تاثرات: مظہر طفیل
الحمدللہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین، خاتم النبیین، رحمتِ عالم، شفیعِ اُمم، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
رحمتِ عالم ﷺ کائنات کا تاج اور انسانیت کے لیے سرچشمۂ رحمت
بارہ ربیع الاول وہ مبارک اور مسعود دن ہے جس کی یاد میں آسمانِ محبت پر چراغاں ہوتا ہے اور جس کا ذکر آتے ہی دلوں میں عقیدت کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ یہ وہ ساعتِ سعید ہے جب تقریباً چودہ سو برس قبل سرزمینِ عرب پر وہ آفتابِ رسالت طلوع ہوا جس کی نورانی شعاعوں نے صرف عرب ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تاریخ، تہذیب، اخلاق اور فکر کو بدل کر رکھ دیا۔ وہ ہستی جسے اللہ تعالیٰ نے رحمۃً للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا، وہ ذاتِ اقدس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، جن کا ذکرِ مبارک قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بلند فرمایا، جن کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا اور جن کی سیرتِ طیبہ کو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے کامل نمونہ بنا دیا۔
رحمتِ عالم ﷺ کی ولادتِ باسعادت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کی روحانی تاریخ کا وہ عظیم الشان موڑ ہے جس نے ظلمتوں میں نور، جہالت میں علم، سنگ دلی میں رحمت، انتقام میں عفو اور انتشار میں وحدت کا پیغام عطا کیا۔ آپ ﷺ تشریف لائے تو انسان کو اس کی اصل پہچان ملی، غلام کو عزت ملی، عورت کو مقام ملا، یتیم کو سہارا ملا، کمزور کو حق ملا اور طاقتور کو ذمہ داری کا احساس ہوا۔ آپ ﷺ نے انسان کو یہ سبق دیا کہ عظمت نسب، مال و دولت یا اقتدار میں نہیں بلکہ تقویٰ، کردار، عدل، رحم اور انسانیت کی خدمت میں ہے۔
یہ اہلِ محبت کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو اپنے محبوبِ مکرم ﷺ کی نسبت سے شرف و معنویت عطا فرمائی۔ اسی عقیدۂ محبت کی ترجمانی صوفیانہ اور نعتیہ ادب میں صدیوں سے ہوتی آئی ہے کہ یہ کائنات اپنے ظاہری حسن کے باوجود اس وقت تک بے معنی محسوس ہوتی ہے جب تک اس میں محبوبِ خدا ﷺ کا ذکر نہ ہو۔ قرآنِ کریم کی رو سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو رحمۃً للعالمین بنا کر بھیجا: “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” — یعنی ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مسلمان کے لیے حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کائنات کے ہر حسن، ہر خیر اور ہر رحمت کا مرکز بن جاتی ہے۔
چودہ سو برس قبل جب دنیا ظلمتوں میں ڈوبی ہوئی تھی، جب انسان انسان کا خون بہانا باعثِ فخر سمجھتا تھا، جب طاقتور کمزور کو روند دیتا تھا، جب جہالت نے معاشروں کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا، تب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی آمد سے انسانیت کو ایسا نور ملا جس نے دلوں، معاشروں اور تہذیبوں کو روشن کر دیا۔ آپ ﷺ کی ذاتِ مبارک خود ایک روشن چراغ تھی اور آپ ﷺ کی تعلیمات وہ راستہ جس پر چل کر انسان اپنے رب کی معرفت، اپنے نفس کی اصلاح اور اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
آپ ﷺ کی عظمت کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ آپ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت قیامت تک انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ نے انسان کو صرف عبادات کا طریقہ نہیں سکھایا بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل سلیقہ عطا فرمایا۔ بازار میں دیانت، عدالت میں انصاف، گھر میں محبت، معاشرے میں رحم، دشمن کے ساتھ بھی اخلاق، یتیم کے ساتھ شفقت، پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک اور کمزور کے ساتھ تعاون — یہ سب حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے روشن ابواب ہیں۔
آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ایسی جامع تھی کہ ایک ہی شخصیت میں نبوت کی عظمت، عبادت کی خشیت، قائد کی بصیرت، حاکم کا عدل، معلم کی حکمت، باپ کی شفقت، شوہر کی محبت، دوست کی وفا اور انسانیت کے سب سے بڑے محسن کی رحمت جمع ہو گئی۔ اسی لیے آپ ﷺ کی سیرت کسی ایک قوم، نسل، خطے یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔
اسی حقیقت کو نعت گو شاعر اور معروف کالم نگار سیالکوٹ کے ایک مشہور اور تاریخی گاؤں چٹی شیخاں کے سپوت اور عدلیہ کے ماتھے کا جھومر عابد حسین قریشی
نے نہایت محبت اور عقیدت سے یوں بیان کیا ہے
رحمتُ العالمین ہیں، آپ فخرِ موجودات
سرورِ کونین ہیں اور آپ فخرِ کائنات
آپ جیسا کوئی آیا ہے، نہ آئے گا کبھی
آپ ہی تھے، آپ ہی ہیں، تاجدارِ ذی حیات
جس نگاہِ پاک نے بندے کو انسان کر دیا
کون ہوگا آپ ہی تو ہیں شفیعِ والا صفات
یومِ محشر ہم گناہ گاروں کی بخشش اور نجات
آپ ہی کے دم سے ہوگی، اے سرورِ ذی التفات
دامنِ امید ہوگا حشر میں عابد اُن کی طرف
ہم گنہگاروں کی اُن کے لطف سے ہوگی نجات
یہ اشعار دراصل اس محبت کی ترجمانی ہیں جو ایک مسلمان کے دل میں اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے موجزن رہتی ہے۔ نعت کی دنیا میں الفاظ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود حضور ﷺ کی شانِ اقدس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ شاعر جتنا بھی کہے، الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، کیونکہ جس ہستی کا ذکر خود ربِ کائنات نے بلند فرمایا ہو، اس کی مدح کے لیے انسانی زبان کے الفاظ کہاں کافی ہو سکتے ہیں۔
علامہ محمد اقبال نے بھی عشقِ رسول ﷺ کو مسلمان کی روحانی زندگی کا مرکز قرار دیا۔ ان کے الفاظ میں:
وہ دانائے سبل، ختمُ الرسل، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
اور ایک مقام پر فرماتے ہیں:
کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
اقبال کے نزدیک عشقِ رسول ﷺ محض جذبات کا نام نہیں بلکہ کردار، خودی، عمل اور زندگی کی تعمیر کا نام ہے۔ اسی لیے اقبال کا مردِ مومن حضور اکرم ﷺ کی سیرت سے روشنی حاصل کرتا ہے، آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنا رہنما بناتا ہے اور دنیا میں عدل، حریت، اخوت اور انسانیت کے چراغ روشن کرتا ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارک کے ذکر میں سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی اپنی عظمت کو ذاتی اقتدار کے لیے استعمال نہیں کیا۔ مکہ میں ظلم سہنے کے بعد جب فتحِ مکہ کا دن آیا اور وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو اذیتیں دی تھیں آپ کے سامنے بے بس کھڑے تھے تو آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا راستہ اختیار فرمایا۔ یہ وہ اخلاق تھا جس نے دشمنوں کے دل فتح کیے۔ دنیا کے فاتحین نے زمینیں فتح کیں مگر محمد مصطفیٰ ﷺ نے دل فتح کیے، اور دلوں کی یہ سلطنت آج بھی قائم ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آپ ﷺ نے پڑوسی کے حقوق بیان فرمائے، مسکین اور یتیم کی خبرگیری کی تلقین فرمائی، غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا، عورتوں کے حقوق واضح کیے اور انسانوں کے درمیان عدل و مساوات کی بنیاد مضبوط کی۔ آپ ﷺ کا خطبۂ حجۃ الوداع انسانی تاریخ کے ان عظیم ترین اعلانات میں سے ہے جس میں انسانی جان، مال اور عزت کی حرمت، باہمی اخوت اور حقوق کی پاسداری کا پیغام دیا گیا۔
حضور ﷺ کی رحمت صرف اپنے ماننے والوں تک محدود نہ تھی۔ آپ ﷺ کو رحمۃً للعالمین کہا گیا، یعنی تمام جہانوں کے لیے رحمت۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا کی، جانوروں کے ساتھ رحم کا درس دیا اور زمین پر فساد سے روکا۔ آپ ﷺ کی رحمت میں انسان بھی شامل ہے، کمزور بھی، مسافر بھی، یتیم بھی، عورت بھی، بچہ بھی اور وہ شخص بھی جو ابھی ایمان کی روشنی سے محروم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان جب بارہ ربیع الاول کی آمد پر درود و سلام پڑھتے ہیں، محافلِ میلاد منعقد کرتے ہیں اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پڑھتے ہیں تو دراصل وہ اپنی محبت، اپنی عقیدت اور اپنے روحانی تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں صرف جشن منانے کا نہیں بلکہ اپنے کردار کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کا پیغام دیتا ہے۔ اگر ہماری زبان پر درود ہو مگر ہمارے دل میں نفرت ہو، اگر محفل میں نعت ہو مگر معاملات میں بددیانتی ہو، اگر ہم محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کریں مگر کمزور کا حق ماریں تو ہمیں اپنے دعوائے محبت پر غور کرنا چاہیے۔
محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا چراغ بنائیں۔ اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، اپنے بچوں سے محبت کریں، پڑوسی کا خیال رکھیں، کسی کا حق نہ ماریں، جھوٹ سے بچیں، وعدہ پورا کریں، امانت ادا کریں، مظلوم کا ساتھ دیں، غریب کی مدد کریں اور اپنے دل کو کینہ و تکبر سے پاک کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نعت الفاظ سے نکل کر کردار بن جاتی ہے اور محبت دعوے سے نکل کر عمل بن جاتی ہے۔
قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کے لیے فرمایا:
“لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”
یعنی بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
پس بارہ ربیع الاول ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے پاس صرف ایک عظیم تاریخی شخصیت کی یادگار نہیں بلکہ ایک مکمل اسوۂ حیات موجود ہے۔ ہمارے پاس وہ سیرت ہے جس میں عبادت بھی ہے اور سیاست بھی، اخلاق بھی ہے اور معاشرت بھی، عدل بھی ہے اور رحمت بھی، علم بھی ہے اور عمل بھی، دنیا کی اصلاح بھی ہے اور آخرت کی کامیابی کا راستہ بھی۔
اے رحمتِ عالم ﷺ! آپ ﷺ کی آمد سے انسانیت کو وہ روشنی نصیب ہوئی جس کی تابانی آج بھی دلوں کو منور کر رہی ہے۔ آپ ﷺ کی زبان سے نکلا ہوا کلمۂ حق صدیوں کا سفر طے کرکے آج بھی کروڑوں انسانوں کے سینوں میں ایمان کی حرارت پیدا کرتا ہے۔ مدینہ کی گلیوں سے اٹھنے والی وہ صدا آج بھی دنیا کے ہر خطے میں سنائی دیتی ہے۔ درود و سلام کے یہ نغمے آج بھی فضاؤں میں گونجتے ہیں:
اللّٰہم صلِّ علیٰ محمدٍ وعلیٰ آلِ محمدٍ وبارک وسلم۔
ہماری زندگی کی سب سے بڑی سعادت یہی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی امت میں پیدا ہوئے۔ ہماری سب سے بڑی امید یہی ہے کہ قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔ ہماری سب سے بڑی آرزو یہی ہے کہ دنیا میں آپ ﷺ کی سنت پر چلیں اور آخرت میں آپ ﷺ کے قدموں میں جگہ پائیں۔
بارہ ربیع الاول کے اس مبارک موقع پر آئیے عہد کریں کہ ہم محبتِ رسول ﷺ کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اسے اپنے کردار، معاملات، معاشرت اور روزمرہ زندگی میں ظاہر کریں گے۔ ہم درود کو اپنی زبان کی زینت، سنت کو اپنی زندگی کا دستور اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں گے۔
وہی رحمت جو عرب سے چلی تھی، آج بھی دلوں کو منور کر رہی ہے؛ وہی نور جس نے چودہ سو برس قبل انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی دکھائی، آج بھی ہر اس دل میں زندہ ہے جو محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کرتا ہے۔
یا رسول اللہ ﷺ!
آپ پر کروڑوں درود و سلام۔
آپ کی آلِ پاک پر درود و سلام۔
آپ کے اصحابِ کرام پر درود و سلام۔
اور اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور آپ ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
بارہ ربیع الاول — ولادتِ باسعادتِ رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبارک ہو۔



