں مکرونیز کھلائیں اور سوپ پلایا۔ پانی صاف تھا لیکن سخت ٹھنڈا۔ نہ تو پینے پہ دل کرتا تھا نہ منہ ھاتھ دھونے پہ۔ مغرب کے وقت کھانا کھایا اور نماز ادا کر کے سو گئے۔ صبح نماز کے وقت اٹھے ناشتہ کیا اور اپنی اگلی منزل کارفو غورو کی طرف چل پڑے۔
حسب روایت پہلے ڈیڑھ گھنٹہ بولڈرز پہ خواری کا تھا اس کے بعد وائٹ گلیشئر۔ آج کے سفر میں کریوسز مزید بڑی اور زیادہ ھو گئی تھیں سفر تھوڑا تھا لیکن کبھی دائیں جاتے تو کبھی بائیں کریوسس کراس کرنے کے لئے۔ پھر کارفو غورو کیمپ سائٹ ھمارے بالکل سامنے آگئی لیکن درمیان میں کریوس تھی کافی آگے سے چکر کاٹ کر واپس آئے اور کچھ دیر بولڈرز پہ چل کر کیمپ سائٹ پہ پہنچ گئے۔ آج کے دن ھم 10 کلومیٹر چلے تھے۔ اس کیمپ سائٹ پہ پتھروں پہ چلنے کا دورانیہ صرف آدھا گھنٹہ تھا۔ کارفو غورو کا مطلب ھے سفید پہاڑ ۔ 4600 میٹر کی بلندی پہ واقع یہ کیمپ سائٹ پتھروں پہ تھی اور کافی سرد بھی۔ نماز ادا کرنے، چائے پینے کچھ کھانے اور سوپ پینے کے بعد جب آگے سنو لیک پہ جانے کے لئے کہا تو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میڈم نے انکار کر دیا۔ ان کو سمجھایا کہ ابھی موسم صاف ھے اور وقت بھی بہت ھے وزٹ کر آتے ھیں کل کے موسم کا کیا پتہ۔ اتنی دور آکر موسم کی وجہ سے حسرت باقی ھی نہ رھے جائے سنو لیک پہ گھومنے کی۔ بات سمجھ آگئی اور باوجود خراب طبیعت کے چل ھی پڑیں۔
2 بجے لیاقت، اصغر، اقبال، میڈم اور میں دوبارہ پتھروں پہ چل کر وائٹ گلیشئر پہ پہنچے تو ھارنس پہن کر سیفٹی روپ لگا لی۔ روپ کلائمبنگ والی نہیں تھی اور نہ ھمارے پاس آئس ایکس اور آئس سکریو تھے۔ 4 بندوں کے روپ اپ کا خاص فائدہ بھی نہیں ھوتا لیکن نہ ھونے سے بہتر ھے۔ اقبال کو کئی دفعہ روپ باندھنے کے لئے کہا لیکن اس پہ کوئی اثر نہ ھوا۔ تیسرا ھارنس بھی نہیں تھا اس لئے لیاقت بھی بغیر روپ کے چل رھا تھا۔ الحمدللہ سنو فال نہیں ھوئی تھی اس لئے کریوسس بالکل صاف نظر آرھی تھیں۔ اچانک موسم خراب ھوا اور ھلکی سی برفباری شروع ھو گئی لیکن کچھ دیر بعد رک گئی۔ تصاویر بناتے اچانک اقبال نے قمیض اتار دی۔ اس کو منع کیا لیکن اس پہ کوئی اثر نہ ھوا۔ سخت سردی تھی وھاں پہ اور ھائٹ بھی 4800 میٹر کے قریب ھو گی۔ جب ھر طرف کے پہاڑوں کا ویو صاف نظر آنے لگ پڑا تو میڈم نے واپسی کے لئے کہا۔ میرا دل تھا کہ مزید ایک گھنٹہ آگے ھسپر کے نیچے تک جائوں لیکن واپسی کا فیصلہ کیا کیونکہ ھمارا مقصد پورا ھو گیا تھا۔ سنو لیک کا سارہ نظارہ کر لیا تھا۔ واپسی پہ بھی ھمارے 2 گھنٹے لگ گئے اور جب کیمپ میں پہنچے تو مغرب ھونے والی تھی۔ واپس آکر کچن ٹینٹ میں گئے تو وہ بہت گرم تھا اور باھر شدید سردی۔ دوبارہ باھر نکلنے یا سنو لیک پہ ھوا لگنے کی وجہ سے میری طبیعت سخت خراب ھو گئی اور ٹھنڈ لگنےکے ساتھ بخار ھو گیا۔ کھانا کھایا آج رضا نے خوبصورتی سے سجا ھوا کسٹرڈ بھی ھمیں کھلایا۔ کھانے کے بعد کیمپ میں ھی بیٹھ کر نماز ادا کی اور لیٹ گیا لیکن جسم درد کی وجہ سے بےچینی تھی۔ اٹھ کر پیراسٹامول اور ایزومیکس لی اور زبردستی سلیپنگ بیگ میں گھس کر لیٹ گیا۔ رات کروٹیں بدلتے گزر گئی اور میں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ سنو لیک دیکھ آئے تھے دوسرے دن تو نہ مجھ میں ھمت تھی اور میڈم کو تو پہلے ھی بخار ھو گیا تھا البتہ اقبال کو بینتھا پہنچ کر بخار ھوا۔ صبح موسم خراب تھا لیکن سنو فال یا بارش شروع نہیں ھوئی تھی۔
نماز کے بعد ناشتہ کیا اور واپسی کا سفر شروع کیا۔ شاید میری حالت زیادہ خراب لگ رھی تھی آنکھیں بھی لال تھیں اس لئے سب بار بار مجھ سے طبیعت کا پوچھ رھے تھے۔ طبیعت تھی بھی بہت خراب اس کا اندازہ دو دن بعد ھوا جب کھانسی کے ساتھ ھلکا سا خون بھی آیا لیکن واپس تو چل کر ھی آنا تھا اس لئے برداشت کر گیا۔ واپسی پہ مارفا غورو جلدی ھی پہنچ گئے۔ بارش کی وجہ سے کیمپ سائٹ کے دونوں طرف نالے میں پانی گدلا تھا۔ نارمل روٹین کے مطابق سوپ وغیرہ کے بعد کچھ دیر پہاڑوں کو دیکھا اور پھر کھانے نماز کے بعد سو گئے۔ صبح ناشتہ کیا اور بینتھا کی طرف چل پڑے۔ بارش کی وجہ سے راستہ میں نالوں میں پانی زیادہ تھا لیکن گدلا۔
بینتھا پہنچے تو ادھر ایک بڑا گروپ پہنچا ھوا تھا۔ جس میں کچھ فارنرز بھی تھے اور ان کے گائیڈ مشہور کوہ پیما ذاکر صدہارہ تھے۔ محنت کرنے والا انسان کو ھی کامیابی ملتی ھے۔ ذاکر صدپارہ پہلے پورٹر تھے اور میرے دوست اویس باجوہ کے ساتھ اس ٹریک پہ آئے تھے لیکن اس وقت یہ لوگ سنو لیک تک نہیں پہنچ سکے تھے بعد میں اویس نے کسی اور کے ساتھ ھسپر کراس کیا تھا۔ انسان جتنا مرضی مضبوط ھو قدرت کے سامنے بیبس ھو جاتا ھے۔ رب کی مرضی ھو گی تو موافق حالات ملیں گے نہیں تو واپسی۔ پھر اگر کوئی ضد میں آجائے تو جان بھی گنوا بیٹھتا ھے۔ ایک سینئر آسٹریلین خاتون بھی ان کے ساتھ تھی جس نے اکیلے لپکے لا کراس کرنا تھا۔ ٹینٹ لگانے کے لئے جگہ کم تھی اور واشروم ٹینٹ کی تو لوکیشن بھی تبدیل کرنی پڑی۔ پکوڑے چائے کے بعد جھیل کی طرف چکر لگایا اور ادھر ادھر گھوم کر وقت گزارا۔ رات کھانے پہ پورٹرز نے مارخور کے شکار کی کہانی ڈال دی۔ مجھے 99 فیصد یقین تھا کہ شکار نہیں ملے گا لیکن سب کی خواھش کا احترام کرتے ھوئے چپ کر گیا۔ صبح 4 بجے پورٹر پہاڑ پہ چلے گئے اور 2 بجے ناکام واپس آگئے۔ بڑا گروپ چلا گیا تو کیمپ سائٹ پہ سکون ھو گیا۔ پورٹر تو شکار کی تلاش میں چلے گئے تھے جبکہ ھم سارا دن بور ھوتے رھے۔ لیاقت نے جھیل پہ جا کر کپڑے دھوئے اور غسل کیا۔ پانی اتنا ٹھنڈا نہیں تھا اس لئے میں بھی نہا کر کپڑے بدل آیا۔ جبکہ اقبال کیمپ سائٹ کے ساتھ بہتے پانی میں نہایا جو کہ بہت ٹھنڈا تھا اور بیمار ھو گیا لیکن دوسرے دن ٹھیک ھو گیا۔ ریسٹ ڈے بڑی مشکل سے گزرا۔ شام کو ایک اور گروپ آگیا جس کا صرف ایک فارنر ممبر تھا اور اس نے سم لا کرنا تھا۔ میڈم کی طبیعت بھی خراب تھی اور گولی ایزومیکس صرف ایک بچی تھی۔ ضرورت ایجاد کی ماں ھے انھوں نے آدھی گولی کھائی اور آدھی دوسرے دن کے لئے رکھ دی تاکہ اشکولی پہنچ جائیں۔
دوسرے دن صبح نماز ناشتہ کے بعد نملا کی طرف چل پڑے۔ آج کے دن صبح سویرے پتھر نہیں تھے بلکہ دو گھنٹہ کافی بہتر راستہ تھا۔ پہلے جھیل آئی جو پانی سے بھر چکی تھی اس کے بعد شافونگ کیمپ سائٹ سے گزر کر کچھ چڑھائی آئی اور اس کے کچھ دیر بعد اترائی اتر کر کچھ دیر پتھروں پہ چلنے کے بعد سفید گلیشئر پہ پہنچ گئے۔ ادھر لنچ کیا اور پھر چل پڑے۔ دو بجے ھم منگو کیمپ سائٹ کے سامنے سے گزرے اور اس کے بعد گندے پتھروں والے گلیشئر سے گزرتے 5 بجے کے قریب نملا پہنچ گئے۔ آج کا دن تھکانے والا تھا اور فاصلہ بھی تقریبا 20 کلومیٹر تھا جس کا کچھ پورشن بہت ھی مشکل تھا خاص طور پہ نملا کے پاس پہنچ کر تو راستہ مل ھی نہیں رھا تھا۔
ٹینٹ لگ چکے تھے ھمارے آنے سے پہلے۔ سوپ اور نوڈلز کھانے کے بعد کچھ دیر پہاڑوں پہ مارخور دیکھتے رھے۔ آج پورٹرز کو دور اوپر 2 مارخور نظر آئے لیکن ادھر پہنچنا ان کے بس کی بات نہیں تھی پورا دن چاھیئے تھا ادھر تک پہنچنے کے لئے۔ ھمیں تو نظر بھی نہیں آئے۔ رات کا کھانا مغرب کے وقت کھایا اور نماز ادا کر کے سو گئے۔
صبح اٹھے تو سب خوش تھے کہ آج ٹریک کا آخری دن تھا لیکن جب خچر ڈھونڈنے اوپر چراگاہ گئے تو 2 خچر غائب تھے۔ نماز ناشتہ کے بعد اشکولی کی طرف واپسی کا سفر شروع کیا۔ سامان کچھ تو 3 خچروں پہ آگیا باقی لیاقت کو اٹھانا پڑا۔ شروع میں ھی راستہ گم ھو گیا بڑی مشکل سے نیا راستہ ڈھونڈ کر جب آگے پہنچے تو بھاگنے والے 2 خچر بھی مل گئے جو اشکولی کی طرف چل پڑے تھے رات کو کسی وقت لیکن راستہ نہ ملنے کی وجہ سے پریشان کھڑے تھے۔ گلیشئر اور پتھروں سے جان چھٹی تو سکھ کا سانس لیا۔ چھوٹی سی جھیل پہ کچھ دیر رکے تو فارنرز کے گروپ سے بھی ملاقات ھوئی جو نملا کی طرف جا رھے تھے۔ جھیل کے بعد سلائڈنگ والا ایریا شروع ھوا۔ اوپر سر پہ اونچے پہاڑوں پہ بامشکل ٹکے بڑے بڑے پتھروں کو دیکھ کر ھی ڈر لگتا تھا۔ بارش کی وجہ سے جگہ جگہ پتھر گرے ھوئے تھے۔ جب آخری چڑھائی پہ پہنچے تو راستہ ھی سلائڈنگ سے غائب ھو گیا تھا۔ متبادل راستہ اختیار کیا اور چکر کاٹ کر اوپر پہنچے۔ گلیشئر ختم ھو چکا تھا۔ اترائی اترنے کے بعد جب بڑے سے میدان میں پہنچے تو سکون سا مل گیا۔ ادھر ایک کیمپ سائٹ پہ بیٹھ کر لنچ کیا اور پھر چل پڑے۔ پل سے دائیں مڑ کر ایک چشمہ پہ پانی پینے کے لئے رکے۔ دریا کے دوسری طرف پہاڑ میں ایک بہت بڑا غار بھی نظر آیا۔ لیاقت نے بتایا کہ دریا کے پار پیدل راستہ شگر جاتا ھے جو 2 دن کا ھے۔
اشکولی پہنچ کر اقبال ھمیں ٹریک کے بجائے گائوں کی گلیوں سے لے کر دوسرے ھوٹل پہنچ گیا۔ مجھے تو وہ اچھا لگا رونق تھی اس میں لیکن میڈم کو کمرہ پسند نہیں آیا اس لئے سارا سامان اٹھا کر پھر واپس جانا پڑا۔ کچھ کھانے پینے کے بعد اقبال اشکولی گھمانے لے گیا۔ سب سے اچھی چیز جو لگی اشکولی کی قبریں اسلامی طریقہ سے بنائی گئی تھیں کوئی بھی قبر زمین سے اٹھی نہیں تھی اور دوسری سب سے پیاری چیز حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے اقوال جو اسکول اور امام بارگاہ کی دیواروں پہ لکھے تھے۔ اقبال کو بچوں نے گھیر لیا کہ پیسے دو اقبال ذھنی طور پہ خود بھی ابھی بچہ ھی تھا۔ واپس آکر کھانا کھایا اور آخری رات کچن ٹینٹ میں ھی سو گیا۔ رات کو بہت تیز بارش ھوئی۔ صبح نماز پڑھی ناشتہ کیا اور رضا نے اقبال کو کال کی۔ تھوڑی دیر بازار گھومنے کے بعد ایک جیپ میں بیٹھ کر اس پل کی طرف چل پڑے جہاں لینڈ سلائڈنگ ھوئی تھی۔ پل پہ سامان اٹھا کر پل کے دوسری طرف بروکو کی اپنی جیپ میں رکھا۔ چلنے لگے تو اقبال جو اپنا بیگ ادھر ھی چھوڑ آیا تھا لینے چلا گیا۔ ھمارے بیگ تو بروکو کا کزن منظور لے آیا تھا۔ اس کے بعد ھوٹل پہ کھانے کے لئے رکے۔ بروکو بھی ادھر ھی سویا ھوا تھا۔ کھانا کھایا اور اس کے بعد بروکو خود گاڑی چلا کر سکردو لے گیا۔ پہلے داسو چیک پوسٹ پہ اینٹری ھوئی اس کے بعد آخری چیک پوسٹ پہ اقبال نے اینٹری کروائی اور ھم سکردو داخل ھو گئے۔ سکردو میڈم کے ریسٹ ھائوس جانے لگے تو راستہ بھول کر کافی دیر گلیوں میں گھومتے رھے اور سکردو کی وہ گلیاں بھی دیکھ لیں جو زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ اس کے بعد کونکورڈیا ھوٹل سامان چھوڑ کر بس اڈہ پہ چلا گیا کیونکہ آن لائن بکنگ نہیں ھو رھی تھی۔ پتہ چلا فیصل موور کی 6 تاریخ سے پہلے کوئی سیٹ خالی نہیں۔ نیٹکو والے بابوسر بند ھونے کی وجہ سے بکنگ نہیں کر رھے تھے۔ مجبورا مشابرم کی بکنگ کروائی اور اس کے بعد واپس ھوٹل آکر دوبارہ بازار چلا گیا۔ رات کھانا جلدی کھا کر نماز ادا کی ھی تھی کہ محمد خان بروکو ملنے آگئے۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ چلے گئے اور میں سو گیا۔ صبح نماز کے بعد ناشتہ کا انتظار کرنا پڑا 7 بجے ناشتہ کیا تو ھال فارنرز سے بھرا ھوا تھا۔ کوئی بڑا گروپ شاید K2 بیس کیمپ سے واپس آیا تھا۔ سوا 8 بجے ھوٹل والوں نے گاڑی منگوا دی۔ اس میں بیٹھ کر اڈے پہ پہنچا۔ سامان بس میں رکھوایا لیکن بس 9 بجے کے بجائے پونے 10 بجے چلی۔ دیکھنے میں تو بس بہت اچھی تھی لیکن نہ AC سہی کام کرتا تھا اور نہ ھی شیشے کھلتے تھے۔ جگلوٹ تک تو موسم اچھا تھا لیکن اس کے بعد گرمی اور اوپر سے شیشے بھی بند۔ جگلوٹ پہ کھانے نماز کے لئے بس رکی۔ جگلوٹ سے رائے کوٹ پل تک سڑک ٹھیک تھی۔ پھر سلائڈنگ ایریا میں سڑک بہت خراب تھی اس کے بعد تقریبا ٹھیک ھی تھی۔ چیلاس کے بعد ڈیم والے علاقہ میں سڑکب اوپر سے نکال دی گئی تھی لیکن ایک جگہ آدھہ گھنٹہ کام کی وجہ سے روک دیا گیا۔ نیچے اتر کر داسو تک سڑک پھر بہت خراب تھی۔ داسو پہ رات کے کھانے کے لئے رکے اور نماز بھی ادا کی۔ داسو کے بعد سڑک ٹھیک تھی لیکن بشام سے لے کر ایبٹ آباد تک ھلکی بارش تھی۔ اس کے بعد صرف سواریوں کو اتارنے کے لئے رکتے 4 بجے اسلام آباد پہنچ گئے۔ الحمدللہ رب العالمین۔



