جب وردی ہی قانون اور انصاف کی قاتل بن جاٸے تو ذمہ دار کون !

تاثرات: مظہر طفیل

کسی بھی معاشرے میں جب وردی قانون اور اقتدار کی لاٹھی بن جائے تو ایسے معاشرے ریاست پر بوجھ بن جاتے ہیں اور اس کی تمام ذمہ داری وقت کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح ریاست کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس کے اداروں میں کبھی کوئی غلط آدمی آ جاتا ہے، اصل المیہ یہ ہے کہ جب غلط آدمی کو ادارہ اپنی طاقت، سیاست اپنا سایہ اور حکمران اپنی سرپرستی فراہم کرنے لگیں تو پھر ظلم کسی ایک اہلکار کی حرکت نہیں رہتا، پورا نظام اس ظلم کا شریکِ جرم دکھائی دینے لگتا ہے۔ پاکستان میں پولیس کو عوام کی جان، مال، عزت اور آزادی کا محافظ ہونا تھا، مگر بدقسمتی سے سیاسی مداخلت، تبادلوں کی سودے بازی، سفارش، دباؤ اور اقتدار کی خوشنودی نے اس ادارے کے ایک حصے کو قانون کی کتاب سے زیادہ طاقتور لوگوں کے اشاروں کا محتاج بنا دیا ہے۔ پنجاب میں پولیس سے متعلق پے در پے سامنے آنے والے واقعات نے ایک بار پھر وہ سوال پوری شدت سے کھڑا کر دیا ہے جس کا جواب ہر حکومت دینے سے گریز کرتی ہے: پنجاب پولیس عوام کی ہے یا اقتدار کی؟ اگر پولیس عوام کی ہے تو پھر سیاسی دباؤ کیوں؟ اگر پولیس قانون کی ہے تو پھر سیاسی فون کال کیوں؟ اگر پولیس ریاست کی ہے تو پھر ایک افسر کی وفاداری آئین کے بجائے کسی بااثر شخصیت سے کیوں ناپی جاتی ہے؟ ٹاؤن شپ اور لٹن روڈ تھانوں میں انمول اور آمنہ کی پولیس تحویل کے دوران ہونے والی پراسرار اموات نے بھی اسی نظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ایک مؤقف سامنے آیا، لواحقین کی جانب سے دوسرے الزامات سامنے آئے، لیکن ان دونوں کے درمیان اصل سوال اپنی جگہ کھڑا ہے کہ پولیس کی تحویل میں موجود انسان کی حفاظت کا ذمہ دار کون تھا؟ اگر موت قدرتی یا کسی طبی وجہ سے ہوئی تو شفاف تحقیقات اسے ثابت کریں، اگر کسی مجرمانہ غفلت یا تشدد کا عنصر تھا تو ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، مگر معاملہ دبانا، فائل بند کرنا اور چند رسمی بیانات جاری کرکے عوام کو خاموش سمجھ لینا اب قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کسی کو مجرم قرار نہیں دے سکتی، عدالت دیتی ہے۔ پولیس سزا نہیں دے سکتی، عدالت دیتی ہے۔ تھانہ عدالت نہیں اور حوالات عقوبت خانہ نہیں۔ اگر پولیس ہی گرفتار کرے، پولیس ہی الزام لگائے، پولیس ہی تفتیش کرے، پولیس ہی فیصلہ سنائے اور پولیس ہی سزا دے تو پھر آئین کہاں ہے، عدالت کہاں ہے اور قانون کی حکمرانی کہاں ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور جبر کے درمیان لکیر مٹنا شروع ہو جاتی ہے اور جب یہ لکیر مٹ جائے تو وردی محافظ کی علامت نہیں رہتی، طاقت کی علامت بن جاتی ہے۔ رضاڈار کیس سمیت مختلف واقعات نے بھی اختیار کے بے لگام استعمال، پولیس کے طرزِعمل اور احتساب کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان مقدمات کے حتمی حقائق عدالت اور مکمل تحقیقات ہی طے کر سکتی ہیں، مگر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے اور سوال دبانا ریاست کا حق نہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک وہ معاملہ ہے جس میں کاہنہ میں ایک معذور بچی کے ساتھ پولیس افسر کی مبینہ زیادتی کا الزام سامنے آیا۔ یہاں سوال صرف ایک شخص کا نہیں، پورے ادارے کی اخلاقی ذمہ داری کا ہے۔ جس بچی کو معاشرہ تحفظ دینے کا پابند ہے، اگر وہی بچی کسی وردی پوش اہلکار کے خلاف شکایت کا موضوع بنے تو ریاست کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی ہی وردی سے سوال کرنا ہوگا۔ اگر الزام جھوٹا ہے تو شفاف تحقیقات کے ذریعے اسے غلط ثابت کیا جائے، لیکن اگر الزام درست نکلتا ہے تو پھر یہ سوچنا ہوگا کہ جرم کی سنگینی صرف اس لیے کم کیسے ہو سکتی ہے کہ ملزم نے وردی پہن رکھی تھی؟ وردی استثنا نہیں، اضافی ذمہ داری ہے۔ وردی اختیار نہیں، امانت ہے اور امانت میں خیانت کرنے والا عام مجرم سے زیادہ سخت احتساب کا مستحق ہے۔ یہاں ایک بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ پنجاب پولیس کے ہزاروں اہلکار اپنی جانوں پر کھیل کر دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر اور خطرناک مجرموں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بے شمار پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں اور ان کی قربانیاں قوم کے احترام کی مستحق ہیں، لیکن ان قربانیوں کا حوالہ دے کر ہر شکایت کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔ شہید پولیس اہلکار کی قربانی کا احترام اسی وقت ہوگا جب وردی کو بدعنوان، ظالم یا قانون شکن عناصر سے پاک کیا جائے گا۔ ادارے کی عزت اندھی حمایت سے نہیں، احتساب سے بڑھتی ہے۔ لیکن ہمارا سیاسی کلچر عجیب ہے۔ اقتدار میں آنے والا ہر حکمران پولیس کو اپنے اختیار کی مٹھی میں رکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے اور اپوزیشن میں بیٹھتے ہی پولیس کی سیاسی آزادی کا علم اٹھا لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پولیس صرف اس وقت سیاسی ہوتی ہے جب آپ اقتدار سے باہر ہوں؟ کیا اقتدار میں آ کر وہی پولیس اچانک مقدس، غیر جانب دار اور مثالی ہو جاتی ہے؟ یہ منافقت اب ختم ہونی چاہیے۔ پولیس کو سیاسی ہتھیار بنانے والے صرف وہ نہیں جو غیر قانونی حکم دیتے ہیں، وہ بھی ذمہ دار ہیں جو غیر قانونی حکم کو اپنا اقتدار بچانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ایک فون کال اگر کسی افسر کی تقدیر بدل سکتی ہے، ایک سفارش اگر کسی تفتیش کا رخ موڑ سکتی ہے، ایک سیاسی تعلق اگر کسی مقدمے کو کمزور یا مضبوط کر سکتا ہے تو پھر ہمیں مان لینا چاہیے کہ مسئلہ چند بدعنوان اہلکاروں کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساخت میں خرابی کا ہے۔ جب ایک دیانت دار افسر یہ سوچنے لگے کہ قانون کی پیروی کروں گا تو تبادلہ ہو جائے گا اور سیاسی دباؤ مان لوں گا تو ترقی ملے گی تو پھر ہم کس منہ سے اس افسر سے قانون کی پاسداری کی توقع کرتے ہیں؟ جب قانون پسند افسر کو سزا اور سیاسی فرمانبردار کو انعام ملنے لگے تو ادارے میں قانون نہیں، خوف حکمرانی کرتا ہے اور خوف کی بنیاد پر کھڑی ہوئی پولیس آخرکار عوام کے لیے محافظ نہیں، خطرہ بن جاتی ہے۔ اس سے بھی بڑا سیاسی جرم یہ ہے کہ حکومتیں پولیس کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرکے یہ سمجھتی ہیں کہ انہوں نے فتح حاصل کرلی۔ حقیقت میں وہ اپنی ہی ریاستی مشینری کے اندر انتقام کا بیج بو رہی ہوتی ہیں۔ آج مخالف گرفتار ہوگا، کل آپ گرفتار ہوں گے۔ آج کسی کے گھر چھاپہ پڑے گا، کل آپ کے دروازے پر دستک ہوگی۔ آج کسی پر مقدمہ بنے گا، کل آپ کے نام پر ایف آئی آر درج ہوگی۔ جو حکمران سیاسی انتقام کی مشین بناتا ہے، وہ دراصل اپنے جانشین کے ہاتھ میں اپنے خلاف ہتھیار تیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی اداروں کو سیاسی استعمال سے بچانا کسی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کا معاملہ نہیں، یہ ریاست کو آنے والی حکومتوں کے ظلم سے محفوظ رکھنے کا معاملہ ہے؛ اگر آج بھی پولیس کے تبادلے، تقرریاں، تفتیشیں اور کارروائیاں سیاسی ضرورت کے تابع رہیں تو پھر اصلاحات کے نام پر کی جانے والی ہر تقریر محض سیاسی تماشا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ پولیس کس کے سامنے جواب دہ ہوگی: کسی وزیر کے سامنے، کسی رکنِ اسمبلی کے سامنے، کسی سیاسی جماعت کے سامنے، کسی بااثر خاندان کے سامنے یا صرف قانون کے سامنے؟ اگر جواب قانون ہے تو پھر اس کا عملی ثبوت بھی چاہیے۔ پولیس افسر کی تقرری میرٹ پر ہو، تبادلہ سیاسی انتقام کا ذریعہ نہ بنے، تفتیشی افسر کو کسی سیاسی شخصیت کے فون کا محتاج نہ بنایا جائے، حراست میں ہونے والی ہر موت کی آزادانہ تحقیقات ہوں، تشدد کے ہر الزام کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو، خواتین، بچوں اور معذور شہریوں کے لیے خصوصی حفاظتی نظام ہو اور سب سے بڑھ کر یہ اصول ناقابلِ تنسیخ بنایا جائے کہ وردی قانون سے بڑی نہیں۔ صرف ماتحت اہلکار کو قربانی کا بکرا بنا کر اصل طاقتور کو بچانے کا کھیل بھی بند ہونا چاہیے۔ اگر کسی اہلکار نے غیر قانونی حکم مانا تو اس کا احتساب ہو، لیکن اگر حکم سیاسی دفتر، بااثر شخصیت یا حکومتی دباؤ سے آیا تھا تو اصل سوال حکم دینے والے سے ہونا چاہیے، کیونکہ جب حکم دینے والا محفوظ اور حکم بجا لانے والا سزا یافتہ ہوتا رہے تو نظام اپنی خرابی کو خود ہی دوبارہ پیدا کرتا رہے گا۔ ہمیں ایسی پولیس نہیں چاہیے جو حکمران کے اشارے پر حرکت کرے۔ ہمیں ایسی پولیس چاہیے جو قانون کی انگلی پکڑ کر چلے؛ ایسی پولیس نہیں جو سیاسی مخالف کو ڈرانے کے لیے استعمال ہو بلکہ ایسی پولیس جو مظلوم کے گھر پہنچ کر اس سے پوچھے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا۔ ایسی پولیس نہیں جس سے عام شہری تھانے میں داخل ہوتے ہوئے ڈرے بلکہ ایسی پولیس جسے دیکھ کر مظلوم کو اطمینان اور مجرم کو خوف محسوس ہو۔ انمول اور آمنہ کے معاملے میں تحقیقات جو نتیجہ دیں، وہ سامنے آنا چاہیے۔ رضاڈار کیس کے حقائق جو بھی ہوں، وہ قانون کے مطابق طے ہونے چاہییں۔ کاہنہ کے واقعے کے الزامات درست ہوں یا غلط، فیصلہ شفاف تحقیقات سے ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ریاست ان سوالات کو دبانے کی کوشش کرے گی تو شک مزید بڑھے گا، ادارہ مزید کمزور ہوگا اور عوام کا اعتماد مزید ٹوٹے گا۔ ریاست کی طاقت سوال دبانے میں نہیں، سوال کا جواب دینے میں ہے۔ ادارے کی عزت احتساب سے کم نہیں ہوتی، احتساب سے بڑھتی ہے اور جس ادارے کو اپنے اہلکاروں کے احتساب سے خوف آئے، اسے عوام کے اعتماد کا دعویٰ بھی نہیں کرنا چاہیے۔ پنجاب پولیس کو سیاسی ہتھیار بنانے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے کیونکہ پولیس اگر سیاست کی غلام بن گئی تو کل قانون کی قبر پر صرف وردی کھڑی ہوگی اور شہری انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہیں گے۔ اقتدار بدلنے سے ریاست نہیں بدلتی، لیکن ریاستی اداروں کا کردار بدل جائے تو پوری سیاسی تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ اس لیے آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ پولیس حکمران کی ڈھال ہوگی یا عوام کی حفاظت کی دیوار؟ سیاسی انتقام کا آلہ ہوگی یا آئین کی محافظ؟ طاقتور کے حکم پر چلے گی یا قانون کے سامنے سر جھکائے گی؟ جواب صرف تقریروں سے نہیں، عملی فیصلوں سے دینا ہوگا، کیونکہ ریاست اس دن کمزور نہیں ہوتی جب کوئی مجرم طاقتور ہو جائے، ریاست اس دن کمزور ہوتی ہے جب اس کے محافظ قانون سے زیادہ طاقتور ہو جائیں اور جب محافظ ہی اقتدار کی تلوار بن جائیں تو پھر زخم صرف ایک شہری کو نہیں لگتا، پوری ریاست کے سینے پر لگتا ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستان کا غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش، فلسطینیوں کو فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
ایران کو خطرہ ہوا تو عالمی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے، پاسداران انقلاب
جڑواں شہروں میں شدید بارش، نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند، شہریوں کا انخلاء شروع
محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
نوجوان پاکستان کا انمول سرمایہ اور روشن مستقبل کے معمار ہیں: صدر، وزیراعظم
امریکا کا گزشتہ سال فضائی حملوں میں 153 یمنی شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف
ٹرمپ نے امریکا کو ایک غیر ضروری اور خطرناک جنگ میں جھونک دیا: چک شومر
آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 15 اور ایل اے 16 کے 23 پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر