کیا ہم واقعی ایک ایسے انسانی معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں کسی کی مجبوری بھی ایک موقع بن جائے، کسی کی تکلیف بھی ایک قیمت بن جائے اور کسی کی بے جان میت کو بھی اس کے گھر والوں تک پہنچانے کے لیے لاکھوں روپے کی شرط سامنے آ جائے؟
شرقپور کی بیٹی ڈاکٹر اسما مشتاق کے خاندان کے مطابق، ان کی میت کو تقریباً 6400 میٹر کی بلندی سے نیچے لانے کے لیے 30 لاکھ روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک رقم کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانیت، ذمہ داری اور ہمارے اجتماعی رویے پر ایک بڑا سوال ہے۔
ڈاکٹر اسما مشتاق صرف ایک نوجوان کوہ پیما نہیں تھیں۔ وہ ایک باصلاحیت ڈاکٹر، گولڈ میڈلسٹ، سیاحت کی شوقین اور پاکستان کی حسین وادیوں اور بلند پہاڑوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے والی ایک قابلِ فخر پاکستانی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی بلند مقامات کا سفر کیا اور پاکستان کے خوبصورت قدرتی مناظر کو دنیا تک پہنچانے کا جذبہ رکھا، مگر آج اسی باہمت بیٹی کی میت 6400 میٹر کی بلندی پر موجود ہے اور اس کے گھر والے اسے آخری بار اپنے پاس لانے کے لیے ایک انتہائی مشکل صورتِ حال سے گزر رہے ہیں۔
خاندان کے مطابق، اسما اسپانٹک پیک سر کرنے کے بعد واپسی پر تھیں کہ طبیعت خراب ہونے پر ان کے ساتھی انہیں ایک پورٹر کے ہمراہ تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر چھوڑ کر نیچے آگئے۔ بعد ازاں پورٹر نیچے پہنچا اور اطلاع دی کہ اسما کی موت واقع ہو چکی ہے اور ان کی میت وہیں کیمپ میں موجود ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر کوئی کمپنی لوگوں کو بھاری رقم لے کر خطرناک اور دشوار گزار پہاڑی مہمات پر لے جاتی ہے تو کیا اس کی ذمہ داری صرف چوٹی تک پہنچانے تک محدود ہوتی ہے؟ حادثہ پیش آنے کے بعد کیا ایک کلائنٹ کو پہاڑ پر چھوڑ دینا ذمہ داری کے اختتام کے مترادف ہے؟
اگر کوئی کمپنی لوگوں کو ایسی خطرناک مہمات پر لے کر جاتی ہے تو مشکل وقت میں اپنے کلائنٹس کی حفاظت، ریسکیو اور واپسی کے لیے اس کی ذمہ داری واضح ہونی چاہیے۔ ایسے معاملات میں پہلے سے ایک مؤثر اور قابلِ عمل ریسکیو نظام موجود ہونا چاہیے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں متاثرہ شخص یا اس کے خاندان کو بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت ان کے خاندان کا حق ہے۔ ریاستی اداروں، ریسکیو ٹیموں، متعلقہ کمپنی اور تمام ذمہ دار حکام کو فوری طور پر مشترکہ اقدامات کرنے چاہییں اور اسما کی میت کو بحفاظت نیچے لانے کا انتظام کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی اس پورے واقعے کی شفاف تحقیقات بھی ہونی چاہییں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اسما کے ساتھ کیا ہوا، انہیں کس صورتحال میں وہاں چھوڑا گیا اور میت کو نیچے لانے کے لیے 30 لاکھ روپے طلب کیے جانے کی حقیقت کیا ہے۔
ایک بیٹی کو اس کے والدین تک واپس پہنچانا کاروبار نہیں، انسانیت ہے۔ آج اسما ہے، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔ پہاڑ پر انسان کو مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ کر واپس آ جانا معمول نہیں بننا چاہیے۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کو 6400 میٹر کی بلندی پر یوں بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان کی میت کو بحفاظت گھر واپس لانا صرف ان کے خاندان کی خواہش نہیں، بلکہ ہم سب کی اجتماعی انسانی ذمہ داری ہے۔



