تحریر: عابد حسین قریشی
آج داتا علی ہجویری رح کا عرس مبارک ہے۔ لاکھوں عقیدت مند ملک کے طول و عرض سے اس میں شرکت کو ایک سعادت سمجھتے ہیں، مگر ان میں کم ہی حضرت داتا گنج بخش رح کی اصل زندگی، انکے تصور تصوف اور انکے اخلاق و کردار اور انکی تعلیمات سے آگاہ ہیں۔ اگر آگاہ بھی ہیں تو کیا شعور کی آنکھ سے انکی تعلیمات کو سمجھتے بھی ہیں یا محض عقیدت کی سر مستی میں ہی گم ہیں۔ بلاشبہ حضرت داتا علی ہجویری سلسلہء ولایت کے سرخیل ہیں۔ آپکے مقام کا سلسلہ ولایت میں تعین کرنا مجھ جیسے کم فہم کے بس میں تو نہیں، البتہ صرف اس بات سے آپکے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگا لیں، کہ انکے دربار پرخواجہ غریب نواز، سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح اور زہدالانبیا اور خاندان چشت کے عظیم المرتبت ولی بابا فرید الدین مسعود گنج رح نے دربار داتا علی ہجویری پر چلہ کشی کی۔ حضرت داتا علی ہجویری نے آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل لاہور کو اس وقت اپنا مسکن بنایا جب یہ قصبہ کفر و الحاد اور شرک و طغیان کی پستیوں میں گھرا ہوا تھا۔ ایک فرد واحد نے جو اس قصبہ میں اجنبی تھے، صرف اپنے اخلاق و کردار سے، اپنی سخاوت اور دریا دلی سے اس لاہور کو داتا کی نگری میں بدل دیا۔ داتا علی ہجویری لاہور میں تشریف لانے کے بعد اپنے کسی عزیز کو غزنی افغانستان میں خط لکھتے ہیں، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ملتان شہر کے قریب لاہور نامی قصبہ میں پڑاو ڈال لیا ہے۔ اس سے ملتان کی تاریخی حثیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اور لاہور کی اس وقت کی پوزیشن کا بھی۔ داتا صاحب فقیر منش اور زہد و تقوٰی میں یکتا عجز و انکسار کا کوہ گراں تھے۔ اپنی کتاب کشف المحجوب میں ایک دلچسپ قصہ بیان کرتے ہیں، کہ وہ کئی روز سے اپنا تذکیہء نفس چاہتے تھے، دن میں پندرہ بیس دفعہ غسل کرکے، سجدے کرکے، ذکر اذکار کرکے وہ کیفیت نہ مل رہی تھی، جو انکا قلب صافی چاہ رہا تھا، چناچہ داتا علی ہجویری نے سفر کا قصد کیا، اور رات ایک سرائے میں گزارنی پڑی۔ وہاں کچھ لوگ جو کسی دینی مشن پر نکلے ہوئے تھے، وہاں بڑا پرتکلف کھانا کھا رہے تھے۔ داتا گنج بخش ایک گدڑی میں ملبوس سرائے کے ایک کونے میں جاکر بیٹھ گئے۔ بھوک بھی انتہا پر تھی، مگر جو لوگ اس سرائے میں کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے داتا علی ہجویری کو کھانا تو کیا دینا تھا، بلکہ انکی طرف پھلوں کے چھلکے پھینکنا شروع کر دیئے۔ داتا صاحب فرماتے ہیں، کہ جوں جوں وہ لوگ میرے اوپر پھلوں کے چھلکے پیھنک کر قہقہے لگاتے ، توں توں مجھے مزا آنا شروع ہوگیا، اور جس تذکیہ نفس کی تلاش میں کئی ماہ سے سرگرداں تھا، وہ اس طعن و تشنیع بھرے قہقہوں اور پھلوں کے چھلکے سہنے سے مل گیا۔ یہ تھا وہ کردار اور عجز و انکسار، ذات کی نفی، جو انسانوں کو ولایت کے مقام پر فائز کرتا ہے۔ داتا علی حجویری رح کی ذات باکمال، انکے معجزے، انکا لنگر، انکی سیکولر اپروچ کہ کھانا کھلانے سے پہلے کسی کا مزہب نہیں پوچھنا اور پھر اپنے قول و عمل سے دین کی تبلیغ کرنا ہے۔ کسی سے اپنی نیکی اور پارسائی کی قیمت وصول نہیں کرنی بلکہ خود بھوکا رہتے ہوئے غریبوں، مسافروں اور غرض مندوں کو کھلانا ہے۔ داتا گنج بخش کی شب بیداریاں، انکے نالہ ہائے جگر گداز اور اللہ کے حضور کی گئی اشک باریاں، اس طرح رنگ لائیں، کہ لاہور اہل ایمان کا مرکز بن گیا۔ ایک اللہ کا ولی اس شہر کی کایہ پلٹ گیا اور اس شہر کی ہمیشہ کے لئے شناخت اور پہچان بن گیا۔ آج اسی داتا علی ہجویری رح کا عرس مبارک ہے۔ اللہ تعالٰی انکے مقام و مرتبے مزید بلند فرمائے۔



