کمپونگ چھام، کمبوڈیا (شِنہوا) وسطی کمبوڈیا میں قومی شاہراہ 7 کے ایک حصے کے کنارے گرل شدہ مرغی فروخت کرنے والی دکاندار نگوون پھالی چین کی مالی معاونت سے توسیع اور اپ گریڈیشن کے کاموں کے بعد آسان سفر، بہتر ٹریفک روانی اور صاف ہوا سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ شاہراہ پہلے تنگ اور گرد آلود ہوا کرتی تھی۔
45 سالہ دکاندار نے بتایا کہ اس وسیع شاہراہ نے مقامی تجارت کو فروغ دیا ہے، زرعی اجناس کی نقل و حمل آسان بنائی اور علاقائی سیاحت کو تیز تر کر دیا ہے۔
چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن نے چینی حکومت کے رعایتی قرضے سے کمپونگ چھام شہر میں سکون مارکیٹ کے گول چکر سے کیزونا برج کے گول چکر تک 45.5 کلومیٹر طویل سڑک کا حصہ دو لین سے چار لین تک وسیع اور بہتر کیا ہے۔
پھالی نے شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کے لئے یہ سڑک انتہائی آرام دہ ہے کیونکہ اب اس پر کوئی گڑھا نہیں رہا۔ قومی شاہراہ 7 کی توسیع سے پہلے یہاں سنسان ماحول تھا لیکن اب بڑی تعداد میں لوگ اس پر سفر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس شاہراہ کی توسیع کے بعد ہماری فروخت پہلے کی نسبت بڑھ گئی ہے۔ میں چین کی شکر گزار ہوں کہ اس نے کمبوڈیا کے لئے قومی شاہراہ 7 کے اس حصے کو جدید بنایا جس سے لوگوں کو آسان سفر کی سہولت میسر آئی۔
نوم پروس اور نوم سرے (مردوں اور عورتوں کی پہاڑیاں) کے سیاحتی مقامات پر دکان چلانے والی کِم ہونگلی نے کہا کہ قومی شاہراہ 7 کا یہ حصہ مسافروں کو اِن مشہور سیاحتی مقامات تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ اس جدید قومی شاہراہ کی بدولت نوم پروس اور نوم سرے کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہفتے کے اختتام پر یہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح آئے۔ اس سڑک نے کسانوں کو سبزیاں، مچھلی اور گوشت منڈیوں تک پہنچانے میں بڑی سہولت فراہم کی ہے۔
کمبوڈیا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس میں چائنہ-آسیان سٹڈیز سنٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر تھونگ مینگ ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ قومی شاہراہ 7 کی اس توسیع نے ٹریفک کی شدید رکاوٹ کو ایک جدید ترین ترسیلی راہداری میں تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ حکومت کے اس موقف کے مطابق کہ سڑکیں بنیادی معاشی شریانیں ہیں، اس ٹول فری بہتری نے سفر ایک گھنٹے سے کم کر کے صرف 30 منٹ کر دیا ہے۔ ان تیز رفتار اور سستے راستوں نے مقامی کسانوں کو اپنی زرعی مصنوعات جیسے کہ کساوا، کاجو اور ربڑ پروسیسنگ پلانٹس اور منڈیوں تک تیزی سے پہنچانے کی سہولت دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آسیان ہائی وے 11 کے حصے کے طور پر سڑک کا یہ ٹکڑا اہم صوبائی راستوں کو جوڑنے والی ایک اہم معاشی شریان کے طور پر کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بالآخر یہ جدید بنیادی ڈھانچہ مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور علاقائی ترسیل کے نظام کا استحکام یقینی بنائے گا۔
کمبوڈیا میں چین کے تعاون سے بننے والی شاہراہ کی توسیع سے سفر اور مقامی تجارت میں بہتری



