ریاض(نیشنل ٹائمز)سعودی عرب نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے باب المندب اور اس کے گرد و نواح میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے ایک بحری دفاعی اتحاد قائم کر دیا ہے ۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے یمن کے ایران نواز حوثیوں نے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں اور مملکت کے اندر تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے ۔آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات شدید متاثر ہونے کے بعد آبنائے باب المندب سعودی خام تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ایک نہایت اہم بحری راستہ بن گئی ہے ۔سعودی وزارتِ دفاع نے اتحاد میں شامل 14 ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔
جن میں بحرین، بنگلہ دیش، جبوتی، مصر، اردن، کویت، نائیجیریا، پاکستان، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ اور یمن شامل ہیں۔وزارتِ دفاع کے مطابق اس اتحاد کا مقصد بحری سلامتی کو فروغ دینا، جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا، اور آبنائے باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری مفادات کا تحفظ کرنا ہے ۔وزارت نے بتایا کہ اس اتحاد سے متعلق ریاض میں جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے 51 ممالک اور تنظیموں کو دعوت دی گئی تھی۔بیان کے مطابق اجلاس میں 43 ممالک کے نمائندوں اور یورپی یونین کے ایک وفد نے شرکت کی۔ ان میں سے 14 ممالک نے اتحاد کی حمایت کی باضابطہ تصدیق کر دی، جبکہ دیگر ممالک حمایت کے عمل کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کئی برس بعد پہلی مرتبہ براہِ راست فائرنگ کے تبادلے ہوئے ، جس سے 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کو خطرات لاحق ہو گئے ، اگرچہ اس کی مدت ختم ہونے کے باوجود فریقین اب تک عمومی طور پر اس کی پاسداری کرتے رہے ہیں۔



