بیجنگ (شِنہوا) چین کی بین الاقوامی بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو 2026 میں 40 سے زائد نئی کامیابیاں پیش کی جائیں گی، جن میں کمپیوٹنگ صلاحیت اور بجلی کے مربوط استعمال، ڈیٹا کی گردش اور جنریٹو مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسے شعبے شامل ہیں۔
قومی ڈیٹا انتظامیہ (این ڈی اے) کے نائب ڈائریکر یو ینگ نے کہا کہ یہ کامیابیاں نمائش کے دوران معروف کمپنیوں اور صنعتی انجمنوں کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔ یہ ایکسپو 28 اگست کو چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کے شہر گوئی یانگ میں شروع ہوگی۔
اس ایکسپو میں 300 سے زائد نمائش کنندگان شرکت کریں گے اور اس کی توجہ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر سے لے کر ڈیٹا کی فراہمی جیسے موضوعات پر مرکوز ہوگی۔
این ڈی اے اس موقع پر صنعت سے متعلق معیارات کا ایک مجموعہ اور بہترین عملی نمونوں پر مبنی دستاویزات بھی جاری کرے گا۔ اس کے علاوہ اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس اور ڈیجیٹل معیشت میں بین الاقوامی تعاون جیسے موضوعات پر 20 سے زائد صنعتی فورمز، 7 اختراعی مقابلے اور کاروباری شراکت داری کے لئے متعدد ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
یو نے کہا کہ چین نے اپنے ڈیٹا انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے میں مسلسل پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کی ذہین کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھ کر 24 لاکھ پیٹا فلوپس تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک کے 8 قومی کمپیوٹنگ مراکز مجموعی صلاحیت کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔ جون تک چین میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس تیار کئے جا چکے تھے، جن کا مجموعی حجم 1,565 پیٹا بائٹس سے تجاوز کر گیا۔
یو نے کہا کہ قومی ڈیٹا انتظامیہ عناصر سے متعلق منڈی پر مبنی اصلاحات کو مزید گہرا کرے گی اور ڈیٹا وسائل کی قدر کو موثر انداز میں بروئے کار لانے کی کوششوں میں تیزی لائے گی۔
چین میں بگ ڈیٹا ایکسپو 2026کے دوران جدید کمپیوٹنگ صلاحیتوں اور اے آئی اختراعات کی نمائش کا منصوبہ



